اسلام میں خدمت خلق کا تصور

تحریر : وسیم اکرم اسماعیل تیمی

دور جدید کے اہم ترین مو ضو عات میں سے ایک اہم مو ضو ع خدمت خلق ہے ، ایک شہری کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ پوری انسانیت کی فوز و فلاح ، کامیابی و کامرانی اور پورے معاشرے میں خیر خواہی کے عمل کو انجام دے ، بالخصوص سماج و معاشرہ کے پسماندہ افراد کے لئے تگ و دو اور دوڑ دھوپ کر نا انسانیت کی غم خواری ، دردمندی بھی خدمت خلق ہے ، آپﷺ نے خدمت خلق میں نایاب نمونہ چھوڑا ہے ، بعد از نبوت کی زندگی تو پوری ہی خدمت انسانی ہے ، قبل از نبوت بھی اس ذمہ داری سے بے خبر نہ رہے ، معاشرے کے یتیموں، بے کسوں ، بیواؤں کی امداد، مجبور و مقہور افراد کی داد رسی آپ کا طرہ امتیاز تھا ، یا یوں کہئے کہ پیغمبر انہ طریق کا دوسرا بنیادی ہدف خدمت خلق ہے ، اس پر الطاف حسین حالی نے کہا ہے ؂
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مراد غریبوں کی بر لا نے والا

خدمت خلق کا مفہوم
خدمت اس عمل کا نام ہے جو خادم یعنی خدمت کر نے والے سے سر زد ہو تا ہے ، ’’ خادم ‘‘ بمعنی خدمت گزار نو کر ہے ۔ خادم کا اسم جمع خدم اور خدام ہے ۔ خلق یہ ’’ خ ل ق ‘‘ سے بمعنی وجود میں لا نا ، مخلوق خلقت فطرت ہے ، یہاں مخلوق ہی زیر بحث ہے ، یعنی اﷲ تعالی کی ہر وہ مخلوق جو سینے میں دھڑکتا دل رکھتی ہو اس کی خدمت پیش نظر ہے ۔ کہا جا تا ہے کہ خلق اسلوب ہے ، کہا جا تا ہے کہ خلق الثوب ’’ کپڑا کہنہ ہو گیا ‘‘ خلق اچھے عادت و خصائل کو کہتے ہیں ، قرآن و سنت سے معلوم ہو تا ہے کہ حسن خلق دین کی روح ہے ، اﷲ تعالی نے خدمت کے تصور کو واضح کر تے ہوئے فر ما یا کہ نماز پڑھنے ہی میں صرف نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی غریبوں ، یتیموں، اور مسکینوں کی دیکھ بھال اور ان کی کفالت میں ہے جیسا کہ اﷲ تعالی نے فر مایا ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باﷲ ۔۔۔واتی المال علی حبہ ذوی القربی والتیامی والمساکین وابن السبیل ۔۔۔(بقرہ : ۱۷۷)
جبکہ عام طور پر صرف نماز اور روزہ کو دین سمجھا جاتا ہے ، حالانکہ خدمت خلق بھی دین کا اہم ترین حصہ ہے ، جس سے عموما تغافل بر تا گیا ہے ۔
خدمت خلق کتاب و سنت کی روشنی میں
خدمت خلق کے سلسلے میں اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ خلاق دو عالم نے مخلوق کی خدمت کو خالق کی خدمت قرارد یا ہے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ قیامت کے دن اﷲ تعالی انسان سے کہے گا اے بنی آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تونے مجھے کھا نا نہیں دیا ، بندہ عر ض پردا ز ہو گا کہ اﷲ تو کہاں بھوکا تھا اور میں تجھے کیسے کھانا کھلا تا تو اﷲ کہے گا کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھا نا طلب کیا تھا تو تونے اسے کھا نا نہیں کھلا یا ، پھر فر ما ئے گا اے بنی آدم میں بیمار تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی ، انسان سہم جائے گا ، ششدر و پریشان ہو کر کہے گا تو تو سارے کا خ و کو کا رب ہے تو کیسے بیمار تھا کہ میں تیری عیادت کر تا تو اﷲ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی اگر تو فلاں کی عیادت کی ہو تی تو مجھے اپنے سامنے پا تا ۔
اس حدیث سے یہ بات طشت ازبام ہو جا تی ہے کہ محتاجوں اور حاجت مندوں کی حاجت پو ری کر نا ، فقیروں کی فقیری دور کر نا ، بے روز گاروں کو روزگاری کے مواقع فراہم کر نا ، مظلوموں کی داد رسی کر نا ، معذوروں کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کر نا ، بیواؤں کی خبر گیری کر نا اور ان کے قیام و طعام کا اہتمام کر نا ، نوشت و خواند کے لئے مکاتب و مدارس کا قیام کر نا ، من جملہ قسمیں خدمت خلق میں شامل ہیں ۔ جس طرح اﷲ کی عبادت دین ہے ، اسی طرح بندوں کی خدمت بھی دین ہے ، نبی لو گوں کی خدمت کے لئے نماز بھی موخر کرلیا کر تے تھے ، ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے ( کچھ اد ا کر چکے تھے اور کچھ سنتیں باقی تھیں ) اسی حالت میں ایک بدو آیا اس نے آپ کے دامن کو تھام لیا اور کہا پہلے میرا کام کردیں پھر نماز ادا کریں کہیں آپ بھول نہ جائیں ، آ پ اس بدو کے ساتھ مسجد نبوی سے باہر نکلے اور اس کا کام کر کے نماز مکمل کی (صحیح بخاری کتاب الآذان باب الکلام اذااقمیت الصلاۃ )
اﷲ تعالی نے خدمت خلق کی اہمیت کوبیان کر تے ہوئے فر ما یا ’’ یا یہا الذین آمنوا ارکعوا واسجدو واعبدو ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ‘‘ اے ایمان والو! رکوع کرو ، سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور خیر پر عمل کرو ، اس سے امید ہے کہ تم فلاح پا ؤ گے‘‘( حج : ۷۷)اس آیت میں عبادت الہی کے بعد خیر کا حکم دیا گیا ہے ، امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ فر ما تے ہیں کہ خیر و برکی کی دو شکلیں ہیں ، ایک اﷲ تعالی کا حکم بجا لا نا اور دوسری اس کے بندوں کی خدمت کر نا ، یعنی خدمت خلق مراد ہے (طوبی جو ن ۲۰۰۹) نیز ارشاد الہی ہے ’’ و تعاونوا علی البر والتقوی ‘‘ ( سورہ مائدہ : ۲) اور مزید خدمت خلق کی اہمیت کو اجاگر کر تے ہوئے فر ما یا ’’ والجار ذی القربی والجار ذی الجنب والصاحب بالجنب ‘‘ ( النساء :۳۶) حاجت مندوں کی مد د کر نا اور مشکل حالات سے دو چار انسانوں کو سہارا دینا ایک مفید معاشرتی عمل ہے ، لیکن آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے اسے جو روحانی واخلاقی بنیاد فراہم کی ہے اس سے ا س کی اہمیت دو با لا ہو گئی ہے، فرمایا ’’ خیر الناس من ینفع الناس ‘‘ لو گوں میں بہتر وہ ہے جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ،(حوالہ انسان کامل : ۵۵۷) یہ نفع رسانی بغیر کسی ذاتی غرض و مصلحت کی ہے ، رشتے داروں ،عام ضرورت مندوں ، عام انسانوں ، حتی کہ جانوروں سے حسن سلوک پسندیدہ رویہ ہے ، بد سلوکی و ضرر رسانی نا پسندیدہ طریقہ ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرما یا ’’ ان شر الناس عنداﷲمنزلۃ یوم القیامۃ من ترکہ الناس اتقاء شرہ ‘‘ (صحیح الجامع الصغیر للالبانی: ۷۹۳۱ )
خدمت خلق کے فوائد  
خدمت کا سب سے اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ خادم و مخدوم کے درمیان محبت و الفت کو فروغ حاصل ہو تا ہے اور باہمی قربت بڑھتی ہے اس کے باعث انسان برے اخلاق اوراس کے دامن فریب سے نجات حاصل کر سکتاہے ، کبر و نخوت ، ظلم و دہشت ، جبر و تشدد ، جیسے خطرناک بیماریوں کا علاج خدمت خلق کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ، خدمت خلق کے لئے محبت و شفقت اور ہمدردی واخلاص کے علاوہ ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہو تا ہے ، خدمت خلق کا فائدہ یہ ہے کہ اﷲ تعالی غیب سے ان کی مدد فر ما تا ہے ’’ واﷲفی عون العبد ما کان العبد في عون اخیہ ‘‘ (صحیح ابن ماجہ للالبانی: ۱۸۴)اور اسی طرح آپ نے فر ما یا ’’ من کسی مومنا علی عری کساہ اﷲ من اشرق الجنۃ و من ثقاہ علی الظمأ سقاہ اﷲ من الرخیق المختوم و من اطعمہ من جوع اطعمھم اﷲ من ثمار الجنۃ ( جمع الجوامع ج/۲ص: ۸۳) اگر ہم اس حدیث کو عملی جامہ پہنائیں گے تو ہمارے سماج و معاشرہ کے اندر فاقہ کشی ، بھوکہ اور تشنہ ، ننگا اور بر ہنہ ظلم رسیدہ ، مظلوم ، مجبور و مقہور افراد کے آنکھوں کے پپوٹے ، آنسوؤں کے تار بندھنے سے آزاد ہوجائیں گے اور وہ غربت و افلاس کا بحران بیک وقت معدوم ہو جائے گا ۔
خدمت خلق سے غفلت کا انجام
اسلام نے خدمت خلق کا ایک جامع و مانع اور وسیع تصور پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انسانی ہمدردی و غم خواری کامستحق صرف انسان ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح اور جاندار ہے ۔ اس مسئلے پر اسلام نے جس قدر زور دیا ہے اور اس کی فضیلت بیان کیا ہے بعینہ اس سے بے اعتنائی اور تغافل برتنے والوں کو وعید اور دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انسان خدمت خلق کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دے تو ایسے فر د کے لئے دخول جنت کا مژدہ سنا یا گیا ہے اور اس سے فرو گذاشت کرنے والے کو دخول جہنم کا باعث قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ہے ’’ لا یدخل الجنۃ من لا یامن جارہ بوائفۃ (رواہ مسلم:۵۹۶۳ ) یعنی وہ بندہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا ہے جس کا پڑوسی اس کی ایذاؤں سے مامون نہ ہو ، نیز آپ کا ارشاد ہے ’’ لیس المومن الذي یشبع وجارہ جائع ( السلسۃ الصحیحۃمختصرۃ: ۱۵۹ )وہ مومن نہیں ہے جو خود آسودہ ہو اور اس کا پڑوسی بھوکے رہے ۔ اس حدیث سے یہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ انسان کو ہمہ وقت خدمت خلق کا فریضہ انجام دینا چاہئے اور عیش و عشرت میں ہو کر بیگانے کی خدمت سے تغافل نہیں برتنا چاہئے اگرکوئی اس سے لا پر واہی کر تا ہے تو اس کا انجام بہت ہی برا ہو تا دنیا و آخرت میں ۔
صد حیف خدمت خلق کی اسلام میں جتنی اہمیت و افادیت بیان کی گئی ہیں اتنا ہی ہمارا سماج و معاشرہ اس سے بے اعتنا ہیں اور خدمت خلق جیسے بیش بہا جوہر سے ہم عنقا ہو چکے ہیں ، خود غرضی ، مادیت پرستی ، حرص و طمع ، کبر و نخوت آج ہمارے رگ و ریشے میں سما چکی ہے، ایمان ، تزکیہ نفس ، تقوی ، عفت ، پاکبازی ، دیانت داری ، شرم و حیا ، رحم ،عدل ، عہد کی پابندی ، احسان ، عفو و د ر گذر ، خود داری ، حق گوئی ، استغنا ، محبت و شفقت جملہ اوصاف ہم سے مفقود ہو چکے ہیں ، جس کے نتیجے میں پرائے کے درد و الم کا احساس نہیں ہو تا ، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں ، بیواؤں مفلسوں اور قلاش قسم کے افراد کے اوپر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور ہر فرد و بشر ان افراد کو صفحہ ہستی سے معدوم کر نے میں لگے ہوئے ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہو کر ایک دوسری کی غمخواری میں شریک ہوں اور باہمی تعاون سے رفاہی ادارے قائم کریں تبھی خدمت خلق جیسی گرانقدر کام فروغ پا سکے گا ، جس سے ہر انسان کے لبوں پر مسرت و شادمانی کے جام چھلکنے لگیں گے ۔ آخر میں اﷲ تعالی سے دعاء ہے کہ اﷲ ہمیں خدمت خلق کی توفیق دے ۔ آمین ۔*****

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے