انشورنس کی شرعی حیثیت

محمد صادق تیمی

اسلامی سماج کی موجودہ صورتِ حال بڑی کربناک ہے ، حلال وحرام کا معیار تقریباً ختم ہوچکا ہے ۔ فحش کاری ، حیا سوز تصرفات ہمارے معاشرے کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ ہمارا معاشرہ رشوت خوری ، لوٹ مار، ڈاکہ زنی کا آماجگاہ بن چکا ہے ۔ ان برائیوں میں سے ایک برائی انشورنس کی بھی ہے ،ذیل کی سطور میں انشورنس سے متعلق تمام احکامات کو حوالہ قرطاس کیا جارہا ہے آنے والی سطروں میں انشونس کو عیاں کرنے کی سعی پیہم کی جارہی ہے ۔
انشورنس کا معنی ومفہوم : ’’Insurance ‘‘عربی لفظ ’’التأمین‘‘ او راردو لفظ ’’ بیمہ ‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے ، جس کا معنی لغت میں یقین دہانی او رتحفظ وضمانت فراہم کرنے کے آتے ہیں ۔جدید فقہی مسائل :۲؍۲۴۳)
انشورنس کی اصطلاحی تعریف: انشورنس بیمہ فریقین کے درمیان ایک معاھد ے کانام ہے جس میں ایک فریق (بیمہ کمپنی ) دوسرے فریق ( بیمہ کرانے والے ) کے نامعلوم نقصان کے واقع ہونے ایک مقررہ رقم اداکرنے کا ذمہ لیتا ہے اور اس کے بدلے دوسرا فریق ایک مقرر ہ رقم اقساط ( پریمےئم ) کی شکل میں اس وقت تک ادا کرنے کا عہد کرتا ہے جب تک کہ وہ نامعلوم نقصان واقع نہ ہو جاے ۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ ،۱۴:۴۵۶، زیراہتمام پنجاب ، لاہور) ۔
انشورنس کی ابتدا :  تاریخی طو رپر یہ بات معلوم ہے کہ بحری بیمہ کا رواج بیمہ کی دیگر اقسام وانواع کے مقابلے میں سب سے پہلے شمالی اٹلی میں پندہویں صدی عیسوی میں ہوا جو کہ اٹلی کے تاجروں میں سے کسی ایک تاجر کا جہاز سمندر میں غرق ہوگیا ۔ جس کی وجہ سے وہ انتہائی تنگ دست ہوگیا ۔ دوسرے تاجروں نے اس کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے لیے کچھ رقم اکٹھا کرکے اسے اس قابل بنایاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے ۔ چوں کہ ایسے حادثات کا آئندہ بھی امکان تھا ،سوتاجرون نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ تمام تاجر ہرماہ یاہرسال جیسے بھی سہولت ہو ایک معین رقم ادا کرے تاکہ اس فنڈ سے اس قسم کے حادثات وخطرات کے نقصان کا کسی حدتک تدارک کیاجاسکے ۔ اس طرح انشورنس کی ابتدا ہوئی ،(المعاملات المالےۃ المعاصر ۃ فی الفقہ الإسلامی : ۹۷) ۔
جہاں تک بری بیمہ کے آغاز کی بات تو اس کا واقعہ یہ ہے کہ ۱۶۶۶ء میں لندن میں مسلسل چاردنوں تک زبر دست آتش زنی ہوئی جس نے تیرہ ہزار مکانات او رایک سو کلیسا کو خاکستر کررکھ دیا ، اس کے بعدانشورنس برائے حادثات تلافی، حادثاث کے انشورنس نے جنم لیا (جدید فقہی مسائل :۴؍۱۰۰)
انشورنس کی مختلف صورتیں: ۔ بنیادی طورپر انشورنس کی تین صورتیں ہیں (۱) باہمی تعاون پر مبنی انشورنس ۔(۲) کمرشیل او رتجارتی انشورنس ۔ (۳) سرکاری انشورنس
(۱) باہمی تعاون پر مبنی انشورنس : باہمی تعاون پر مبنی انشورنس میں بنیادی طو ر پر خطرات پیش آنے کی صورت میں تلافی پیش نظر ہوتی ہے اسی لئے باہمی تعاون کی سوسائٹیاں (Cooperatives) اپنے ارکان کو اتنا ہی معاوضہ اداکرنے کو کہتی ہیں جس سے نقصان کا ازالہ ہوجاے ۔ یہ صورت تمام ہی اہل علم کے نزدیک :(تعاونوا علی البروالتقویٰ)(سورۃ المائدۃ : ۲) کے تحت جائز ہے اس میں نفع کمانا مقصود نہیں ہوتا ، بلکہ افراد واشخاص کا ایک گروہ طے شدہ خطرہ پیش آنے کی صورت میں مصیبت زدہ شخص کی مدد کرتا ہے ، اس لیے اس کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔( جدید فقہی مسائل : ۴؍۱۰۲) ۔
(۲) کمرشیل او رتجارتی انشورنس : اس کا طریق کاریہ ہوتا ہے کہ بیمہ کمپنی قائم کی جاتی ہے ، اس کا مقصد بیمہ کو بطو رتجارت کے اختیار کرنا ہوتا ہے اور اس کا اصل مقصد بیمہ کے ذریعے سے نفع کمانا ہوتا ہے ، یہ کمپنی مختلف قسم کے بیمے کی اسکمیں جاری کرتی ہے جو بیمہ کرانا چاہتا ہے اس کے ساتھ بیمہ کمپنی کا معاہدہ ہوتا ہے کہ اتنی رقم کی اتنی قسطیں آپ ادا کریں گے نقصان کی صورت میں کمپنی آپ کے نقصان کی تلافی کرے گی ، کمپنی قسطوں کا تعین کرنے کے لیے حساب کرلیتی ہے کہ جس خطرہ کے خلاف بیمہ ہوا ہے وہ کتنی بار متوقع ہے تاکہ ان کے معاوضے ادا کرکے کمپنی کا نفع بچ سکے ۔
بنیادی طو رپرکمرشیل اور تجارتی انشورنس کی تین صورتیں ہیں :
(۱) لائف انشورنس: اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بیمہ کرانے والا بیمہ دفتر پہنچ کر اپنا بیمہ کراتا اور کمپنی کے ساتھ ایک مقررہ رقم کے عوض یہ معاہدہ کرتا ہے کہ مقررہ وقت میں اس کا انتقال ہوگیا یامتعینہ مدت گزرنے تک وہ زندہ رہاتو بہرصورت کمپنی حسب معاہدہ ایک مخصوص رقم اداکرنے کی ذمہ دار ہوگی (۲) مال واسباب کا انشورنس: مال کے انشورنس میں مکان ، دکان ، مویشی وغیرہ کا بیمہ کرایا جاتا ہے کہ اگر اس کو نقصان پہنچے یا ضائع ہوجائے کمپنی مقررہ رقم ادا کرے گی اگر ایساکوئی حادثہ پیش آیا توپالیسی ہو لڈرکو کچھ معاوضہ نہ ملے گا ،اس انشورنس میں پالیسی ہولڈرکو مقررہ قسط (PRIME) اداکرنی ہوتی ہے۔
(۳) ذمہ داریوں کا انشورنس : اس میں بیمہ کرانے والا کمپنی کو قسط وار متعینہ وقت تک رقم ادا کرتا ہے جیسے سامان گاڑی وغیرہ کے لیے گاڑی کا مالک اس غرض سے انشونس کراتا ہے کہ اگر اس کی گاڑی سے تصادم کے نتیجے میں کسی کی ہلاکت واقع ہوجاے تومہلوک کے سلسلے میں جو کچھ رقم اداکرنی پڑے وہ کمپنی ادا کرے گی ۔ اس صورت میں بھی حادثہ پیش نہ آئے تواس کو کوئی رقم واپس نہیں ملے گی ۔
کمر شیل انشورنس او ران کی بنیادی تمام صورتوں کی شکلوں اور طریقوں کوبنظرِ غائر دیکھنے کے بعد یہ حقیقت وماہیت روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ہوجاتی ہے کہ یہ حرام ہے ۔ کیوں کہ اس کی بنیاد رشوت ، سود، قماربازی، دھوکہ دھڑی ، بدعقیدگی ، اسراف او راس قسم کے متعدد سئیات پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے یہ تمام بنیادی ارکان اسلام کے اندر بالکل حرام ہے ۔ ذیل کی تحریر میں اس کی حرمت اور اس کے وجوہات کی وضاحت پیش ہے ۔
(۱) رشوت خوری : لوگوں کا یہ معروف ومشہور وطیرہ رہاہے کہ جب کسی بھی عمل کے انجام تک پہونچنے میں کسی طرح کی قانونی رکاوٹ آتی ہے تو رشوت کے ذریعے اس کو ٹالاجاتا ہے بیعینہ بیمہ دار شخص جب ڈاکٹریٹ میں ناکام ہوجاتا ہے او رکمپنی اس کے بیمہ کرانے سے انکارکرتی ہے تو بیمہ کرانے والا اس کو رشوت دے کر اپنا الو سیدھا کرتاہے او رایسا کرنا مسلمان کے لیے یکسر حرام ہے جیسا کہ شارع کا قول ہے :’’ لعن رسول اللہ ﷺ الراشی والمرتشی ‘‘ ( سنن الترمذی : ۳؍ ۱۳۳۷، وصححہ الالبانی ،صحیح الترغیب والترہیب : ۳؍ ۱۷۹) ۔
(۲) سود خوری : اس میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ انشورنس ایک سودی کاروبار ہے ، کیو ں کہ اس کا روبار کے انجام سے یہ بات عیاں وبیاں ہے کہ جمع شدہ رقم سے کبھی زائد رقم بھی آتی ہے جو کہ سود ہے جو اسلام کا شعار نہیں ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : (یایھاالذین آمنوا لا تاکلوا الربوا أضعافا مضاعفۃ واتقوا اللہ لعلکم تفلحون )(سورۃ آل عمران : ۱۳۰)
(۳) قماربازی : بلاشبہ انشورنس جو اکا دوسرا روپ ہے کیوں کہ بیمہ کمپنی بیمہ دار شخص کی زندگی کو ٹٹولتی ہے او راس کے موت وحیات کا فیصلہ کرتی ہے جس میں ممکن اور ناممکن دونوں پہلو کا احتمال اس طرح ہوتا ہے جس طرح جوا میں ہوتا ہے اس لیے یہ جوا بازی ہے ، جو ا کسی بھی مسلم شخص کے لیے لائق وزیبا نہیں اللہ عزوجل کا فرمان ہے 🙁 یایھاالذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان فا جتنبوہ لعلکم تفلحون )(سورۃ المائدۃ : ۹۰) ۔
(۴) سٹہ بازی او ردھوکہ دھڑی : انشورنس کا مروجہ نظام سٹہ بارزی او ردھوکہ دھڑی پر مشتمل ہے اور یہ دونوں کی طرف سے ممکن ہے بیمہ دار انشورنس کراتے وقت اپنی جائداد کو زیادہ ظاہر کرتا ہے تاکہ منافع میں افراط پیدا ہو لیکن بیمہ کے ہوجانے پراس کو ہٹا دیتاہے ،اس طرح بیمہ کمپنی بھولے بھالے بیمہ دار سے وافر مقدار میں رقم لے لیتی ہے او رچند منافع کے ساتھ واپس کردیتی او رخودفائدہ کا زیادہ حصہ رکھ لیتی ہے جو کہ دھوکہ ہے اور ایسا کرنا ایک مومن کا مل کی آن ،بان، شان نہیں ہے جیساکہ ہمارے حبیب ﷺ کا قول ہے :’’ من غشنا فلیس منا ‘‘ ( رواہ مسلم : ۱۰۱ ) اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم ہی کی روایت ہے :’’نھی رسول اللہ ﷺ عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر ‘‘ نبی کریم ﷺ نے کنکڑی پھینک کر اور دھوکہ دے کر خرید وفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ بہر کیف ذمہ داریوں کا بیمہ توجمہور علماکی رائے اس کے حرام ہونے کی ہی ہے اگرچہ بعض علما نے اس کے جواز کا اس شرط کے ساتھ فیصلہ کیا ہے کہ بیمہ کمپنی کا کاروبار سود پر مبنی نہ ہو، او رمولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے جدید فقہی مسائل ج۴ص۱۱۹۔ ۱۲۱میں ’’معاقل‘‘ کے نقطہ نظر سے ذمہ داریوں کا بیمہ کو جائز قرار دیا ہے ’’ معاقل‘‘ ’’عقل ‘‘ سے ہے فقہ کی اصطلاح میں دیت کو کہتے ہیں ۔
(۳) سرکاری انشورنس : سرکاری یاکمپنی وغیرہ کی طرف سے پراویڈ نٹ فنڈ پینشن ، وظیفہ، پوسٹل بیمہ ، جبری انشورنس ، انشورنس کی ایجنسی ، انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے انشورنس ، انشورنس کے سودسے ٹیکس اداکرنا عام طور پر علمانے جائز قرار دیا ہے ایک توان تمام صورتوں میں حکومت جبراتنخواہ کا یک حصہ وضع کرلیتی ہے دوسرے ان تمام صورتوں میں ملنے والی اضافی رقم حکومت کی طرف سے تبرع ہے ، حکومت نے وضع شدہ رقم کے بعد جو تنخواہ دی ہے وہی اصل اجرت ہے ، سود اور قمارمیں ضروری ہے کہ دونوں طرف سے مال ہوحالا ں کہ حکومت کی طر ف سے ان تمام مراعات میں ایک طرف سے مال ہے اور دوسری طرف ’’ عمل ‘‘ ہے اس لیے انشورنس کی یہ صورتیں جائز ہیں ،( جدید فقہی مسائل : ۴؍ ۱۰۳) رہی بات انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے انشورنس ، انشورنس کی ایجنسی تو اس میں اتنی ہی رقم جائز ہوگی جتنی اس نے جمع کی تھی ، باقی رقم بلانیت صدقہ، غرباء او ررفاہی کاموں پر خرچ کردینی چاہئے ۔ ( مزید وضاحت کے لیے دیکھیں ،جدید فقہی مسائل : ۱؍ ۴۳۶۔ ۴۳۸) تعاون پر مبنی انشورنس اور سرکاری انشورنس کے متعلق علما کی ایک کانفرنس قاہرہ ، محرم ، صفر ۱۳۸۵ھ میں منعقد ہوئی تھی۔ جس میں مذکورہ دونوں اقسام کو جائز قرار دیا تھا ( الاسلام والتامین : ۶۵۔۶۶) ۔
انشورنس کے نقصانات :جب ہم اخبار ات وجرائد او رمجلات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے ایسے ایسے واقعات نمودار ہوتے ہیں کہ بیٹے نے باپ کا قتل محض اس لیے کردیا کہ وہ باپ بیمہ دار تھا تاکہ بیٹا بیمہ کی رقم حاصل کرسکے ۔ او رکبھی ایسے واقعات بھی کانو ں تک پہنچتی ہے کہ بیمہ دار نے دھوکہ دے کر اپنی دوکان یا کسی چیز کی مالیت زیادہ ظاہر کردی او راس کا بیمہ کردیا اور کچھ عرصہ کے بعد سود کی رقم اصول کرنے کے لیے اسی شے کو مخفی طورپر تلف کردیا کہ جلد از جلد رقم حاصل ہو جو کہ دھوکہ ہے اور جہنم میں داخل ہونے کے لیے کافی ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے دھوکہ دے کر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے اور شیخ الحدیث علامہ عبیداللہ مبارک پوری رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ ’’جو مال ودولت اور سرمایہ بلا کدوکاوش دامن میں آتا ہے ، انسان اسے بے دردی کے ساتھ خرچ کرتے ہیں نوجوان اولاد کو اگر باپ کی وفات کے بعد بیمہ کی رقم بلا کوشش ومشقت ملے گی توظن غالب یہی ہے کہ وہ اسے بے دریغ صرف کریں گے ۔ او راسراف ونبذیر کی عادت فی نفسہ افلاس وتباہی کا پیش خیمہ ہے ۔(بیمہ کی شرعی حیثیت اسلام کی نظر میں)۔
بحث کا لب لباب یہ ہوا کہ انشورنس کے تمام معاملات سودی کاروبار دھوکہ دھڑی اور غلط چیزوں ہیں پر اس لیے تمام ناجائز اورحرام ہیں لیکن ان میں سے چند اقسام ایسے ہیں جوبحالت مجبوری جائز ہیں ورنہ اس طرح کی چیزوں سے انسان کو حتی الامکان اجتناب کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے