داعش کا تعارف اور حقیقت - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
حالات حاضرہ

داعش کا تعارف اور حقیقت

Read Time2Seconds
محمد صادق جمیل تیمی

داعش نام نہاد مسلم تنظیموں میں سے ایک جدیدتنظیم ہے جسے اگر عرب ممالک بالخصوص عراق وشام میں پھیلی دہشت گردی ،بد امنی ظلم واستبداد او رفتنہ وفساد پھیلانے والو ں کا طاغوتی نظام کے کارندے خوارج کے بھائی او رظالم وخوانخوار کہا جاے تو شاید مبالغہ نہ ہو، کیوں کہ ان کے وجو د سے امت محمد یہ کا فائدہ تو درکنار تمام مسلمانو ں کو بالعموم او رسلفی العقیدہ کو بالخصوص دہشت گرد ،سفاک ، او ربے رحم ہونے کا تمغہ ملا جہاد جیسے مقدس لفظ کی پامالی ہوئی او رحقوق انسانی کا قلع قمع ہوا۔
داعش کا مختصر تعارف : داعش ایک مخفف لفظ ہے جس سے مراد دولت اسلامیہ عراق وشام کے ہیں ۔یعنی اس کا فل فارم یہ ہواکہ( د)سے الدولۃ(الف) سے الاسلامیہ ( ع) العراق او ر (ش) سے دمشق سے شام مراد لیا گیا ہے مکمل عبارت کچھ اس طرح ہے ’’ الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام ،، جسے انگریزی میں ISIS کہا جاتا ہے او ر اس کا فل فا رام یہ ہے Islamic State of Iraq and Syria اب چو ں کہ وہ اپنے دائرہ کار کو عراق وشام تک ہی منحصر رکھنا نہیں چاہتے بلکہ مصرنائجیریا ، صومالیہ او ریمن وغیرہ کو بھی اپنے زیر سلطنت لانا چاہتے ہیں اس لیے اپنے آپ کو اسلامک اسٹیٹ کہہ رہے ہیں ۔ ( مجلہ الرحیق ) ۔
داعش کی ابتدا وارتقا: داعش کی جڑ دراصل اردن کے ابو مصعب الزرقاوی کے قائم کردہ ( الجہاد) نامی تنظیم میں ملتی ہے ۔ جس کی داغ بیل انہو ں نے ۲۰۰۴ء میں ڈالی تھی ،عراق پر امریکہ او راس اتحاد یوں کے حملہ او رایران کے اس حملے کی تائید وشراکت اور شیعوں کی بڑھتی طاقت کو روکنے کے لیے ۲۰۰۶ء میں الزرقاوی نے القاعدہ کے اسامہ بن لادن کے ہاتھ پر بیعت کرکے عراق ’’ تنظیم قاعدہ الجھاد فی بلاد الرافدین ‘‘ نامی تنظیم قائم کی اور اسی سال الزرقاوی امریکی حملے میں ماراگیا اس کے بعد ابو حمزہ مھاجر اس تنظیم کا سربراہ مقررہوا او رساتھ ابو عمربغدادی کی سربراہی میں الدولۃ الاسلامیہ فی العراق کی تشکیل بھی عمل میں لائی گئی ۔ ۱۹؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو ابو عمر البغدادی او رابوحمزہ المہاجر امریکی واتحادی کے ہاتھوں میں مارا گیا ۔ ۲۸؍ دن کے بعد ۱۶؍ مئی کوایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ابوبکر البغدادی ان کا جانشین او ر خلیفہ متعین کیاگیا ۔ ۲۸؍ اپریل ۲۰۱۳ء کو داعش کی تشکیل ہوئی او ر۲۹؍ جو ن ۲۰۱۴ء داعش نے اپنے نام الدولۃ الاسلامیہ رکھ کر خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا او رعراق میں دل خراش اورگھناونے مجرمانہ امو ر انجام دےئے ۔ جسے دیکھ کر انسانیت دنگ رہ گئی ۔
اسلامی ممالک میں داعش کا فکری یلغار : داعش ظاہری طو رپر اسلامی احکام کے اجر پر تاکید کرتا نظر آرہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس خوش نما چہرے کے پیچھے ایک مذموم چہرا چھپا ہواہے جس کے افکار وخیالات او ر نظریات مکمل طور سے اسلام کے مخالف ہیں۔ نعرہ تکبیر ی کی صدا ظاہری صوم وصلاۃ اور شریعت کے نفاذ کا نعرہ صرف ایک ڈھونگ ہے جس کا مطلب دنیاو الوں کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اسلامی گروہ ہے ان کامقصد ایک طرف اسلام کے نورانی چہرے کوداغدار بناناہے تو دوسری جانب عالم اسلام او ربالخصوص عرب ممالک میں مذہبی فرقہ وارنہ جنگ کو ہوا دے کر ان کی اجتماعیت کو بکھیرنا ان کی طاقت کو ختم کرنا ان کے قیمتی متاع او ردیگر معدنیت کو سلب کر کے ان کو قلاش او ربے صاحب سامان بناناہے۔ ان کی فکری یلغار کے شکار آہستہ آہستہ نوجوان نسل ہورہی ہیاس کی وجہ یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر موجود ان کے یا اسلام کے بارے میں عام مواد کو لیکر بغیر سوچے ان کے ساتھ ہولیتے ہیں۔ سعودی کے عراق وشام او راس کے مضافات ممالک ان کی نظریات کو جوجھ رہے ہیں او ر ان کے افکار کے حامل وحمایتی آئے دن اخبار کی زینت بنی جارہے ہیں، انہیں نظریات کی وجہ سے آج مسلمان سوال کے دائرے میںآگئے ہیں اور اسلام پر حرف اٹھایا جانے لگا ہے ۔
داعش کے اغراض و مقاصد : داعش کے اغراض و مقاصد میں سے یہ ہے کہ ایک ایسی خلافت کی تشکیل ہے جس کے ماتحت پوری ملت اسلامیہ ہو ۔اس کی تکمیل کے لیے پہلے تو اس نے اسلام او رمسلمانوں کے محافظ ہونے کا دعوی کیا جس کے دامن فریب میں مبتلا ہو کر بہت سے جزباتی لوگ ان کے پیچھے چلنے کے لیے بیقرار ہو گئے ۔ سعودی عرب کے اہم خطوں میں غاصبانہ قبضہ بھی ان کے اہم مقاصد میں سے ہیں۔اسی طرح اسلام ومسلم دشمنی ان کے اغراض میں شامل ہے۔ عالمی سطح پر اسلام ومسلمانوں کا چہرہ دیکھانے کے لیے کوشاں ہے اسلامی جہاد کے نام سے دنیا کے مسلم جوانوں کو اپنے شکنجے میں کر کے یرغمال بنانا ان کا اہم ہدف ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی جہاد کے نام سے قساوت قلبی درندگی زندہ قتل کردینااسلامی نقطہ نظر سے درست ہے ؟ اس کا جواب ہوگا بالکل نہیں !لیکن اسلام کا نام لے کر یہ لوگ اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں ۔
داعش کو فروغ دینے میں امریکہ کی پشت پناہی : داعش کو فروغ دینے میں امریکہ جان کی بازی لگارہی ہے او ران کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے او ردوسرے ممالک روس ، اسرائیل او رمغربی ممالک کی ایک بہت بڑی تعداد ان رافیضوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے ان عالمی قوتوں کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ ان عرب خطوں پر یا ان کے اہم خیال عناصر کی اجارہ داری قائم ہوجائے تاکہ امریکہ وبرطانیہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کو ا ہل اسلام سے تحفظ حاصل ہو ۔ داعش کو مشرقی وسطی کے عرب ممالک کے خلاف باقاعدہ استعمال کیا جارہا ہے جس کو عالمی طاقتوں کی حمایت وپشت پناہی حاصل ہے یعنی امریکہ او را س کے حوارین کو افغانستان وعراق کو تاراج کرنے سے جو کامیابی انہیں مشرق وسطی کے عرب مسلمانوں کے خلفشار ، باہمی خونریزی او رایک دوسرے کی گردن زنی سے حاصل ہو رہی ہے اسے بروقت داعش کا حملہ انسانیت سوز کارکر دگیاں ان کی اس کا میابی کو عروج بخشنے او رپروان چڑھانے میں کلیدی رول ادا کررہی ہے او رخاص طو رپر داعش کے مظالم سے روافض او راہل تشیع مستفید ہورہے ہیں کیوں کہ امریکہ کا منشا یہ ہے کہ مسلمانوں کو باہم لڑاکرلاچار ومجبور کردیا جائے ۔
داعش سے عالم اسلام اور مسلمانوں کو نقصانات: داعش کی جانب سے جو مسلمانو ں کو نقصان پہونچاوہ اسلامی ملک عراق حکومت سے تقریباً چالیس فیصد علاقے چھین لیے اور شام کے کئی علاقے اپنے قبضے میں کرلیا او رزیادہ ترایسے علاقے میں قبضہ کیا جہاں تیل کے ذخائر وافر مقدار میں مو جو دتھے ۔
احترام انسانیت او رحرمت نفس ،اسلامی تعلیمات کے علمبردار ان وحشی درندوں کے وحشیانہ سلوک، راہ زنی ، لوٹ مار او رقتل وغارت کے باب میں یکتا ے منفرد او ربے گناہوں کے قتل وفساد فی الارض کے بارے میں موازنہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان جانور صفات انسان او رخارجیوں نے اسلام کو کتنے نقصانات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعش ایک عظیم فتنہ کی صورت میں نمودار ہونے والی بے رحم او رخارجی تنظیم ہے ان کا تعلق سلفیت سے ذرہ برابر بھی نہیں ہے ۔ ان درندہ صفت لوگوں نے اپنے سفاکانہ طرزعمل او ر وحشیانہ طرز زندگی سے اسلام کا پرامن او رحقیقی چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے اور دین محمدی کے بڑھتے اثرات او رچڑھتے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی ہے او راسلام کے نام پر انسانیت کو شر مندہ کرنے والی گھناونی حرکتوں سے شیطان ملعون کو خوشی کا سامان فراہم کیا ہے ۔

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

مدارس کے نصاب میں تبدیلی : وقت کی اہم ضرورت

admin

معلم کے اوصاف

admin

شہنشاہ قہقہہ : قادر خان

admin

Leave a Comment