شرعی اختلافی امور میں عصر حاضر کے علما کا طرز عمل - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
حالات حاضرہ

شرعی اختلافی امور میں عصر حاضر کے علما کا طرز عمل

Read Time0Seconds

محمد طارق عبد الرحمن تیمی

بلاشبہ امور ومعاملات میں رائے اور نقطہء نظر کا اختلاف ایک فطری عمل ہے جس کا انفرادی خصوصیتو ں سے بڑی حد تک تعلق ہے اور کسی ایسی اجتماعی زندگی کی تشکیل ناممکن ہے جو ایک جیسی صلاحیت ولیاقت اور یکساں انداز رکھنے والے افراد پر مشتمل ہو کیوں کہ انسانی ذہن اور ایک انسان کے فن اور تخصصات کی الگ الگ مہارتیں ہواکرتی ہیں اورصلاحیتوں کا فرق اور تفاوت کا ہونا ضروری بھی ہے اور حکمت ربانی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تخلیقی یا اکتسابی صلاحیت اور مہارت رکھنے کے باوجود انسان اور مسائل زندگی میں مناسب حد تک یکسانیت اور ہم آہنگی ہو اس لیے لوگ باہم مختلف نظر آتے ہیں اور ہر انسان اپنی حاصل شدہ تخلیقی صلاحیتوں کی راہ پر گامزن ہے ، خود مسلمانوں کے اندر مختلف درجات ہیں کوی نیکیوں اور بھلائیوں کے طلب میں سرگرداں ہے توکوئی اعتدال کی راہ پر چل رہا ہے اور کوئی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کررہاہے ۔
عصر حاضر میں علماے کرام کے مابین شرعی مسائل میں نقطہء نظر کا اختلاف شادابی فکر ورائے اور متعدد رجحانات سے شناسائی ، امورومسائل کے سارے گوشوں اور پہلووں پر دقت نظر اور تبادلہ خیال میں سنجیدگی ومتانت کا صحت مند کرداراپنانے کے بجاے داخلی وباہمی انتشاروخلفشاراور جنگ وجدال کا ذریعہ بن گیا ،اختلافات اس حد تک بڑھے کہ ایک دوسرے کو جہنم رسید کرنے کا ٹھیکہ لے لیا اور ’’میں مسلماں توکفر ،میں مومن تو مشرک،، کا نعرہ لگایا جانے لگا ۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاملات کے اندر انسان معتدل اور جامع نظر نہیں رکھ پاتا ہے اور نہ ہی اس کے سارے پہلووں تک اس کی نگاہ پہنچ پاتی ہے ایسی صورت میں وہ کسی جزوی مسائل کے پیچھے پڑکر اسے ہی بڑی چیز سمجھ بیٹھتاہے اور انہماک اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر دوسرے شخص کو سننا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی مخالف شخص کو برداشت کرپاتا ہے اور کبھی کبھی وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنی افسوس ناک قیاس آرائیوں سے اصول وعقائد میں آپسی اختلاف رائے کی بنیاد پر منہج سلف صالحین اور محدثین وفقہاء کرام کے طریقے کو نظرانداز کرکے گمراہ فرقے اور معاندین شریعت کو زیادہ اپنا قریبی سمجھنے لگتا ہے ۔
اختلاف بڑھتا ہے تو اس کی خلیجیں وسیع سے وسیع تر ہوجاتی ہیں اور آدمی کے حواس پر اس کے اثرات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ متفقہ اصول اور متحدہ نقطہء نظر کو بھول بیٹھتا ہے ایسے شخص کی نگاہیں بس وہیں ٹھہر جاتی ہیں جہاں اختلاف نظریات وخیالات اس کی نگاہ میں اسلامی اخلاق کی ابتدائی چیزیں بھی نہیں آپاتیں جس کی وجہ سے اس کا معیار فکر بدل جاتا ہے اور مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ بیمار ذہن کوعموما مخالفانہ ماحول اچھا لگتا ہے اور وہ ایسی جگہیں پسند کرتا ہے جہاں اختلاف وانتشار کی ہوائیں چل رہی ہوں نتیجے کے طورپر تکفیرمسلمین کے عمیق غار میں پڑجاتا ہے او ر اپنے مخالفین کوبلا تامل مشرکین کی صفوں میں شمار کرنے لگتا ہے ،اجتہاد اور فقہی دبستان جو خالص اہل علم ونظر کا میدان ہے اس پر مقلدین اور جہلاء قبضہ کرکے فکری گروہ بندی ،جماعتی وادارتی تعصب اور تفرقہ بازی وتخریب کاری کی روشنی میں آیات واحادیث کی بے جا تاویلات کرنے لگتے ہیں ان کی اس غلط نظریات کے خلاف جو آیات واحادیث نظر آے اس میں نسخ وتاویل کی باتیں شروع کر دیتے ہیں اور ذہنی تعصب اتنا سخت ہوجاتا ہے کہ اس پر دورجاہلیت کا یہ مقولہ صادق آتا ہے کذاب ربیعۃ افضل من صادق مضریعنی قبیلہ ربیعہ کا جھوٹا بھی قبیلہ مضر کی سچائی سے بہتر ہے ۔
ہمارے اسلاف کرام جوسراپا علمی سمندر تھے پھر بھی ان کے درمیان اختلاف ہوالیکن شرعی مسائل میں ان کا یہ اختلاف رائے افتراق وانتشار ،توکافر میں مسلماں تو مشرک میں عابد میں تبدیل نہیں ہوا اور ان کے دلوں کے اتحاد واتفاق میں کوئی چیز رخنہ انداز نہیں ہوسکی ، بعض خطائیں ان سے بھی ہوئی ہیں مگر نفسانی امراض سے وہ پاک تھے وہ شخص جس کے لیے جنت کی بشارت خودنبی کریم نے دی تواس کی حقیقت حال اور اعمال کااندازہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے لگایا تومعلوم ہواکہ یہ بشارت ایسے شخص کے لیے ہے کہ جب وہ سوے توکسی مسلمان کے خلاف اس کے دل میں کوئی بغض وکینہ نہ ہو۔لیکن آج ہماری حالت یہ ہوچکی ہے کہ ہمہ وقت فروعی مسائل میں نقطہء نظر کے اختلاف کی بنیاد پر لڑنے بھڑنے اور مارکاٹ اور مناظرہ ومجادلہ پر اترآتے ہیں خواہ مسجد ہویاقبرستان کوئی جگہ اس فتنہ سے خالی نہیں ہے۔نقطہ ء نظر میں اختلاف کی شدت پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض تنگ نظر اور تقلیدی ذہنیت کاحامل قرآن وسنت کو پس پشت ڈال کر ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے مذہب کو شوق سے پڑھتے ہیں اور یہی سوچ بالآخرانتہا پسندانہ نظریات کو جنم دیتی ہے جو ایک اچھے پرامن اور مثالی معاشرے کی علامت نہیں ہے اس لیے اگر اس غلط تصور کی تردید نہ کی جاے تو محافل ومساجدقتل گاہ اور میدان جنگ کا منظر پیش کرے گی ۔ اسلامی تاریخ صحابہ کرام اور تابعین عظام کے سلیقہء اختلاف کے سنہرے نقوش سے بھرے پڑے ہیں لیکن ان کا اختلاف نفسانیت پر بالکل نہیں تھا وہ لوگ رضاے الہی اور حق کی تلاش وجستجو کے لیے کرتے تھے ، بعض صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے بعد کچھ لوگ نماز میں ابتداے قراء ت میں بسم اللہ پڑھتے تھے اور کچھ لوگ نہیں پڑھتے تھے اور کچھ لوگ باآواز پڑھتے تھے اور کچھ نیچی آواز میں ، کچھ لوگ نماز فجر میں قنوت پڑھتے تھے اور کچھ لوگ نہیں پڑھتے تھے ، کچھ لوگ نکسیر ،قے اور پچھنا لگوانے سے وضوء ٹوٹ جانے کے قائل تھے اور کچھ لوگ اس کے قائل نہیں تھے لیکن ان سب باتوں نے کسی کو دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے نہیں روکا اور نہ ہی بزم کافری کا اسٹیج سجایا بلکہ جب بھی کسی سے کوئی بھول چوک ہوئی تو اس کے لئے دعاے مغفرت کی اور ان کے تئیں حسن ظن رکھا ۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور امام شافعی اور دیگر ائمہ مدینہ کے مالکی ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ،حالانکہ وہ سرا یا جہرا بسم اللہ پڑھنے کا التزام نہیں کرتے تھے ، ایک مرتبہ ہارون رشید نے پچھنا لگواکر نماز پڑھائی اور امام ابو یوسف نے ان کے پیچھے نماز پڑھ لی اور نماز نہیں دہرائی حالانکہ امام ابویوسف کے نزدیک پچھنا لگوانا ناقض وضوء ہے .امام احمد بن حنبل بھی نکسیر اور پچھنا لگوانے سے ناقض وضوء کے قائل تھے جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر امام کے ناک سے خون نکل آے اور وضوء نہ کرے تو کیا آپ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو انہوں نے فرمایا کہ بھلا کیسے میں امام مالک اور سعید بن مسیب کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا گویا کہ یہ ایک اشارہ تھا کہ امام مالک اورسعید بن مسیب دونوں خون نکلنے سے وضوء کے قائل نہیں تھے ، امام ابن قدامہ رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب روضۃ الناظر وجنۃ المناظر میں فرماتے ہیں کہ جس مفتی سے استفتاء کیا جاے اور اس کے فتوے میں مستفتی کے لئے وسعت نہ ہوتو اسے اس کو اس شخص کے سپرد کر دیا جاے جس کے پاس وسعت ہے ، ابن قدامہ کا اور ایک قول ہے کہ حسین بن بشار نے امام احمد بن حنبل سے طلاق کا کوئی مسئلہ دریافت کیا تو فرمایا کہ اگر ایسا کرے گا توحانث ہوگا حسین بن بشار نے کہا کہ اگر مجھے کسی نے فتوی دے دیا کہ حانث نہیں ہوگا تو؟ تو امام احمد بن حنبل نے کہا کہ تم مدنیوں کی مجلس جانتے ہو ؟ تواس نے کہا کہ اگر انہوں نے مجھے فتوی دے دیا تو جائزہوجاے گا؟ تو امام احمد بن حنبل نے کہا ہاں ہوجاے گا ،گویا امام احمدبن حنبل کے نزدیک مفتی کے لیے جائز ہے کہ اپنے مسلک کے مخالف کی طرف بھی رہنمائی کردے گویا ان کا خیال ہے کہ یہ اجتہادی مسائل ہیں اور مفتی کے پاس زیادہ سے زیادہ اپنی ایک رائے ہے لہذا اگر وہ منصف ہوتو دوسرے کی طرف رہنمائی کرکے اپنی رائے کو لازم نہ کردے ہوسکتا ہے کہ مخالف کے یہاں اس سے بہتر یامناسب رائے ہو ،یہ تھے ہمارے اسلاف کرام کے سلیقہء اختلاف کے سنہرے نقوش جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم میں اور ان میں کتنا فرق ہے ۔
الغرض علمی لغزشوں اور فقہی شذوذ کو ڈھونڈنا اور انہیں یکجا کرکے مجالس ومحافل نیز شوشل میڈیا کے ذریعہ عوام الناس کے مابین خوب نشرواشاعت کرنا ایک بیماردل اور بدنیت شخص کا کام ہے اور یہ کسی مخصوص مذہب پر ہی نہیں بلکہ پورے دین اسلام پر ہی اعتماد میں بے یقینی پیداکرتا ہے اور یہ کام نہایت بدترین اور دشمنانہ ہے جس کے پیچھے کوئی عام وخاص مصلحت نہیں بلکہ لوگوں کواپنے غلط افکاروخیالات کی طرف مائل کرنا ہے۔
لہذا آج کے اس پرفتن دور میں جب کہ بزم کافری کا اسٹیج سجایا جا چکاہے ،رقص بتان آزری اپنے عروج پر ہے ،جہاں علماے کرام دستارعظمت گنواں بیٹھے ہیں ،جوتاج بسر تھے آج خاک بسر ہوچکے ہیں، سرفرازی وکامرانی جن سے منہ پھیر لیا ہے ،عزت وسطوت جن سے روٹھ چکا ہے ،جو میرکارواں تھے اب گرد کارواں بھی نہیں رہے ، آج جب کہ گمراہ فرقے اپنے باطل عقائدونظریات اور اپنی مغربی تہذیب وکلچر کومنہج سلف صالحین کے طور طریقے پر چلنے والے مسلمانوں پر مسلط کررہے ہیں اور خالص کتاب اللہ وسنت رسول کی امتیازی خصوصیات کو حرف غلط کی طرح مٹانے کے لئے کمر بستہ ہے ایسے پرآشوب دور میں علماے کرام کو اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق پیدا کرنا نیزآپسی رواداری اور دوستانہ تعلقات کوبڑھانا ،نفرت وعداوت کی بنیادوں کاقلع قمع کرنا نہایت ضروری ہے ،فراخدلی ،سیرچشمی اوربرداشت وتحمل مزاجی جیسے اوصاف عالیہ سے متصف ہونااور لایعنی اورغیر اہم فروعی مسائل میں نظریاتی اختلاف سے با لا ترہوکر ایک دوسری کی عزت کرنا اور اپنے مخالف کی تحقیر وتنقیص اوران پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کرنا ہوگااور فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اﷲوالی الرسول کے تحت ہمیشہ اختلاف کی بنیاد پر کتاب اللہ وسنت رسول کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
موجودہ دور میں جو امت محمدیہ کے ساتھ حادثات ہورہے ہیں وہ صرف فروعی مسائل میں نقطہء نظرمیں اختلاف کی بنیاد پر ہیں اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ راہ راست پر آکر کتاب الہی سے روشنی حاصل کریں اور سنت رسول کے اوپرعمل پیرا ہوجائیں اور ان اسلاف کرام کی کتابوں کا مطالعہ کریں جنہوں نے حق کی تلاش میں پوری زندگی کتابوں کی ورق گردانی کی اورکبھی کسی کے اقوال کو دلیل نہیں بنایا جب تک کہ ان کے اقوال کتاب اللہ وسنت رسول کے موافق نہ ہوں ۔ آج جب کہ ہمارے سبھی مسائل ومعاملات اختلاف وانتشار کا شکار ہیں ایسے نازک دور میں ہمیں سکون قلب کے لئے اسی شجرہاے سایہ دار کا سہارا لینا ہوگا اورانہیں مبارک آداب واخلاق سے اپنے آپ کو مزین کرنا ہوگا جنہیں ہمارے اسلاف کرام نے ہمارے لئے چھوڑ گیے ہیں۔ شاید اللہ تعالی اس نسل کے صالح فرزندوں کے ذریعہ امت مسلمہ کے مشکلات ومصائب سے نجات دلائے بشرطیکہ اس شب درماندگی اور بے راہ روی میں طویل مدت تک سرگرداں رہنے کے بعد اللہ کی راہ میں وہ اخلاص نیت کے ساتھ کام کرے اور ایسے مناسب راستے اختیار کرے جواسکے کاروان دعوت کوساحل امن وسلامتی تک پہنچانے کا ضامن ہو ۔ **

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

عربی زبان و ادب کے فروغ میں علماے ہند کا کردار

admin

मुबारक हुसैन

admin

اشاعت حدیث میں علمائے اہل حدیث بہار کا کردار

admin

Leave a Comment