عقیدہ کی اہمیت و ضرورت

محمد صادق تیمی

حیات انسانی میں صحیح اسلامی عقیدہ کی اہمیت اسی طرح ہے جس طرح جسم انسانی میں ریڑھ کی ہڈی ،دنیا کی ہر امت کی بنیاد عقیدہ ہی پر قائم ہے اس کی سربلندی و کامیابی عقیدہ کی سلامتی اور افکار کی درستگی پر انحصار ہے – چوں کہ پرودگار عالم کے پاس اعمال کی قبولیت کا دار و مدار اصلاح عقیدہ پر ہی ہے ،اگر عقیدہ صحیح اسلامی افکار کے موافق ہو تو تمام اعمال ٹھیک اور مقبول اور اگر درست نہ ہو تو تمام اعمال مردود و فضول!!
قوموں کی تاریخ میں اللہ کی یہ ہمیشہ سنت رہی ہے کہ گاہ بہ گاہ اللہ تعالی اس فرش گیتی پر انسانی اعمال کی درستگی کے لیے انبیا و رسل مبعوث کرتے رہے ،تمام انبیا سب سے پہلے اصلاح عقیدہ ہی کی دعوت دی اور کہا ” قولوا لا الہ الا الله تفلحوا ” یعنی اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو کامیاب ہوجاو گے ( ) دوسری جگہ اسی صحیح اسلامی عقیدہ کی اصلاح کامطالبہ کرتے ہوے اللہ تعالی نے محض اپنی عبادت کرنے کی تلقین اور دوسرے کی عبادت سے منع فرمایا ہے ” ولقد بعثنا في كل أمة رسولا أن اعبدوا الله واجنتبوا الطاغوت ” (النحل: 36) ایک جگہ تخلیق انسانی کا مقصد اپنی عبادت کو بتلایا اور فرمایا کہ ” وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون” (الذاریات : 57)
انبیاے کرام کے بعد اسلام کی حفاظت و وراثت علما کے سر آئی ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” العلماء ورثۃ الأنبياء ” کہہ کر اس کی حفاظت و اشاعت اور صیانت کا بار علماء کے کاندھے میں ڈال دیا اور تاریخ گواہ ہے کہ علماے کرام نے ابتدا ہی سے اسلام کی نشر و اشاعت خصوصا صحیح اسلامی عقیدے کی نشر میں پورے شد و مد کے ساتھ حصہ لیا اور کارہاے نمایاں انجام دیا – ہندوستان میں سب پہلے عقیدہ کے باب میں عالم و مجاہد شاہ اسماعیل شہید نے "تقویۃ الایمان "لکھ کر اس کی بنا ڈالی اور یہاں اس کا تگ و تاز پھیلتا گیا ،بہت سارے لوگوں نے اس پر کتابیں لکھیں اور اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی اور اس کا کام تاہنوز جاری و ساری ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے