مدارس کے نصاب میں تبدیلی : وقت کی اہم ضرورت - Taimy Portal
اکتوبر 15, 2019
حالات حاضرہ

مدارس کے نصاب میں تبدیلی : وقت کی اہم ضرورت

Read Time14Seconds

 

 
 محمد صادق جمیل تیمی 

    دینی مدارس و مکاتب میں خالص دینی نصاب تعلیم کے ساتھ عصری نصاب تعلیم کی شمولیت کو لے کر بحث و تمحیص اور ردو کد کا سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے عروج پر ہے – نصاب کیسا ہو ؟ یہ سوال واقعی غور طلب اور قابل توجہ ہے ،اس مسئلہ پر بہت کچھ کہا اور لکھا جاچکا ہے ،دانشوروں نے کالم کے کالم سیاہ کر دیئے ہیں ،متعدد سمینار منعقد ہوے اور کانفرنسیں بلائی گئیں – لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ،ابھی تک کوئی تشفی بخش اور قابل تسلی حل سامنے نہیں آیا ہے – مدارس کے نصاب تعلیم کے سلسلے میں عام طور پر دو طرح کے رحجانات پاے جاتے ہیں ،ایک یہ ہے کہ مدارس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے قدیم و جدید کا حسین سنگم بنایا جائے ، جب کہ دوسری راے یہ ہے کہ مدرسہ کو اپنی پرانی روش پر کام کرنے دیا جاے – یہ دونوں گروہ دو انتہاووں پر کھڑے ہیں – یہ دونوں نظریات فاسد اور مدارس کی بنیاد کو کھوکھلی اور ان کے مضبوط ربط و فعالیت کو مجروح کردینے والے ہیں –
یہ بات کتنی غیر معقول ہے کہ مدارس کو اپنی پرانی روش پر چھوڑ دیا جائے اور انہیں روایتی انداز میں چلنے دیا جاے – حالانکہ دنیا کی آنکھیں مشاہدہ کر رہی ہیں کہ اسی طرز فکر کے نتیجے میں دین کے یہ مستحکم قلعے جمود و تعطل کے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں اوراپنی اہمیت و افادیت کھوتے جا رہے ہیں – تعلیم کے باب میں بچوں کی نفسیات ،ذہنی استعداد و صلاحیت اور فکری گہرائی و گیرائی کا ازحد خیال ضروری ہے – خاص طور پر ایسے حالات میں ‘جہاں ان کے تقاضے و مطالبات اور لوگوں کی فکر و نظر کا زاویہ بالکل بدل گیا ہے اور بڑی حد تک ” كل جديد لذيذ ” کے عادی ہوگیے ہوں ‘ مدارس کو طرز کہن کا پابند بنانا دانشمندی کی بات نہیں ہے – اس سے بڑھ کر محرومی اور بد نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ مدارس ایسے ازکار رفتہ نصاب تعلیم اور فرسودہ طرز تدریس کو ڈھوتے چلے آرہے ہیں جو آج سے سات سو سال قبل رائج تھے – آج بھی ‘ کافیہ ،شرح جامی (نحو ) مختصر المعانی و مطول (بلاغت )کنز الدقائق (فقہ ) اصول الشاشی ،نور الانوار (اصول فقہ ) مقامات حریری اور بدیع الزماں ہمدانی (ادب ) جیسی پیچیده ،دقیق اور مشکل ترین کتابیں اور منطق و فلسفہ جیسے غیر ضروری مضامین داخل نصاب ہیں – اساتذہ طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے کے بجاے ان پر ڈنڈا برسانے اور فن پڑھانے کی جگہ کلامی بحثوں میں الجھ کر اپنی بہترین صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں کہ مصنف نے کلام کو بدیع پر مقدم کیوں کیا ؟ کتاب کے شروع میں بسم اللہ شریف کیوں رقم نہیں فرمایا اور الجزاء لا يتجزأ کا ابطال کیسے ممکن ہے ؟ اس طرح مقصود بالذات علوم کی تو دور کی بات علوم آلیہ جیسے نحو ،صرف ،ادب ،بلاغت اور اصول فقہ وغیرہ کی جو سہل الحصول اور عام فہم کتابیں تیار کی ہیں کہ اگر ان کو داخل نصاب کیا جاے اور افہام وتفہیم کے لیے جدید وسائل اختیار کیے جائیں تو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ ممکن ہے –
ہندستانی مدارس میں اگر کوئی علم مظلوم ہے تو وہ علم حدیث ہے ،بیشتر مدارس احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مخصوص نظریہ اور خاص مکتب فکر کے تحت پڑھاتے ہیں – ورنہ کیا وجہ ہے کہ طلبہ کو ایک مدت مدید تک فقہی مسائل کے پیچیدگیوں اور لن ترانیوں کو ان کے اذہان و قلوب میں پیوست کیے جاتے ہیں اور محض آخر کے ایک دو سالوں میں دورہ حدیث کرایا جاتا ہے – اس طرز فکر سے جہاں طلبہ کا احادیث رسول سے لگاو ختم ہوتا ہے وہیں پر ایک مخصوص نظریے کے تحت احادیث کے مطالعہ کرنے کا عادی بن جاتے ہیں – اس کے برعکس ایک جماعت ایسی جماعت ہے جو احادیث کی تعلیم کا اہتمام تو کرتی ہے لیکن ان کی ساری تگ و دو خاص خاص مسائل پر ہی گردش کرتی ہے – بلاشبہ یہ دونوں طریقے تبدیلی کے متقاضی ہیں ،اس جانب ارباب مدارس کو توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے –
اسی طرح بیشتر مدارس میں انگریزی لٹریچر ،گرائمر اور ٹرانسلیشن پڑھانے کا بھی وہی قدیم و فرسودہ طریقہ ہے ،کئی سالوں میں تو طلبہ کو گرائمر کے چند مخصوص چیپٹرز ہی پڑھاے جاتے ہیں ، وہ بھی ‘preposition, Naration, Active and passive voice سے آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں – اس میں انگریزی لٹریچر تو اور مضحکہ خیز بن چکا ہے ،پورے سال پڑھاے جانے کے بعد امتحان کے ایام میں چند سوالات مع جوابات لکھوا دیے جاتے ہیں طلبہ اسے طوطا کی طرح رٹ مارتے ہیں اور اس کا عکس جوابی کاپی میں لکھ مارتے ہیں – اب آپ خود بتائیں کہ اس طرح کے طریقہ تدریس سے بچوں کو کیا فائدہ ہوگا ؟؟ بلکہ سچ پوچھئے تو افسوس ہوتا ہے کہ مدارس میں انگلش پڑھانے کے لیے ڈھنگ کے ٹیچر بھی کمیاب ہیں ،دو چند کے علاوہ ارباب مدارس کے اس پر دھیان بھی نہیں!!

         آہ ! تیری بے کسی پر مجھے رونا ہے

اسی طرح مدارس کے نصاب میں دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کا خواب بھی خواب پریشان سے کم نہیں ہے -مدارس کی تاریخ کا سب سے برا دن وہ ہوگا جب ارباب مدارس اس نظریہ کو قبول کر لیں گے  – اس کی وکالت تو وہی شخص کر سکتا ہے جو ان ملحقہ مدارس کی حالت زار سے واقف نہیں جو بالکل غیر فطری کوشش اور سعی نامراد ہے  – یقین جانیے کہ ایسے مدارس سے مادیت زدہ کلرک تو تیار ہوسکتے ہیں لیکن مخلص و بے لوث داعی و مصلح پیدا نہیں ہوسکتے  – مدارس کی مقررہ تعلیم کے بعد طلبا دین کی اشاعت و ترویج کی بجاے اپنا الگ راستہ اختیار کر لیں گے ,دوسری جانب اس کے منبر و محراب اور مدارس اپنے مدرسین کے لیے افسردگی اور آرزو بھری نگاہوں سے دیکھیں گے لیکن یقین جانئے کہ اس وقت یہ طلبا ایک نہیں سنیں بلکہ کوئی گھاس بھی نہیں ڈالیں گے –
حقیقت یہ ہے کہ ان مدرسوں کا اپنا الگ پس منظر اور مخصوص اہداف و مقاصد ہیں جن کو یہ آج بھی کسی حد تک پورا کر رہے ہیں ،یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہوگی کہ بہی خواہان ملت ‘ایک سروے کے مطابق مسلم طلبا کا دو فیصد جو مدارس میں زہر تعلیم ہیں’ ان کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹکنالوجی کی تعلیم سے بھی آراستہ کرنے کی فکر میں گھولے جا رہے ہیں ، لیکن بقیہ 98 % فیصد مسلم طلبا جو اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں ان کے معیار ،تعلیم و تربیت کا خیال کرتے ہیں اور نا ہی ان کی تعلیم کے بارے میں کوئی سوچ  – آخر یہ بھی ملت کا ایک گراں بہا سرمایہ ہیں – سچ پوچھئے کہ اگر مدارس میں بھی ان موضوعات کی پڑھائی ہونے لگے تو اچھی اور خوش آئند بات ضرور ہے لیکن اس کا نقصان یہ ہوگا کہ طلبہ علوم اسلامیہ کی بجاے اپنی تمام تر توجہات عصری علوم کی طرف دے دیں گے اور مدارس کے اغراض و مقاصد ناکام ہوجائیں گے – البتہ زبان دانی کے لیے ہندی ،انگریزی اور دنیا کی چند زندہ زبانیں سیکھائی جا سکتی ہیں  –
مدارس کے نصاب کے تعلق سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس میں کچھ ایسے علوم اور سبجیکٹس ہیں جو صدیوں سے چلے آرہے ہیں جن کی آج کی تاریخ میں چنداں ضرورت نہیں ،نیز فقہ و اصول فقہ ،عربی ادب و قواعد کی جو کتابیں داخل نصاب ہیں وہ بھی اصلاح کی طالب ہیں ،ان کی تدوین جدید ہونی چاہیے اور ان کی جگہ ایسی کتابیں شامل کی جائیں جو جدید اسلوب میں لکھی گئی ہو ں ،اختلافوں سے دور ،صحیح اور واضح عبارتوں کے ساتھ اختصار میں بچوں کو پڑھایا جاے ،اس ضمن میں مجدد دین شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شہرہ آفاق کتاب ” حجۃ اللہ البالغۃ ” جو اسرار الشریعہ کی کتاب ہے لیکن اس کی عبارت اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کی دقیقہ سنجیوں کو سمجھنے ہی میں سارا دماغ لگانا پڑتا ہے اور بعد میں نفس مسئلہ ہی سمجھ میں نہیں آتا ،اس کی زبان و بیان ، اسلوب اور مواد اور ادبیت پر کوئی کلام نہیں لیکن میرے خیال سے اب اس کی اہمیت تاریخی رہ گئی ہے خواہ مخواہ مدارس اسلامیہ اس روگ کو پال رہے ہیں جس کو بچے سمجھ پاتے ہیں اور ناہی اس کے پڑھانے والے مدرس کو سمجھ میں آتا ہے – اسی طرح منشعب ،نحو میر ،پنج گنج ،تفسیر بیضاوی ،یہ سب نصاب سے ہٹانا دینا چاہیے اور اس کی جگہ پیچیدگیوں اور فلسفہ کی دقیقہ سنجیوں سے خالی کتب کو نصاب میں شامل کیا جاے – بلکہ آج کا طریقہ تدریس بھی قابل غور ہے وہی پرانا طریقہ اپناے ہوے اساتذہ عربی زبان و ادب کی تدریس میں محض ترجمہ ،حل لغات اور چند ضروری تشریحات کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبا دس سال کی ایک مدت مدید تک عربی پڑھ ،لکھ کر بھی نہ صحیح سے  بولنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ناہی لکھنے کی !  مقام افسوس ہے کہ مدارس اتنے اخراجات کے باوجود کامیاب افراد سازی میں ابھی بھی ناکام ہیں  –
نصاب کے تعلق سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طلبہ کے فارغ ہونے کے بعد مدارس اپنے پاس طلبا کے لیے اختصاصی کورسیز کا اہتمام کریں تاکہ طلبہ پوری یکسوئی کے ساتھ کسی بھی فن میں مکمل مہارت و براعت حاصل کر سکے اور اس کے ذریعے سے دعوت و تبلیغ کا کام پوری کامیابی کے ساتھ انجام دے سکے  – یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ بعض مدارس میں اس کا اقدام کیا گیا ہے اس سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے لیکن میرے تجربہ کے مطابق اس طرح کے کورسیز کی مدت چند ہی سال رہتی ہے پھر ختم ہوجاتی ہے اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ پڑھانے والے اساتذہ کے اندر کمی ہے یا پھر بچو ں میں مزید آگے پڑھنے کی دلچسپی نہیں ہے – اس خلا کو بھی پوری کرنے کے لیے اہل مدارس دھیان دیں –
ارباب مدارس و مدیران جامعہ اگر مذکورہ بالا اشیا کی طرف توجہ دیں تو اس کا حل کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ اسے چند دانشواران اور ماہرین تعلیم کی مدد و تعاون سے بڑی آسانی سے یہ کام کیا جا سکتا ہے ، بلکہ ملت کا درد اور نونہالان قوم کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس جانب فوری طور پر توجہ دی جانی چاہیے … اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق دے  ( آمین )

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

عربی زبان و ادب کے فروغ میں علماے ہند کا کردار

admin

मुबारक हुसैन

admin

موبائل فون : فوائد و نقصانات

admin

Leave a Comment