ہندستان کی موجودہ صورتحال اور ہم - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
حالات حاضرہ

ہندستان کی موجودہ صورتحال اور ہم

Read Time2Seconds

محمد صادق جمیل تیمی 

وطن عزیز ہندوستان پوری دنیا میں اپنی گنگا جمنی تہذیب و تمدن کی وجہ سے جانا و پہچانا جا تا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب اودھ اور شمال ہند کے علاقے دو آبے سے نکلی ہوئی کئی صدیوں سے آرہی ایک خوبصورت تہذیب کا نام ہے۔ دوستی ،محبت ، بھائی چارگی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مساوات اس تہذیب کی اہم خاصیات میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ اس کی جمہوریت کی بھی پوری دنیا میں مثال دی جاتی ہے بلکہ جمہوری طور پر چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے ۔ بلاتفریق مذہب و ملت ، ذات پات اور سماج و مختلف رسوم کے شیدائیان باہم شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں بلکہ باہمی یگانگت ، مساوات اور غیر جانبدارانہ رویے ہی اس کی اصل خوبی ہے ۔ 

لیکن پچھلے چند دہائیوں سے اس کی شاندار و مثالی جمہوریت و گنگا جمنی تہذیب کی روایات کو بری طرح پامال کیا جارہا ہے ۔ اس کے مان مریادے و وقار کو زمین بوس کیا جارہا ہے۔ اور اب عتاب کا شکار اقلیتی طبقہ مسلمانوں کو بنایا جارہا ہے جب کہ آج اگر ملک میں امن و امان بحال ہے تو محض انہیں کی ان بے لوث قربانیوں کی وجہ سے ہے جن کو ملک کی آزادی کی جدوجہد میں صرف کیا تھا۔ملک کے دیگر مجاہدین کے شانہ بشانہ چل کر انقلابات و تحریکات سے لے کر میدان کارزار تک ، سیف و سبو سے لے کر جرائد و رسائل کے اجرا تک برطانوی استعماریت کے لئے سینہ سپر رہے ۔ جس سے بر طانوی استعماریت لرز اٹھی اور انہیں ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ آخر ان ہی کی جہد مسلسل اور پیہم کوششوں کے طفیل پندرہ اگست 1947 ء کو آزادی کا جانفزاں مژدہ سنا یا گیا ۔لیکن افسوس ! آج ان ہی سے حب الوطنی و وطن دوستی کا پروانہ طلب کیا جارہا ہے ۔ گزرتے ایام کے ساتھ تعصب و فرقہ واریت کی نجاستیں ملک کی فضا کو گدلا اور متعفن کر رہی ہیں۔ اس کی سالمیت پر خطرہ منڈلارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو گیا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جب سے مرکز میں آر ایس ایس کی تنظیم بے جے پی برسراقتدار آئی ہے اسی وقت سے ملک میں فسادات و احتجاجات کا سلسلہ تیز رفتاری کے ساتھ شروع ہو گیا ہے ۔ پہلے تو بابری مسجد کے بارے میں غلط و غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر ہندو طبقہ کو اپنی جانب مائل کیا اور یہاں مندر بنانے کے لیے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا یا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ تو کبھی طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو ہوا دی گئی اور مسلمانوں کے مذہبی مسائل میں دخل اندازی کی بھر پور کوشش کی گئی ۔تو کبھی ’’لو جہاد ‘‘ جیسی غلط و غیر مناسب اصطلاح کا شوشہ چھوڑ کر مسلم لڑکے کو حراساں کیا گیا، تو کبھی گائے کے تحفظ اور بچہ چوری کے نام پر ’’ ماب لنچنگ‘‘ کے ذریعہ بے قصور مسلم نو جوانوں کو موت کا گھاٹ اتاراگیا۔ اس کی کھلی و واضح مثال الور کے لال ونڈی علاقہ میں 21 / جولائی 2018ء کو اکبر خان اور اس کے دوست پر حملہ ہے۔
جس میں اکبر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تین سال میں نوے سے زائد اقلیتی طبقوں کے افراد ہلاک کئے گئے ہیں۔اور یہ سلسلہ ملک کی دوسری ریاستوں میں ابھی بھی جاری ہے۔ انہیں حالات کے پیش نظر پر جیا بچن اور جسٹس کاٹجو نے کہا تھا کہ’’یہاں انسانیت نہیں بلکہ گائے کی تحفظ کی جاتی ہے‘‘۔ دوسری جانب عصمت دری کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ روز افزوں اس میں اضافہ ہوہی رہا ہے ۔
جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں ایک آٹھ سالہ معصوم آصفہ نامی بچی سے درندہ صفت انسانوں نے کئی روزتک عصمت دری کی اور پھر اسے پتھر سے کچل کر مار دیا ۔ پے در پے عصمت دری کے واردات نے ہندوستان کی شبیہ کو خراب کردیاہے۔ حد تو اس وقت ہو گئی جب بر سر اقتدار جماعت کی ایک خاتون نے عصمت دری کو اپنی سنسکرتی کا ایک حصہ بتا یا اور یہ بیان صرف اس وجہ سے دیا گیا کہ متاثرہ ایک خاص کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے ۔ خیر عصمت دری کے تعلق سے جو حکومت کا فیصلہ آیا وہ خوش آئند ہے ۔ البتہ یہ صاف ہو گیاکہ اس طرح کے واردات ان کی منصوبہ بند سازشوں کا نتیجہ ہیں۔ اور ان کی سزائیں خاص طور سے مسلمانوں کو دی جارہی ہیں۔بی جے پی ،بجرنگ دل ،آرایس ایس، شیو سینا، وشو ہندوپریشد اور اس کے ہندوتو نظریات سے شہ پاکر ملک کے دوسرے شر پسند ہندو بھی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جہاں بھی فسادات ہوئے ان ہی کی جان ومال کا نقصان ہوا۔ جس کا اندازہ ملک کی مختلف ریاستوں میں رونما واردات سے لگا یا جا سکتا ہے ۔
فی الوقت بی جے پی ملک کی اکثر ریاستوں میں قابض ہے اور جن ریا ستوں میں ان کی سرکار نہیں ہے اسے بھی اپنے پنجے میں کر نے کے لیے ہر قسم کا حربہ استعمال کر رہی ہے اس کی کھلی مثال EVM مشین میں گڑبڑی پیدا کر کے ووٹ اپنے جھولے میں بھر تے ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو یہ جمہوریت اور عوامی اعتماد کے لیے
خطرے کی گھنٹی ہے۔ آسام میںNRC رجسٹر برائے نیشنل سٹیزن کا سہارا لے کر چالیس لاکھ آسامی مسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا کر ان کی شہریت چھیننے اور ملک بدر کر نے کی بھرپور کو شش کی گئی ۔ جب کہ آسامی مسلمان برسو ں سے یہیں پر بستے آرہے ہیں۔ حد تو اس وقت ہوگئی کہ ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر فخرالدین کی فیملی اور ایک سابق انڈین آرمی کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ۔ ان کی یہ ساری انسانیت سوز و منصوبہ بند حرکتیں ملک کی سا لمیت اور اس کی اچھی شبیہ کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہیں۔ اور اس کا برا نتیجہ آئندہ 2019ء کے عام الیکشن میں ا نہیں مل ہی جا ئے گا۔ اس اب میں دوہری پالیسی یہ اپنائی جارہی ہے کہ ایک طرف موہن بھاگوت مسلمانوں کے ساتھ اپنی ہمدردی جتانے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف کانگریس کے صدر راہل گاندھی یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور نا ممکن ہے ۔یعنی یہ لوگ اب زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں تاکہ اس بہانے دوبارہ عوام کا ووٹ حاصل کیا جائے ۔ لیکن اب عوام حساس ہو گئی ہے اور آئندہ الیکشن میں اسے کرارا جواب دینے کے لئے تیار بھی ہیں ۔
مذکورہ تمام واردات و سانحات کو دبانے اور حزبمخالف پارٹی کی آواز زمین بوس کر نے اور حزب اقتدارکو آسمان کی بلندیوں میں لے جانے میں میڈیا کا شروع ہی سے اہم کر دار رہا ہے ۔ میڈیا جسے حکومت کا چوتھا ستون کہا گیا آج وہ اس کا زر خرید غلام بن چکا ہے۔ بلکہ اس میں کام کر نے والے افراد بھی جو اپنے آپ کو بحیثیت سیکولر پیش کر تے ہیں۔ ہر آن و ہر شان اپنی زبان سے زہر افشانی کر تے رہتے ہیں ۔ خواہ وہ الکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کاپہاڑ بنانے کا فن بخوبی ان کو آتا ہے۔ بی جے پی کے آنے کے بعد میڈیا بھی اپنا رخ اسی کی جانب کر لیا ہے اور اسی کے لئے رات و دن آسمان و زمین کے قلابے ملا رہے ہیں۔اپنی اقدار و روایات کو فراموش کر کے مکمل طور سے حکومت ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس کا مشاہدہ اس وقت کیا گیا جب طلاق ثلاثہ کا مسئلہ دونوں ایوانوں راجیہ سبھا اور لو ک سبھا میں گرم تھا ۔ پورے میڈیا نام نہاد مسلم خواتین کو بلا کر اس کی باتوں میں آکر اسلام اور مسلمانوں پر کیچڑ اچھالے اور حکومت کی کھل کر حمایت کی۔ اسی طرح ایک مسلم کو جب دہشت گرد کے نام سے ملزم بنا کر گرفتار کیا جاتا ہے تو ٹی وی چینلوں میں ایسے ڈھونگ اور الفاظ بازی کی جا تی ہے کہ احساس ہو تا ہے دنیا کے سارے جرائم مسلمان انجام دیتے ہیں ۔ لیکن جب انہیں تحقیق کے بعد بے قصور پا کر رہا کر دیا جا تا ہے تو میڈیا کو سانپ سونگھ جا تا ہے اور پھر چپی دھار لیتا ہے۔ بلکہ الیکشن کے ایام میں اس میں کام کر نے والے افراد اگرحق گوئی اور اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کر کے عوام کے حق میں کوئی بات کہتے ہیں تو اسے مالکان چینل باہر کا راستہ دکھا دیتے ہیں اس کی کھلی اور واضح مثال حال ہی میں نکا لے گیے چار افرادہیں۔بہت ہی قابل افسوس ناک بات یہ ہے کہ میڈیا آج تعمیر کے بجائے تخریب اور حیا کے بجائے بے حیائی کو عام کر نے میں مصروف عمل ہے ۔
ایسے میں جہاں ہمیںیکجا ہوکر ہندوستانی جمہوریت کو ثابت کر نا ہے وہیں پر اپنا شاندار وجود کو بھی ثابت کر نا ہے ۔ خصوصا میڈیا میں ہم پوری توجہ دیں۔ اور اپنی نئی نسل کے ا فراد کو اس کا شریک کار بنائیں۔ افسوس ہو تا ہے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود بھی میڈیا میں اس کی شراکت آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ جب کہ کم تعداد طبقے کے افراد اس پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ بلکہ بعض علماء کو جب نیوز چینل میں بلا ئے جاتے ہیں توان کی باتیں بھی ناظرین و سامعین کو سمجھ نہیں آتی ۔ NDTV کے مشہور اینکر برکھادت نے کہا تھا کہ علماء کو T.V.میں نہ بلانے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں ”Art of Dialog” نہیں آتا ۔ اس جانب ہمیں پوری توجہ دینی چاہئے تبھی ہم دوسروں کے چیلنجیز کا جواب دے سکتے ہیں۔
اسی طرح ہم مذہب و مسلک کے اختلافات کو پاٹ کر وحدت کی لڑی میں اپنے آپ کو پرو دیں ۔ اپنی نسل کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ و پیراستہ کریں ۔ انسانی بنیادی پرقائم ترقی کے کاموں یعنی رفاہی و فلاحی اداروں کا خصوصی تعاون کریں ۔ اپنے حصے داری ان سیاسی پارٹیوں میں کریں جو سیکو لر ہوں ۔ ملک کے بدلتے حالات اور اس کے ایک ایک اقدام و تبدیلی پر نظر رکھیں ۔ مسلم سیاسی رہنماؤں سے رابطے اور ملی مفادات کے لئے ان سے خدمات کی یاد دہانی کرا تے رہیں ۔ اسی طرح ملکی جماعتوں اور اقلیتی رہنماؤں کا فرقہ واریت کے خلاف ملک گیر احتجاجات اور فیصلہ کن اقدامات میں اپنا بھر پور تعاون کریں اور ملک کو تقسیم کے زخم سے بچائیں .

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

داعش کا تعارف اور حقیقت

admin

مضمون نویس کیسے بنیں ؟

admin

شیرشاہ آبادی قوم: ایک تعارف

admin

Leave a Comment