چاپلوسی : اسلام کی نظر میں - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
متفرقات

چاپلوسی : اسلام کی نظر میں

Read Time0Seconds

 صادق جمیل تیمی

چاپلوسی ، تملق پسندی اور اجارہ داری ایک ایسی سماجی وبا ہے جس سے انسان کی سماجی قدریں ختم ہوجاتی ہیں ،انسان اپنے مفاد کی خاطر حق گوئی و مظالم کے خلاف اپنی زبان بند کر لیتا ہے ۔اللہ کی عطا کی ہوئی عظیم نعمت غیرت ،شرم وحیا اور عزت نفس کوبالا ے طاق رکھ کر دوسرے کا خوشامد کرتا ہے ۔جب کہ یہ امت ایسی شریعت کو ماننے والی ہے جو حیا و شرم کی تعلیم دیتی ہے اور ’’الحیاء من الایمان ،،کہہ کر حیا کو ایمان کا ایک اٹوٹ حصہ قرار دیتی ہے لیکن دوسری کی اجارہ داری سے ایمان کا یہ اٹوٹ حصہ انسانی نفوس و ضمیر سے جاتا رہتا ہے ،حالانکہ خداوند قدوس نے انسان کو عزت و سربلندی کی اعلی چوٹی پر فائز کیا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’و لقد کرمنا بنی آدم ،،یعنی ہم نے بنی آدم کو عزت و وقار بخشا ہے (الاسراء : ۷)دینی عزت و حمیت اور اسلامی شرف وہ قیمتی احساسات ہیں جن کا بیچ شریعت ربانی نے ہماری کشت میں بودی ہے ۔اس وجہ سے اس بری صفت سے بچ کراسلام و ایمان کی سربلندی اور اپنی عز ت و قار کا خیال ذہنوں میں رکھنا چاہیے ۔
چاپلوسی یہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ انسان چشم زدن ہی میں اپنے مخالف کے دل کو موہ لیتا ہے،لچھے دار جملے اور سبز با غ دیکھا کر اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے محض چند وقتی مفادات کے لیے اپنے لبوں کو ہلا کر خفیف سی مسکراہٹ اور ہرمناسب و غیر مناسب بات پر ’’ہاں ،ہاں ،،کرکے اپنا سامان زندگی فراہم کر لیتا ہے ۔ایسا اندھا ہو جاتا ہے کہ دن کو بھی اگر رات کہے تو رات کہنے میں ذرا برابر بھی ہچکچاتا نہیں ہے ۔کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ ؂
تم کو ہو پسند بات وہ بات کہیں گے
دن کو کہورات تو ہم رات کہیں گے
جب کہ شریعت اسلامیہ میں غیرت کی بڑی اہمیت بتلائی گئی ہے۔غیرت کو خود نبیﷺ نے اپنے اور عام مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہوے فرمایا ہے کہ ’’أتعجبون من غیرۃ سعد فو اللہ لأنا أغیر منہ ،واللہ أغیر منی ،،یعنی تم لوگ سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہومیں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے (السلسلۃ الصحیحۃ مختصر للألبانی :۲۱۸)
قرون مفضلہ کے نفوس قدسیہ کی تعلیم و تربیت نبی اکرم ﷺ اس انداز میں کر دی تھی کہ یہ لوگ غیرت اور عزت نفس میں اتنا یکتا تھے کہ میدان جنگ میں کسی کی زرہ و ہتھیار گر جاتا تو کسی سے اسے اٹھانے کے لیے نہیں کہتے ،کئی کئی دنوں تک بھوکے رہ جاتے لیکن کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے ،ایک ہی چادر میں اپنی زندگی کی نیا کو آگے بڑھاتے لیکن کسی کو احساس بھی ہونے نہیں دیتے ۔یہ و ہ مثالیں جو ہماری آنکھیں کھول دیتی ہیں۔ذہن و دماغ پر پڑے گدلا و متعفن پرتو کو صاف کرتی ہیں ۔
چاپلوسی و تملق پسندی کی روایت
تعریف سننے والے کو خوشامد پسند اور تعریف کرنے والے کو خوشامد ی کہتے ہیں ۔بعض لوگوں نے تو اسے ’’بوٹ پالشیاں ،،کہا ہے ،خوشامدی انسانی عقل و دانش کو چھین کر اسے عقل و دانش سے محروم کر دیتی ہے ۔اس سے رفتہ رفتہ انسان کے حواس،سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ، وہ وہی بولتاو سنتا ہے جو اس کے صاحب چاہتے ہیں ،اس طرح غلط فیصلے ملک و قوم کے لیے نقصاندہ ہوتے ہیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ جن حکمرانوں نے خوشامد جیسی بیماری کو اپنے دربار کا حصہ بنا یا وہ ناکامیوں کے سمندر میں ڈوب گئے اورجنہوں نے آپ کو خو شامدی و چمچوں سے بچایا اور مخلص لوگوں کو اپنے قریب میں رکھا وہ کامیاب ہوے ۔
چاپلوسی و خوشامدی ،سامنے تعریف کرنا اور اپنے صاحب کی ہر ہر بات پر حامی بھرنے کا رواج یا ٹولہ پرانے زمانے ہی سے چلے آرہا ہے ۔دنیا کا پہلا انسان ،ابو الآبا سیدنا آدم علیہ السلام جب جنت میں آرام وراحت اور پوری عیش کوشی کے ساتھ رہنے لگے تو شیطان مردود کو یہ بات کھل گئی ،چنانچہ اس نے آدم سے خوشامد کیا اور جھوٹی لالچیں دکھائیں ،فطرت تو تھی انساں کی ،شیطان کے فریب میں آکر سیدنا آدم ممنوعات کو انجام دے دیا جس کے نتیجہ میں جنت سے محروم کر دئے گئے ۔نبی اکرم ﷺ کے سامنے کوئی صاحب کسی کی تعریف کر رہے تھے آ پ ﷺنے فرمایا کہ تم نے اسے ذبح کردیا ۔نبی ﷺ کے انتقال کے بعد خلافت عباسیہ و خلافت امویہ اور خلافت بغدادیہ کے زوال کے اسباب پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ ان کے زوال میں چاپلوسی ،جھوٹی تعریفیں اور غلط مشیر کار کا بھی بہت بڑا رول رہا ۔اسی طرح ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا بھی تقریبا یہی حال ہے ۔مغلیہ دور میں اکبر بادشاہ کے دربار میں بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کی ہاں میں ہاں ملانا ایک روایت بن چکی تھی۔ایک دفعہ کا بہت ہی دلچسپ واقعہ ہے کہ اکبر کی حضور میں بیگن کی سبزی پیش کی گئی ،بیگن کھانے کے بعد بادشاہ نامدار نے اس کی بڑی تعریف کی ،اب لوگ بھی ان کے ساتھ بیگن کی تعریف میں رطب اللسان ہوگئے حتی کہ بیگن کو شاہی سبزی اور سبزیوں کا بادشاہ بنا دیا ۔دوسرے دن جب کھانے میں وہی بیگن پیش کیا گیا تو اس دن بادشاہ کے پیٹ میں گڑبڑی شروع ہوگئی تو بادشاہ نے درباریوں سے آکر شکایت کی کہ تم لوگ بیگن کی بڑی تعریفیں کر رہے تھے،یہ تو ایک خراب سبزی ہے ۔درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوے کہا کہ یہ بھی کوئی سبزی ہے ،اس کی کوئی شکل ہے ،کالا کلوٹا ،پیٹ نکلا اور پیٹ کے اندر دانے یہ تو پیٹ کے اندر مروڑ پیدا کرتی ہے ۔بادشاہ نے درباریوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ کل تو اس کی بڑی تعریفیں ہو رہی تھیں اور آج ؟ تو بیر بل نے کہا کہ ہم تو بادشاہ کے غلام ہیں بادشاہ نے کہا کہ اچھی سبزی ہے تو ہم بھی اچھی کہنے لگے اور بادشاہ نے کہا کہ خراب ہے تو ہم بھی خراب گرداننے لگے ۔بھاڑ میں جاے بیگن ہمیں تو بادشاہ کی تائید کرنی ہے ۔اس طرح یہ سلسلہ مرور ایام کے ساتھ ہر جگہ پھیل گیا اور لوگ اس کو فولو کرنے لگے ۔
لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بادشاہ کی تملق پسندی کرنے والے اپنی تھوڑی سی لغزش کی وجہ سے اس کے غیض و غضب کے شکار بنتے ہیں ۔
چاپلوسی و تملق پسندی : اسلام کی نظر میں
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اچھے کاموں کی تعریف ،اس کی اصلاح و درستگی کے لیے قابل عمل مشورے اورکسی بھی اچھے کام کو سراہنے کا عمل انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ہمہ وقت تنقید برا ے تنقیدقابل تحسین نہیں ،بلکہ وقت و حالات کی مناسبت سے انسانی ہمت کو مہمیز لگانا ،ترقی کے لیے اچھی راہ ڈھونڈ دینا یہ بھی ایک کار خیر ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ ’’من دل علی خیر فلہ مثل أجر فاعلہ ،،یعنی اچھائی کی راہ دکھلانے والے کی نیکی اس کام کو انجام دینے والے کی نیکی کے مساوی ہے (صحیح الترغیب و الترھیب :۱۱۵) لیکن ہر برے و اچھے کام پر تعریف کرنا ،لیپاپوتی اورحامی بھرنا یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے ۔شریعت اسلامیہ نے اس فعل شنیع پر کافی مذمت جتلائی ہے اور حکم دیا ہے کہ ہر برائی کو اپنے ہاتھ یا زبان سے روکنے کے ساتھ دل سے ناپسندکیا جاے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ ’’من رأی منکم منکرا فلیغرہ بیدہ و ان لم یستطع فبلسانہ و ان لم یستطع فبقلبہ و ذلک أضعف الایمان ،،(رواہ مسلم : ۵۱۳۷)
یقیناًخوشامد پسندی انسان کے اندر سوچنے ،سمجھنے اور خود سے فیصلہ لینے کی قوت و صلاحیت کو ختم کردیتی ہے ہے بلکہ بعض ڈکشنری میں تو اس کا معنی ’’چمچوں کے بوٹ پالیشاں ،،بھی ہیں ۔خوشامدی اور بے جا تعریف کو نبی ﷺ نے باعث ہلاکت اور سبب کبر و نخوت بتائی ہے ۔جیسا کہ معاویہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دوسروں کے خوشامداور بے جا تعریف سے بچو کیوں کہ یہ ذبح کرنے کے مشابہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خود پسندی کو ناپسند کیا اور اس سلسلے میں اصول بناے ہیں کہ اگر ان اصولوں کے مطابق عمل کیا جاے تو معاشرہ پر امن و خوش گوار ہوگا ،اس کی باہمی وحدت و یگانگت بر قرار رہے گی ورنہ اس کے برعکس سماج کا امن و چین چھن جاے گا ۔سامنے تعریف کرنا اپنے لیے بڑے القابات کی تلقین کرنا ،شہرت و ناموری کی خواہش اور اس سے منع نہ کرنا یہ دخول جہنم کا سبب ہے ،جیسا کہ حدیث میںآیا ہے کہ ’’قیامت کے دن ایک علم سیکھنے و سیکھلانے والے کو دربار خداوندی میں پیش کیا جاے گا اور سوال کیا جاے گاکہ تونے علم کو کس چیز میں صرف کیا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اسے میں پڑھنے او رپڑھانے میں ،تو اللہ تعالی فرماے گا کہ تونے اپنے نام و نمود و ریاکاری اور دکھاوے ے کے لیے کیا تھا اس وقت تیرا مقصد پورا ہوگیا۔ اسی وقت اسے منھ کے بل گھسیٹتے ہوے جہنم میں ڈال دیا جاے گا ،،(صحیح مسلم : )
اسلام کتنا عظیم و انسانیت کا خیر خواہ والا مذہب ہے کہ اس نے ہر شئی کو بالکل و اضح انداز میں بیان کردیا ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر کوئی امتیازی خوبی ہو تو اسے کیسے اور کس طرح اپنے الفاظ میں بیان کریں؟ اس کا بھی طریقہ سیکھلادیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’ایک شخص نبی ﷺ کے پاس کسی کی تعریف کی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تجھ پر افسوس ہے کہ’ تونے اپنے بھائی کا گلہ کاٹ دیا ،اس لفظ کو آپ ﷺ نے کئی مرتبہ فرمایا اور کہا کہ اگر تم سے کوئی کسی کی تعریف کرنا چاہے تو ایسی صورت میں کہے کہ اس شخص کے بارے میں میرا یہ گمان ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالی خوب جانتا ہے اورمیں اس کا حال دل نہیں جانتاکہ وہ ایسے ایسے ہے،،(صحیح مسلم )
صحابہ کرام کی خدمات جلیلہ اور مساعی جمیلہ پر تعریف تو خود نبی ﷺ نے کی ہے ،ان کی ڈھارس باندھنے اور ہمت میں اضافہ مختلف الفاظ کے ذریعہ سے کیا ہے ،ان کے پاے ثبوت کے نیک دعائیں دیں اور ان سے خیر کی امیدیں وابستہ رکھیں ۔قلعہ خیبر کانام سنتے ہی سب تھر ا جاتے تھے لیکن نبیﷺنے سیدنا علیؓ کی بہادری کا اعتراف کرتے ہوے اس کا علم سیدنا علی کے ہاتھ تھما دیااس امید کے ساتھ کہ اسے فتح کرنے کی طاقت اسی کے اندر ہے یہ سیدنا علیؓ کو بڑھانا نہیں تھا بلکہ یہ حقیقی جوہر شناسی اور اس کا مناسب جگہ میں استعمال کی دلیل تھی ۔اسی طرح فتح کے موقع آ پ ﷺ نے کفار مکہ کو یہ مژدہ سنایا کہ جو بھی ابو سفیان کے گھر داخل ہوجاے اسے امن ہے ،چوں کہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ سفیان تھوڑا تعریف پسند انسان ہیں ۔لیکن یہ سب شواہد و ثبوت حد سے تجاوز اور بے جا نہ تھے بلکہ یہ حق رکھتے تھے کہ ان کے ساتھ ایسا کیاجاے ۔
آ ج کے دور کی طرح رہبر ملت ،رہبر طریقت ،مفکر اسلام ،سند المفسرین ،ملک التحریر ،امام المناظرین ،شمس المصنفین ،استاد العرب و العجم ،غوث بحر حقائق ،عظیم المرتبت ،عظیم البرکت ،حامی سنت ،ماحی بدعت ،باعث خیر و برکت جیسے بڑے بڑے خطابات و القابات سے نہیں نوازتے تھے ۔ایسے موقع پر وہ صاحب جن کے لیے یہ القاب نوازے جائیں اسے منع کرنا چاہیے جیسا کہ نبی ﷺ نے ایک بار اپنے لیے لفظ ’’سید ،،کااستعمال کرنے سے بنو عامر کو منع فرما دیا تھا ۔
چاپلوسی کے اسباب و عوامل
اگر ہم تملق پسندی و چاپلوسی کے اسباب و عوامل پر غور کریں گے تو ہمیں اس کے پیچھے کارفرما مختلف وجوہات و عواملیں گے ،جن کی وجہ سے عام طور پر چمچہ گری و تملق پسندی اور بوٹ پالیشی کے کام کو انجام دیا جاتا ہے ۔ذیل میں اس کے چند اسباب و وجوہات قدر تفصیل کے ساتھ پیش ہیں :
۱۔ آرام و راحت پسندی
اس میں کوئی شک نہیں کہ چاپلوسی و تملق پسندی ،آرام و راحت اور اپنی تساہلی کو چھپانے کے لیے کی جاتی ہے ،کام سے راحتیں مل جاتی ہیں ،بڑے طمطراق سے آرائش و زیبائش کی زندگی گزارنے کے سامان مہیا ہوجاتے ہیں ۔جب کہ اسلام نے آرام و راحت اور تساہل پسندی کا سختی سے انکار کیا ہے اور محنت و مشقت کرنے پر ابھارا ہے ۔ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ’’ما أکل أحد طعاما خیرا قط من أن یاکل من عمل یدہ و ان نبي اللہ داؤد کان ےأکل من عمل یدہ ،یعنی آدمی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اہنے ہاتھ کی کمائی کھاے ،اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے (صحیح البخاری : ۲۰۷۲)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو محنت و مشقت پر ابھارتا ہے ۔سیدنا ابوبکر معاش کے لیے چٹائی بن کر رات میں بیچتے تھے اور اسی سے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتے تھے ۔ اس کی مثال دور سلف سے لے کر آج تک مل جاتی ہے ،ہندوستان کی ایک مثال لے لیجیے کہ دہلی کے سلطان ناصر الدین اپنا ذریعہ معاش کتابت قرآن مقرر کیا تھا اور اسی سے ان کا گھر بار چلتا تھا ۔خلافت و سلطنت کے یہ علم بردار اشخاص چاہتے تو پوری عیش کوشی اور راحت طلبی کے ساتھ اپنی مستعار حیات کے لمحا ت کو بسر کرتے ،لیکن سستی و کاہلی اور اپنی ذمہ داری سے بھاگنا پسند نہ فرمایا ۔اس وجہ سے چاپلوسی کے ذریعہ کھانے والے حرام کھانے پر مبتلا ہیں ۔انہیں اپنے عمل سے توبہ کرنی چاہیے اور حلال کمائی کی جانب توجہ دینی چاہیے ۔
۲۔شہرت طلبی وناموری
اپنی شہرت کے خواہاں افراد چاپلوسی کے ذریعہ سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ،مشقتیں جھیلتے ہیں ،مصائب سے نبرد آزما ہوتے ہیں تاکہ لوگ انہیں بڑے کے مشیر کار اور قریبی بتاے اور وہ اپنے صاحب کی نظر میں معتبر و معتمد ہو، اس وجہ سے اپنے صاحب کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں ،مدح سرائی کے راگ الاپتے ہیں جب کہ منھ کے سامنے تعریف کرنا اسلام کی نظر میں معیوب ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ’’اذا رأیتم المداحین فاحثو ا فی وجوھھم التراب ،یعنی جب تم ایسے شخص سے ملو جو تمہارے سامنے تعریف کر رہا ہے تو اس کے چہرے پر مٹی پوت دو،، (صحیح مسلم : ۳۰۰۲)
خاتم النبیین ﷺ جن کی تعریف خود رب العالمین نے کی ہے انہوں نے اپنے سامنے اپنے لیے لفظ سید کا استعمال سے منع کیا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بنو عامر کو اپنے لیے لفظ سید کا استعمال سے منع کر دیا اور فرمایا کہ ’’ولا یستجرینکم الشیطان،کہ شیطان تم لوگوں کو میرے سلسلے میں ایسے کلمات کہنے پر جری نہ کردے جو میرے لیے زیبا نہ ہوں،، ( صحیح ابو داؤد :۴۸۰۶)اس کے علاوہ اس میں نفاق کا بھی عنصر پایا جاتا ہے ۔
۳۔ایذا رسانی و چغل خوری
بسااوقات انسان دوسرے کو زک پہنچانے و تکلیف دینے کے لیے ایک دوسرے سے چاپلوسی کرتا ہے اس کے ذریعہ اپنا ذاتی انتقام لیتا ہے اور اپنے ہی سماج کے لوگوں پراپنی ناپاک حرکتوں کا شکار بناتے ہیں ۔جب کہ شریعت مطہرہ نے دوسروں کو تکلیف پہنچانا و ایذا رسانی کے کام کو اسلامی تصور سے خارج کیا ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ’’المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ ،یعنی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ و زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے ۔گویا کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی معنی میں ایک کامل مسلمان وہ ہے جو دوسرے کے ساتھ خیر و بھلائی اور حسن معاملہ کرتا ہے ۔اسی طرح جو دوسرے کی عیب جوئی کرتا ہے وہ بھی ایک دوسرے کو تکلیف دیتا ہے ۔صحابہ کرام نے رسول ﷺ سے دریافت کیا کہ جو کسی کے اندر ہے اس کا ذکر بھی عیب و چغل خوری ہے ؟ تو رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس چیز کا بیان جو تمہارے بھائی کے اندر ہے ا س کاذ کر بھی عیب و غیبت ہے ’’حسبک اذا ذکرت أخاک بما فیہ ،،(السلسلۃ الصحیحۃ :۲۶۶۷)
۳۔اپنی غلطیوں و کوتاہیوں پر پردہ پوشی
آدمی اپنی غلطیوں پر پردہ پوشی کے لیے ا س فعل شنیع کو انجام دیتا ہے تاکہ اس کے عیوب و نقائص چھپ جائیں ۔لیکن ہر آدمی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر پس پردہ کوئی لغزش یا گناہ کیا ہو تو اس کی معافی اللہ تعالی سے مانگ لے ،اور توبہ کر لے ،ورنہ دنیا کی ذلت سے بچنے کی خاطر آخرت کی ذلت اٹھاے گا ،جب کہ وہاں کی ذلت دنیا سے بھی سخت ہوگی ۔اس وجہ سے اپنی کوتاہیوں پر پردہ پوشی کے لیے چاپلوسی کرنا ترک کردے ،اسی میں خیر و بھلائی ہے ۔
۴۔عہدے و مناصب کی چاہت
چاپلوسی کی ایک بڑی وجہ عہدے و مناصب کی چاہت ہے او رہر وہ آدمی جس کے اندر یہ صفت موجود ہے اس کا مقصد ہی ہوتا ہے کہ اسے کوئی عہدہ ملے اور اس پر فائز ہوجاے اور مدت مدید تک اس پر براجمان رہ کر لوگوں پر اپنی دھاک جما ے ۔عہدے کی چاہت اور دل میں اس کی خواہش پر بھی شریعت نے نکیر کی ہے اور عہدے کو مانگ کر لینے والے کو سخت ڈانٹ بھی پلائی گئی ہے جیسا کہ رسول ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’یا عبد الرحمن لا تسأل الامارۃ فانک اذا أعطیتھا عن مسألۃوکلت فیھا الی نفسک و ان أعطیتہا عن غیر مسألۃ أعنت علیہا ،یعنی اے عبد الرحمن تم عہدے کو مانگ کر مت لو اس وجہ سے کہ تمہارے مانگنے کی وجہ سے اگر تمہیں عہدہ دے دیا جاے تو ایسی صورت میں اس میں تمہاری اعانت و مدد نہ ہو گی ،غلطیوں کے ذمہ دار تم خود ہوگے اور اگربغیر مانگے دے دیا جاے تو اس میں لوگوں کی مدد و تعاون شامل رہے گا (سنن أبی داؤد و قال اللألبانی ،صحیح :۲۹۲۸)
مذکورہ تمام اسباب وعوامل سے یہ بات بالکل طشت ازبام ہو گئی کہ وہ کام جو فطرت انسانی کے خلا ف ہو اور انسان کے لیے باعث نقصان ہو تو شریعت نے اسے نہ کرنے کی تلقین کی ہے ۔چاپلوسی و تملق پسندی کو شریعت مطہرہ نے سزا کے دائرہ میں رکھا ہے ۔تعریف بلا شبہ افادیت سے خالی نہیں ہے ،بلکہ اسے حدود کے دائرے میں کیا جاے۔ اس میں کسی قسم کی کذب بیانی و ریاکاری اورمبالغہ آرائی نہ ہو ۔ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا عثمان کی تعریفیں کرنے لگا تومقداد بن اسود نے مٹی لیا اور اس کے منھ پر پھینکنے لگا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اذا لقیتم المداحین فاحثوا فی وجوھھم التراب ،کہ جب کسی تعریف کرنے والے سے ملو تو اس کے منھ پر مٹی ڈال دو،، (سنن ابی داؤد و صححہ اللألبانی : ۴۸۰۳)اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا فن ہے جس سے بادشاہوں کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے ۔اب تو یہ تعلیمی ادارے ،یونی ورسٹیز و کالجز میں بھی اپنا ناپاک قدم جمالیا ہے ،انتخاب صلاحیتوں و لیاقتوں کی بنا پر نہیں بلکہ قربت و تملق پروری و جی حضوری کی بنا پر اساتذہ و ملازمین و کارکنان منتخب کیے جاتے ہیں ،جب کہ معیار صلاحیت واستعداد ہے ۔پاگل عادل آبادی نے کیا ہی خو ب کہا ہے کہ ؂
      پیرروکاری چاپلوسی کالے دھن کا زور ہے
      کوئی رشوت خور ہے تو کوئی آدم خور ہے
      اک سے بڑھ کر ایک چالو ہے جہاں میں آج کل
      باپ انڈا چور ہے توبیٹا مرغی چور ہے
اس وجہ سے کسی بھی کام کو پورے اخلاص کے ساتھ انجام دیا جاے ،اپنے ماتحت افراد ،طلبہ یا لوگوں کی زندگیوں کا خیال کیا جاے ۔محض اپنے مفادات ہی پرپوری توجہ نہ ہو ۔ معروف و عظیم اسکالر علم الکلام کے ماہر امام غزالی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’احیاء العلوم ،،میں ایک عابد سے شیطان کے خوشامدیاور عابد کی نیت کی گڑبڑ ی کا ایک دلچسپ واقعہ ذکر کیا ہے ۔واقعہ یوں ہے کہ ایک عابد تھا وہ ہمہ وقت اللہ کی عبادت و ریاضت میں لگا رہتا تھا ،ایک دن انہوں نے سنا کہ فلاں جگہ لوگ ایک درخت کی پرستش کر رہے ہیں تو عابد نے اپنے کندھے میں کلہاڑی اٹھایا اوردرخت کو کاٹنے چلا ،راستہ میں ایک شیطان درویش کی شکل میں ملا اس نے کہا کہ کہاں جا رہے ہو ؟ تو عابد نے کہا کہ اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ پوجا کرتے ہیں تو شیطان نے کہا کہ درخت کاٹنے سے تمہارا کیا غرض ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کو شرک سے بچاوں گا ،شیطان نے کہا کہ میں تمہیں کاٹنے نہیں دوں گا، تو دونوں میں لڑائی ہوئی اس میں عابد غالب آگیا ۔شیطان یہاں خوشامد کیا کہ اسے چھوڑ دیا جاے اور کہا کہ آپ غریب ہیں، میں ہر روز آپ کے تکیہ کے نیچے کچھ روپے رکھ دوں گا اس سے آپ اپنے بھی خرچ کریں گے اور غریبوں کی بھی مدد کرسکیں گے ،عابد نے حامی بھر لی اور دو دنوں تک اپنے تکیہ کے نیچے اسے روپے ملے لیکن تیسرے دن نہ ملنے پر پھر وہ کلہاڑی لیا اور درخت کو کاٹنے چلا ،پھر راستہ شیطان سے ملاقات ہوئی اور دونوں میں چھڑپ ہوئی تو اس میں شیطان غالب آگیا ۔عابد نے اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ تم پہلی بار خالص خدا کے واسطے نکلا تھا اس وجہ سے غالب رہا اور دوسری بار دل میں دینار کا دخل تھا ،خدا کی رضا و اخلاص نہ تھا اس لیے میں غالب اور تو مغلوب ،،(احیاء العلوم : ۵۱۴)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام انسان کو پورے اخلاص و وفا ،دل کی پاکیزگی و صفائی کے ساتھ انجام دینا چاہیے ،ریاکار ی ،تصنع سازی اور نام و نمود کے لیے کوئی کام قطعا نہ کیا جاے ۔چوں کہ ریاکار ی و دکھا وے کے لیے کوئی کام کرنا یہ بھی شرک اصغر کے ضمن میں آتا ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺہے کہ ’’ان أخوف ما أخاف علیکم الشرک الاصغر ،قالوا : وما الشرک
الأصغر ؟ قال : الریا ء ،،یعنی تم لوگوں پر مجھے سب سے زیادہ ڈر ہے ریا کا ہے جو شرک اصغرہے (السلسلۃ الصحیحۃ مختصرۃ : ۹۵۱) اس سے یہ معلوم ہوا کہ کوئی بھی کام نام ونمود کے لیے نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ شریعت اسلامیہ میں کسی بھی عمل کی قبولیت و معیار نیت و ارادہ پر ہی منحصر ہے ۔حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’انما الأعمال بالنیات ،کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہیں (متفق علیہ )یہی وجہ ہے اخلاص کے ساتھ انجام دیا جانے والا معمولی کام بھی قیامت کے دن وزنی ہوگا اور بدون اخلاص بڑے سے بڑا کام بھی بے وزن و بے کار ہوگا ۔
چاپلوسی کے نقصانات
مذکورہ حقائق سے یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ مذہب اسلام میں چاپلوسی و تملق پسندی کتنی بری و گری ہوئی حرکت ہے۔ اس جہاں انسان کا دین و عقیدہ خراب ہوجاتا ہے وہیں پر سماجی وقار میں بھی کمی آجاتی ہے ،تاہم اس کے چند نقصانات ذیل میں اختصار کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں ملاحظہ ہوں :
۱۔دنیا و آخرت کی ناکامی و نامرادی
۲۔چاپلوسی سنت نبوی ﷺ کے خلاف ہے اس سے سنت کی مخالفت اور اس سے بیزاری کا پہلو سامنے آتا ہے ۔
۳۔سماجی اعتبار سے انسان کے وقار میں کمی ،دل سے غیرت و حمیت کا اٹھ جانا ۔
۴۔ایک باصلاحیت و بالیاقت اور جری انسان کی طاقت و قوت کا ختم ہوجانا ۔
۵۔ساری زندگی بھر لکیر کا فقیر کٹھپتلی بنے رہنا ۔
۶۔ایک دوسرے کے تئیں بغض و عناد اور انتقام لینے کے جذبات ہمیشہ پایا جانا ۔
۷۔حامی بھرنے کے فراق اپنی ذات و اپنے رشتہ داروں سے بے اعتنائی برتنا ۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ چاپلوسی و چمچہ گیری سے نہ صرف انسان سماجی طور پر اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے بلکہ اس کی وجہ اپنی عاقبت کو بھی خراب کر لیتا ہے ۔دنیا کے چند مفادات کی خاطرصبح وشام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کر تا ہے ۔اپنے اور اپنے بال و بچوں کو حرام کی کمائی کھلاتے ہیں جس کا ایک حصہ بھی شریعت میں کسی عمل کی قبولیت کے لیے مانع ہے ۔اس وجہ سے انسان کو اللہ تعالی نے جو ایک عزت و وقار بخشا ہے اس کا لحاظ کرتے ہوے اس گھٹیا و بری حرکت سے باز آجاے ۔اپنے آپ کو محنت و مشقت سے بچانے کے لیے مزید اپنی زندگی کواپاہج نے کرے بلکہ اپنی کوتاہیوں کو دور کرکے تازہ دم ہوکر محنت و مشقت میں مصروف ہوجاے۔اللہ تعالی ہمیں اس سے بچاے (آمین )

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

بیٹی : دخول جنت کا سبب

admin

معاشرہ میں حسن اخلاق کا کردار

admin

فیملی پلاننگ اور اسلام

admin

Leave a Comment