حج : ایک عظیم عبادت

محمد صادق جمیل تیمی 
اللہ رب العالمین کا فضل واحسان ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہ بنایا او رہمیں دین اسلام سے نوازا او رہم پر پانچ اشیاکو فرض قرار دیا ۔ انہیں میں سے ایک حج بھی ہے جو اسلامی عبادتوں میں سے ایک عظیم عبادت ہے جو اپنی ادائیگی کے لیے جملہ فرزندان اسلام کو ایک جگہ اکٹھا کرتی ہے او رجو ملت کا ایک سالانہ اجتماع ہے جس کا ملت اسلامی کی سچائی وپاکیز گی اوراس کی اصلی او رحقیقی بنیادوں کی حفاظت میں بڑا اہم کردار ہے ۔ 
حج کا معنی ومفہوم : حج لغت میں باب حج یحج ( نصر) کا مصدر ہے ، جس کا معنی قصد وارادہ کرنا ہیں ۔ ( القاموس المحیط: ۱۶۷) ۔
حج کی شرعی تعریف : مخصوص افعال کی ادا ئے گی کے لیے مسجد حرام کی طرف (سفر) قصدکرنا ’’ حج ‘‘ کہلاتا ہے ( الفقہ الإسلامی وادلتہ : ۳؍ ۲۰۹۴) جبکہ امام خلیل نے کہا کہ حج کا معنی محترم مقام کی طرف قصدکرنا ہے ۔ (القاموس المحیط : ۱۶۷۱) ۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ نے حج کو عبادت کا موسم بہار بنایا ہے ۔ جس میں امت کا یہ سدا بہار درخت خوب پھل پھول لاتا ہے ۔ جس وقت مسلمانوں کا یہ عالمی خاندان اپنے پرانے لباس کو اتار کر ایک نیا لباس زیب تن کرتا ہے ۔ اسلامی عبادات میں حج کی فرضیت تکمیل شریعت کے اخروی مراحل راحج قول کے مطابق ۹ھ میں ہوئی ۔ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے پانچواں رکن ہے جو مجموع العبادات ہے ۔ حج ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے او رصاحب استطاعت مسلمان اس کو کہتے ہیں جو عاقل ، بالغ اور صحت مند ہو اور اس کے پاس اس کی اصلی او ربنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو جس سے وہ بیت اللہ تک آنے جانے او روہاں کے قیام وطعام کا خرچ برداشت کرسکے اور اپنی واپسی تک ان کے اہل وعیال مامون ہو ۔( تفسیر معارف القرآن :۲؍۱۲۲) جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے 🙁 وللّٰہ علی الناس حج البیت من استطاع إلیہ سبیلا)( سورۃ آل عمران: ۹۷) یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر حج کو فرض کردیا ہے ۔ ان لوگوں کے لیے جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھے ۔ 
الغرض صاحب استطاعت مسلمانوں پر حج فرض ہے ۔ اللہ کے نبی محمد مصطفی ﷺ کا بھی فرمان ہے : ’’یایھاالناس قد فرض اللّٰہ علیکم الحج فحجوا‘‘ ( صحیح مسلم : ۱۳۳۷) کہ اے لوگو تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حج کو فرض کیا ہے لہٰذا تم حج کرو۔ چنانچہ حج ہی ایک ایسی عبادت ہے جو افریقہ کے صحراؤں ،انڈونیشیا کے جزوروں ، پیرس ودبئی کی عالیشان عمارتیں او رسمندر یا مشرقی ملکوں میں رہ کرادا نہیں کی جاسکتی ۔ اس عبادت کی ادا ئے گی کی صف میں کالے گورے عربی وعجمی ، امیروفقیر ، شاہ گدا ، عالم وجاہل او راعلی وادنی ایک ہی رنگ وانداز کے لباس میں ایک ہی کلمہ’’ لبیک اللّٰھم لبیک ‘‘ پکارتے ہوے کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لیے حج اسلامی اخوت وبھائی چارگی کا عملی مظہر ہے ۔ 
آئے میں آپ کو بتاتا چلو ں کہ حج کی کیا فضیلت ہے ؟ چنانچہ جب ہم قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ قرآن وحدیث میں حج کے فضائل بے شمار ہیں ۔ حج کے اخروی فضیلت کے بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہمیں بتارہی ہے : ’’ سئل رسول اللہ ﷺ أی الأعمال افضل ؟ قال : الایمان باللہ وبرسولہ ، قیل ثم ماذا؟قال: الجھاد فی سبیل اللہ ،قیل ثم ماذا: قال: حج مبرور ‘‘ (صحیح بخاری : ۱۵۱۹) کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کونسا عمل سب سے اچھا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا ، پھر پوچھا گیا پھر کونسا؟ فرمایاَ : اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ۔پھر کہا گیا پھر کونسا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : حج مبرور ۔ 
معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے بعد اگر کوئی ایسا عمل ہے تووہ حج ہی ہے ۔ کیوں کہ حج کرنے والا شخص گناہو ں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے نو مولود بچہ : سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :’’ من حج ولم یرفث ولم یفسق رجع من ذنبہ کیوم ولدتہ امۃ ( صحیح بخاری ) اتناہی نہیں بلکہ حج کا ایک عظیم فائدہ یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن مسعود نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ولیس للحجۃ المبرور ۃ ثواب إلا الجنۃ ‘‘ ( السلسۃ الصحیحۃ: ۱۱۸۵) کہ حج مبرورکابدلہ صرف جنت ہی ہے ۔ 
جب ہم علماے کرام کے سوانح حیات کا ورق گردانی کریں تو ہمیں حج کے دنیوی فضیلت کے بارے میں معلوم ہوگا ۔ مولانا سیدابوالاعلی مودودی فرماتے ہیں کہ یہ اسی خانہ کعبہ او راس کے حج کی برکت تھی کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر نبی کریم ﷺ کے زمانے تک ڈھائی ہزار برس کی طویل مدت میں عربوں کو ایک مرکز وحدت حاصل رہا جس نے ا ن کی عربیت کوقبائلیت میں بالکل گم ہوجانے سے بچاے رکھا ۔ صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں کہ اللہ نے سفر حج میں یہ فضیلت رکھی ہے کہ اس سے کوئی شخص دنیوی فقر وفاقہ میں مبتلا ہو نے سے بچ جاتا ہے ۔ بلکہ ایک روایت میں ہے کہ حج وعمرہ میں متابعت سے فقروفاقہ او رگناہوں کواس طرح دور کردیتا ہے جیسے بھٹی ، لوہے ، سونے اور چاندی کی میل کچل کو دور کردیتی ہے ،(السلسۃ الصحیحۃ : ۱۱۸۵) او رمزید فرمایا کہ حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں اگر وہ اللہ سے دعا کرے تووہ ان کی دعاقبول فرمائے گا او راگر وہ اس سے مغفرت مانگیں تووہ ان کی مغفرت فرماے گا (السلسۃ الصحیحۃ : ۱۸۲۰) ۔ لیکن آج ہمارے سوسائٹی کا پردہ اٹھاکر دیکھیں توہمیں معلوم ہوگا کہ آج ہمارے معاشرے کے لوگ حج سے کوسوں دوری اختیار کئے ہوے ہیں جب کہ حج بین الأقوامی ہدایت وعالمی رہنمائی کا ابدی مرکزہے ، جہاں امت کے نازک سے نازک او رتاریک سے تاریک ترین دور میں بھی علماء حق ،صلحاے امت ، اصحاب فکر سبھی جمع ہوتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے حج کے فضائل روحانیت ونورانیت سے اس قدر بھر جاتی ہے کہ سخت سے سخت دل بھی موم ہوجاتاہے او رپتھر جیسا جگر پانی ہوجاتا ہے ۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوف یا محبت کی وجہ سے نمناک تک نہ ہوئی تھی ۔ یہاں پہونچ کربے ساختہ اشکبار ہوجاتی ہے ، رحمت الٰہی کا ایسا زبر دست نزول ہوتا ہے کہ سارے ماحول پر سکینت ووقار کا غلبہ ہوجاتاہے ۔ شیطان کو منھ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی ۔ ( ایمان وعمل از : خطیب الاسلام مولانا عبدالرؤف رحمانی حفظہ اللہ : ۳۰۴) ۔ 
مگر افسوس صد افسوس ! کہ آج اس کے باوجود بھی بہت سے لوگ حج ادا کرنے میں بڑی غفلت برتتے ہیں او ربہت سارے بہانے وعذر پیش کرتے ہیں او راگر لوگوں کوحج ادا کرنے کی رغبت دلائی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی میر ے بچے چھوٹے ہیں ا ورہمارے یہاں کا ماحول ساز گار نہیں ۔ یہ سب بہانے پیش کرتے ہیں حالاں کہ اگر گناہ معاف کرانے کے لیے کوئی ایسی عبادت ہے تو وہ عبادت حج ہی ہے اور اگر کوئی انسان استطاعت حج کے باوجود حج نہیں کرتا ہے تواس کے بار ے میں سخت وعید ہے جیساکہ ارشاد نبویﷺ ہے : ’’عن علی قال: قال رسول اللہ ﷺ من ملک زاد اوراحلہ تبلغہ إلی بیت اللہ ولم یحج فلا علیہ أن یموت یھود یا أو نصر انیا وذلک ان اللہ یقول فی کتابہ ‘‘ (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع إلیہ سبیلا )(سورۃ آل عمران: ۹۷) ‘‘ ( سنن ترمذی ۳؍ ۱۶۷)کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کے پاس سفر حج کا ضروری سامان بنوا اس کی سواری ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے پھر وہ حج نہ کرے توکوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یانصرانی ہوکر مرے ۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے لیے حج ان لوگوں پر فرض ہے جو وہاں تک جانے کی طاقت رکھتا ہو ۔ سوچئے کہ کیسی رونگٹے گھڑی کردینے والی بات ہے اس کے باوجود ہمارے معاشرے کے لوگ حج سے دور ہیں ۔ جب ہم دینی شرعی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ حج کے تین اقسام ہیں جومندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) حج تمتع(۲) حج قران (۳) حج افرد ۔ لیکن ان میں سب سے بہتر حج حج تمتع ہے جس کی رسول ﷺ نے تاکید کی ہے :’’ قال ﷺ لأصحابہ لواستقبلت من أمری مااستد برت ماسقت لفعلت کما فعلتم ولکني سقت الھدي وقرنت ‘‘ ( سنن النسائی : ۲۷۲۵، قال الشیخ الألبانی ، صحیح )۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حج دین اسلام کے پانچ اہم اور بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جو صاحب استطاعت مسلمانوں پر ایک بارفرض ہے جس کی بہت سارے فوائد ومنافع ہیں ۔جن میں سے کچھ فوائد دنیوی ہیں او رحقیقی فوائد توآخرت میں جنت کی شکل میں ملیں گے۔ الغرض ایک انسان کی زندگی خواہ دنیوی ہویا اخروی دونو ں جگہ سرخ روئی عطا کرنے میں نمایا ں کردار ادا کرنے والی یہ عبادت ہے ۔ اللہ ہم سب کو اس کی ادائیگی کی توفیق دے ، (آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے