معاشرہ میں حسن اخلاق کا کردار - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
متفرقات

معاشرہ میں حسن اخلاق کا کردار

Read Time0Seconds
محمد صادق تیمی

انسانی زندگی میں اخلاق وکردار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ، انسان کو اخلاق وکردار کی بدولت دوسرے مخلوقات پر فوقیت وبرتری حاصل ہے اگرانسان حسن اخلاق وکردار سے عاری ہوجاے تو جانوروں سے بھی بدتر ہوجاے گا، انسان کے وجود وبقا کا ضامن اخلاق ہی ہے اخلاق وہ حسین خوشبو ہے جس کی رسائی قوت باصرہ وشامہ سے بڑھ کر قلب وروح تک ہوتی ہے ۔

اسلام میں حسن اخلاق کی اہمیت

اسلام میں حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ فرمان رسول ﷺ:’’ ان من خیارکم احسنکم اخلاقاً‘‘ ( صحیح بخاری : ۳۵۵۹) سے لگا یا جاسکتا ہے کہ رسولﷺ نے اخلاق کو معیار انسانیت قراردیا ہے او ریہ آگاہی دے دی ہے کہ باعتبار ایمان سب سے کامل انسان وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ:’’أکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا‘‘( السلسۃ الصحیحۃ : ۲۸۴) اس بات پر شاہدہے کہ اخلاق حسنہ کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں ، نیز ا س کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ان المومنین لیدرک بحسن خلقہ درجۃ الصائم القائم ‘‘ ( رواہ ابوداؤد : ۴۷۹۷، وصححہ البانی ) کہ انسان دن بھر روزہ رکھنے او رقیام اللیل کرنے والے کا ثواب اپنے اچھے اخلاق سے حاصل کرلیتا او رروز قیامت کے میزان میں سب سے بھاری چیز اخلاق حسنہ کو قراردیتے ہوے فرمایا :’’ مامن شئی اثقل فی میزان المومن یوم القیامۃ من حسن الخلق وان اللہ یبغض الفاحش البذی‘‘ ( رواہ الترمذی : ۵۶۳۲، وصححہ البانی ) ۔ اسی طرح آپ ﷺ فرماتے ہیں :’’ واللّٰہ لایومن واللّٰہ لایومن واللّٰہ لایومن ‘‘ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا ہے یہ بات آپ ﷺنے تین مرتبہ فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون ہے آپ ﷺنے فرمایا جس کی ایذا سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔ مذکورہ بالا احادیث سے اخلاق کی اہمیت وفضیلت بالکل واضح وعیاں ہوجاتی ہے مگر افسوس کہ جب ہم اپنے معاشرہ میں نظر ڈالتے ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ ہمارا معاشرہ برائیوں او راللہ کی نافرمانی سے پراگندہ ہوچکا ہے اور اس میں بسنے والے لوگ اپنے اخلاق وکردار کوگندہ کر کے حیوانی صفت اختیار کرچکے ہیں نبی کریم ﷺ نے اسلام کے پاسبانوں کو توحید کے درس کے بعد جو دوسرا درس دیا وہ یہ ہے کہ اللہ او راس کے رسول اکرم ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے نافرمانی سے اجتناب کرنے کی ہمیشہ کوشش کریں کیوں کہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے 🙁 واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واحذروافإن تولیتم فاعلموا انما علی رسولنا البلاغ المبین)( سورۃ المائدۃ : ۹۲) او رتم اللہ کی اطاعت کرتے رہو او ررسول کی اطاعت کرتے رہو او ر نافرمانی سے ڈرتے رہو او راگر تم نے اعراض کیا تو جان لو کہ ہمارے رسول کی ذمہ بس صاف صاف پہچادنیا ۔
ایک دوسری جگہ رب کائنات نے ارشاد فرمایا ’’ یایھا الذین آمنواأطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول ولا تبطلواأعمالکم ‘‘ ( سورۃ محمد :۳۳) اے ایمان والو ! اللہ او راس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو اسی طرح ہمارے لیے بے حد ضروری ہے کہ کتاب اللہ وسنت رسول کا مطالعہ کریں کیوں کہ اللہ تعالیٰ او راس کے رسول اکرم کے احکامات قرآن مجید او رحدیث کی کتابوں ہی سے پتہ چلیں گے۔ او ریہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی محمد ﷺ نے اپنی امت کو انہی دوچیزوں کو مضبوطی سے تھا منے کی وصیت کی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ترکت أمر ین فیکم لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتا ب اللہ وسنتی ولن یتفقرقا حتی یرد علی الحوض ‘‘ ( وراہ الحاکم : ۱۳۱۹، وحسنہ البانی) میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑتا ہوں ، تم جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک کتاب اللہ یعنی قرآن مجید او ردوسری میری سنت او ریہ دونوں کبھی جداجدا نہیں ہو ں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گے۔ جو کوئی ان دونوں چیزوں کی پیروی کرے گا وہ شخص کبھی بھی دنیا میں ذلیل وخوار نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ اولین اسلام کے باسیوں کو کسی نے ذلیل ورسوا نہیں کرپایا لیکن آج انہیں سے تعلق رکھنے والے مومنین کے اوپر ظلم زیادتی کا پہاڑ توڑا جاتا ہے ۔ ان کو دنیا بھر میں بدنام کیا جاتا ہے۔اس کے پیچھے وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے کتاب اللہ او رسنت رسول ﷺ کو مکمل طو رپر ترک کردیا ،مغربی تہذیب کو اپنے اندر بسالیا اور اپنے اندر ایمانی جذبہ کو بالکل ختم کر دیا ۔

اسلامی معاشرہ کی خصوصیات

اسلامی معاشرہ کے خصوصیات وصفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اس کے بسنے والے آپس میں متحد ہوتے ہیں ان میں فرقہ پرستی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے وہ ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں او رایک ہی نبی محمد ﷺ کی اتباع کرنے والے ہوتے ہیں او رایک ہی کتاب کو دستور حیات بنانے والے ہوتے ہیں او راگر اس کے مابین کسی مسئلے پر اختلاف ہوتا ہے تو وہ اس کو کتاب وسنت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے اند رتمام ایمان والوں کو متحد رہنے کا حکم دیاہے اور فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے منع فرمایا جیسا کہ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے ( واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم أعدا ء فألف بین قلوبکم فأصبحتم بنعتہ اخوانا) ( سورۃ آل عمران : ۱۰۳) تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں مت بٹو، او راپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یادکرتے رہو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ومحبت پیدا کردی او رتم ا س کے فضل واحسان سے بھائی بھائی بن گئے ۔
اسی طرح اسلامی معاشرہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں پرورش پانے والے ایک دوسرے کا تعاون ومددکرتے ہیں او راگر اس میں کوئی شخص بیما ر ہوتے تو اس کی عیادت کرتے ہیں او رایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں ،مگر آج ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ترقی کے منازل طے کرتے ہیں تو دوسرے مسلمان ہمیشہ اس کے استحصال کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی ترقی راس نہیں آتی ہے ۔ جب کہ اللہ رب العالمین نے ایک دوسرے کی مددکرنے اور ایک دوسروں کا تعاون کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے : (وتعاونوعلی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ) ( سورۃ المائدۃ : ۲) تم نیکی او رتقوی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گنا ہ وزیادتی پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ ا س کے برخلاف ہے ، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ بغض وحسد ولڑائی جھگڑا میں لت پت نظر آتے ہیں ۔ انسان اس نایاب اخلاقی زیورسے راہ فرار اختیار کرلیا ہے جس کو نبی ﷺ نے سیکھایا تھا ۔اسی طرح اس کے پاس حیا نام کی کو ئی چیز نہیں او رجس معاشرہ میں حیا نہ ہو وہ کبھی بھی ترقی کی راہ کوحاصل نہیں کرسکتا جیسا کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ’’ الحیاء خیر کلہ‘‘ یعنی ساری حیا خیر ہے ۔
لہٰذا ضرورت ا س بات کی ہے کہ ہم اپنے آپ میں بیداری لائیں او راپنے اخلاق کو سنوارنے کی ہمیشہ کو شش کرتے رہیں اور اپنے اندر اتحاد پید اکریں او رالفت ومحبت اللہ کے واسطے پید اکریں کیو ں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ من احب للہ وابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان ‘‘ (رواہ ابوداؤد: ۴۶۸)جس نے االلہ تعالیٰ کے لیے محبت کی او راللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھا او رجس نے اللہ کے لیے دیا او راللہ کے لیے روکا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا ۔
معاشرہ کو صالح او رتہذیب یافتہ بنانے کے لیے ضرورت ہمیں اپنا کردار او رکریکٹر درست کرنا ہوگا ایک دوسرے کے تعاون کرنا ہوگا مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہوگا او راپنے اندر الفت ومحبت پید ا کرنا ہوگا ۔

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

اساتذہ کی ذمہ داریاں

admin

تربیت اولاد میں ماں کا کردار

admin

اسلام میں خدمت خلق کا تصور

admin

Leave a Comment