مونس دہلوی : شخصیت اور شاعری - Taimy Portal
اکتوبر 16, 2019
اردو ادب

مونس دہلوی : شخصیت اور شاعری

Read Time2Seconds
محمد صادق جمیل تیمی
خاکسار و ملنسار ،حق گو ،صداقت و سچائی کے حامل ،صبر و استقامت کے پیکر ،مومنانہ صفات کے علم بردار ،زندگی کے بہت سارے بحرانوں و مصائب کو اپنے لبوں کی مسکراہٹ سے دور کرنے والے عظیم شاعرجن کا نام خواجہ قطب الدین مونس دہلوی ہیں ۔آپ نہ صرف اپنی شاعری کے ذریعہ سماج کے اخلاقی زوال کو اجاگر کیا بلکہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دی ۔گرچہ گردش ایام نے آ پ کی حالات کو پتلی کر دی تھی لیکن آپ کے اشعار میں جدت و شعریت کا عنصر بدرجہ اتم ملتا ہے۔
خواجہ خاندان کی طرف منسوب ہے ،اصل نام قطب الدین اور مونس تخلص ہے ۔سرکار ی دستاویز کے مطابق آپ کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۳۶ ء میں ہوئی ۔آپ کے والد منشی محمد انتظام الدین اور دادا حافظ منشی عبد الرحیم تھے ۔آپ کے داد ا منشی عبد الرحیم ریاست تاجپور ضلع بجنور ’جو کسی وقت مغلوں کی توجہ کا مرکز تھی ،کے علاقے میں آباد ہوگئے ،جب وہاں انگریزوں کی بالا دستی قائم ہوئی تو وہاں آباد مسلمانوں کو چھوٹے موٹے عہدے و مناصب ہاتھ آے ۔خواجہ صاحب کے دادا مختار عام کے عہدہ پر فائز ہوے ،سکونت کے لیے قصبہ چاند پور ضلع بجنور منتقل ہوے، لیکن وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی جس کی وجہ سے دہلی منتقل ہوگئے اور تا دم حیات یہیں کے ہو کر رہ گئے ۔خواجہ صاحب ابھی بچپن ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا ۔بڑے بھائی محمد ریاض الدین رحیق کی سرپرستی میں تعلیم و تربیت پائی ۔بڑے بھائی اعلی تعلیم یافتہ ڈبل ایم اے تھے ۔سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے ،گانکریس کے ساتھ وابستہ رہے ۔جد و جہد آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیے۔گاندھی جی کی ’’بھارت چھوڑو تحریک ،،کے مجاہدانہ کوششوں میں بھی شامل رہے ۔خواجہ صاحب مکتب میں حروف شناسی کے بعد پرائمری اسکو ل میں داخلہ لیے ،یہاں سے فارغ ہونے کے بعد میڈل اسکول کی تعلیم مکمل کی اوراعلی تعلیم کی غرض سے مسلم علی گڑھ کا رخ کیا وہاں سے ادیب ،ماہر اور کامل کا امتحان پاس کیا ۔تعلیمی مراحل سے فراغت کے بعد امور خانہ داری میں مصرو ف ہوگئے اور تجارت کے پیشہ سے جڑ گئے ۔تاہم شروع ہی سے شعر وشاعری سے خاصی لگاو رہا ،مشاعرہ و ادبی محفلوں میں شرکت کرتے تھے ،خاص طور پر طرحی مشاعروں میں شرکت کرتے اور اپنے کلام سنا کر سامعین سے داد و تحسین لیتے، اس طرح سے مشاعروں میں کثرت سے جاکر اپنا ذوق کو مزید نکھارا و سنوارا ۔اپنے ہم عصر اردو کے بہت ہی عظیم شاعر اور جید عالم دین مولانا عبد الحکیم اعظمی اور فضا ابن فیضی جیسے استاد العصرکے آگے اصلاح شعر کے لیے زانوے تلمذ تہہ کیے ،ان کے منہل شافی سے آپ نے اپنی شعری تسنگی بجھائی اور شاعری کو خوب خوب پروان چڑھایا۔
مونس دہلوی کو جب کتب بینی کا شوق پیدا ہوا تو آپ نے اپنے خاندان کی علمی وراثت کو برقرار رکھتے ہوے عقیدہ توحید اور قرآن و سنت کے مطالعہ کی جانب اپنی خصوصی توجہ مبذول کی ،جس کا عکس آپ کی شاعری میں بیشتر جگہوں میں ملتا ہے ۔آپ پوری عمر قرآن و سنت کے شیدائی ،عامل بالسنہ کے علم بردار رہے ۔عقیدہ توحید کی جھلک آپ کے اس شعر میں دیکھی جا سکتی ہے کہ 
       تیرا عروج اسی پر ہے منحصر مونس
      ہو تیرے فکر کی حد لا الہ الا اللہ
اردو کی اصناف شاعری میں نعت النی ﷺ ایک ایسی مشکل و دشوار گزار صنف ہے جس کی باریک بینی ہر کس و ناکس کے تصور سے بالاتر ہے۔اچھے اچھوں نے اس میں بہت سارے گل کھلاے ہیں ،خالق کو مخلوق اور مخلوق کو خالق کی جگہ میں لا کھڑا کر دیا ہے ۔دیگر شعرا کی طرح مونس صاحب نے بھی نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی سے اپنی محبت و عقیدت کا کھل کر اظہار کیا ہے بلکہ یو ں کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ آپ نے اس صنف کو ایک نئی جہت بھی دی ہے جس سے دانا و عقل مندوں کی آنکھیں کھل گئیں اور یہ سمت نئی نسل کے لیے مشعل راہ بھی ثابت ہوئی ۔نمونے کے لیے چند اشعار ملاحظہ ہوں  ؂
        دشمن جاں بھی فداے ذات رحمت ہو گئے
       آپ کے لطف و عنایت کا تھا ایسا آئینہ
      حشر میں تیر ے کام آے گا ضرور
     شافع محشر کی الفت ہے اک ایسا آئینہ
                           ۔۔۔۔۔
     رحمت للعالمین کا دیکھیے خلق عظیم
    لوگ پتھر اچھالیں ،پھول برساے رسول
خواجہ مونس کی یہ بڑی خوش قسمتی رہی کہ انہیں شروع ہی سے ایک مشہور و معروف عالم ،قادر الکلام شاعر عبد الحکیم مجاز کی ہم نشینی کی سعادت نصیب ہوئی ۔اچھی صحبت مل جانے سے زندگی میں مزید نکھار اور رونق آگئی ،اس سے آپ نے اپنے فن کو خوب خوب پروان چڑھایا ۔اس پر بھی مستزاد یہ ہے کہ آپ کو مؤ کے کہنہ مشق شاعر بھی مل گئے جس سے شاعر ی کی خوب آبیاری کی ۔لیکن دوسری طرف غم اس بات کی ہے کہ مونس صاحب کو ہمیشہ فکر معاش دامن گیر رہی، لیکن ان نامساعد حالات میں بھی اپنے فکر و فن کو جاری رکھا ، چوں کہ آپ کو بخوبی معلوم تھا کہ فن شاعری وہ صنف سخن ہے کہ یہ کل وقتی کا تقاضا کرتا ہے اگر کوئی شخص اسے تفنن طبع کے لیے اختیار کرتا ہے تو یہ اس کی بڑی بھول اور نادانی ہے ۔کثرت مصائب و مشکلا ت کے باوجود بھی مونس صاحب شاعری کی زلف و کاکل کو سنوارتے رہے ،آپ کے پاے ثبو ت کو دراڑ تک نہ آئی ۔آپ نے اسی احساس کو خوب صورت شعری قالب میں ڈھالا ہے  ؂
        غم و اندوہ کے ماحول میں جینا بھی آتا ہے
       بہر صورت ہمیں یہ زہر ہر جاں پینا بھی آتا ہے
                                ۔۔۔۔
      ناز ہے اپنے جنوں کی بے لباسی پر ہمیں
      ہم کسی کے جیب و داماں پر نظررکھتے نہیں
شعرا کی زندگی ،شاعری کے مزاج اور اس کی عام چلن و روش کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس راہ کے راہرو عشق و عاشقی ،گل و بلبل ،زلف و کاکل ،اپنے ممدوح کی مدح سرائی و تعریف اور یاروں کی قصیدہ خوانی کی وادیوں میں گردش کرتے ہیں ۔بغیر اس کے شاعری کا تصور ہی نہیں کرتے ۔ان سب سے قطع نظر مونس کی شاعری میں عدم تحفظ انسانیت ،سماجی اقدار کی کمی ،ظلم و ستم کی فراوانی ،معاشرتی و اخلاقی بگا ڑ اور نوجوانوں کی بے راہ روی کا شکوہ نظر آتا ہے ،حق گوئی کا عمدہ مظہر و نمونہ ملتا ہے ۔آشوب روزگارکا شکوہ بھی ان کی فکر کا خاص موضوع ہے ۔شہر آشوب بھی لکھتے ہیں اور اخلاقی زوال کا ماتم بھی کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہوں چند اشعار  ؂
         انسانیت کی ساری قدریں بدل گئیں
         اب ادعاے پاکی داماں نہیں رہا
                            ۔۔۔
       مونس نے حرف حق کو سردار کہہ دیا
      ڈرتا نہیں وہ کسی ساہ و سپاہ سے
                           ۔۔۔
حالات کی گردش نے بدل ڈالی ہیں قدریں
پہلی سی کوئی بات ہی دنیا میں نہیں ہے
مونس صاحب نہ صرف مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ یاد دلاتے ہیں بلکہ انہیں وقت و حالات کے دوش بہ دوش چلنے کی تلقین بھی کرتے ہیں ۔رفتار وقت کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھالنے کا درس بھی دیتے ہیں ۔ فکری جمود و تعطل کی کھل کر مخالفت بھی کرتے ہیں  ؂
          وقت کی رفتار پیچھے چھوڑ جاے گی ہمیں             ہم اگرحالات پر گہری نظر رکھتے نہیں
?   مزید مطالعہ کے لیے رجوع فرمائیں کتاب ” کلیات مونس دہلوی،  از : رفیع اللہ مسعود تیمی 

    
مونس دہلوی کی تصویر
0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

بہار میں اردو کی صورتحال : ایک جائزہ

admin

Leave a Comment