نوجوانوں کی بے راہ روی: اسباب و علاج

محمد صادق جمیل تیمی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اقوام کے عروج وزوال میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ سرفہرست رہا ہے ، کوئی بھی انقلاب خواہ مادی ہویا روحانی ، تعمیری ہویا تخریبی مسلم نوجوانوں کی شمولیت وشرکت کے بغیر ناقص واد ھورا ہے ۔ نوجوان سماج ومعاشرہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، کسی بھی صالح معاشرہ کی تشکیل میں نوجوان کا کردار اہم ہوتا ہے ، اسلامی تاریخ نوجوانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں کیوں کہ ان میں کام کرنے کا ولولہ ،جوش وجذبہ ، قوموں کے اندر انقلاب ،پہاڑوں سے ٹکرانے اور مصائب ومشکلات کے سامنے سینہ سپرہونے کا جذبہ وحوصلہ رہتا ہے ،یہ میدان عزم ورزم اور جہاد فی سبیل اللہ کے شہشوار ہوتے ہیں ، جب ان کا دینی شعور ، ملی غیرت وحمیت بیدارہوتی ہے تو ملک ، مذہب ،صوبہ او رچھیتر کی قسمت جاگ جاتی ہے او رتاریکیوں سے تجلی جلوہ گرہوتی ہے ۔ علامہ اقبال نوجوانوں کی عظمت اور مقام ومرتبہ شعر کی لڑیوں میں یوں بیان کرتے ہیں ؂
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
                     **************
جن سے جگر میں لالہ ٹھنڈ ک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
لیکن عصر حاضر میں ہم اپنے نوجوانوں کے اوپر بغور نظر ڈالتے ہیں تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نوجوان راہ حق سے بھٹک گئے ہیں ، جہاں ایک طرف وہ اللہ کی رسی کو چھوڑ چکے ہیں ، مومنانہ جذبہ او رطرز زندگی سے کوسودور ہیں ، ان کے اندر ایمان کی کمزوری سماچکی ہے تودوسری طرف برے اخلاق وکردار ، غلط چال چلن ، بزرگوں کا عدم احترام ، زناکاری ، فحاشی، عریانیت او ربے حیائی غرض کہ اس سے بھی بدتر برائیاں خواہ اخلاقی ہوںیا سماجی ان کے اند رجنم لے چکی ہیں ۔آج نوجوان کا طبقہ اپنی بامقصد زندگی کی شرعی حدود وقیود سے بالا تر ہو کر غفلت وسستی کی نیند سورہے ہیں ۔ انہوں نے مذہبی بندشیں اپنے اوپر سے ہٹالی ہیں ۔ دورحاضر کے ماحول نے انہیں اس قدر اپنے رنگ میں ڈھال لیا کہ ان کے اندر حق وباطل ، اچھائی او ربرائی کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت باقی نہیں بلکہ اگر یہ کہا جاے کہ وہ مغربی تہذیب وتمدن کا دلدادہ اور فریفتہ ہو کر اپنی بھلائی تصور کرتے ہیں توبالکل بے جانہ ہوگا۔
عصرحاضر کامشاہدہ بتا تاہے کہ مسلم نوجوانوں کے اندر اس قدر مغربیت غالب آچکی ہے کہ پینٹ کا نچلا حصہ اتنا لمبا کہ وہ صفائی کا کام دے او ربالا ئی حصہ اس قدر چست اور چھوٹا کہ کمر کے نیچے کاحصہ کی گہرائی نظر آئے او رجب ان کو ایسا لباس پہننے سے روکا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ایک اسٹائل وفیشن ہے ’’ لاحول ولاقوۃ‘‘! دیکھا آپ نے شیطان کا جادو کتنا موثر ثابت ہوا ، ادھر شرمگاہیں کھول دیں ادھراللہ کی رحمت سے دور جس کو رحمان نے عدومبین کہا اس کواپنا ولی حمیم بنایا۔ اس میں بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ ! جس شیطان کے شب وروز کا مشن یہ ہو کہ بے حیائی اور فحش کام کروائے ، آپس میں بغض ونفرت ، افتراق وانتشار پیدا کروائے ، اس کو آپ مونس اور غمخوار سمجھیں او رجو اللہ تمہیں بھلائی کا حکم دے او رتمہارے لیے اچھا اچھا لباس اتارے ، زینت کے لیے ، ستر پوشی کے لیے بھی ،اس سے وحشت ودوری !!! اللہ کتنا پیار بھرا لہجہ میں فرمایا ہے( یابنی آدم قد أنزلناعلیکم لباسا یواری سوآتکم وریشا ، ولباس التقوی ذلک خیر ، ذلک من آیت اللہ لعلھم یذکرون)( الأعراف : ۲۶) اے بنی آدم ! ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا ہے ، جو تمہارے شرمگاہوں کو چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے، اور تقوی کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے ،یہ اللہ کی نشانیو ں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد ر کھیں ۔ اے اولاد آدم ! شیطان تمہیں خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کر ا دیا ۔ ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتر وادیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرمگاہیں دیکھائیں ، وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دبالیتے ہیں کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو شیطان کو ان ہی لوگوں نے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے (آیت :۲۷) یہ توتھا شیطان کا کارنامہ کہ آدم وحوا کوجنت سے نکلوادیا اور بے ستر کیا ، مزید یہ کہ اللہ رب العالمین نے روزِ قیامت نظرکرم سے بھی دوری پیدا کردی، جیسا کہ فرمان رسول ﷺ ہے ’’ ثلاثۃ لا یکلمھم اللہ یو م القیامۃ ولا ینظر الیھم ولا یزکیھم ولھم عذاب ألیم ثلاثۃ قال خابوا وخسر وا، من ھم یارسول اللہ؟ قال المسبل والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب ‘‘ (رواہ مسلم ) تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا نہ رحمت کی نظر سے انہیں دیکھے گا اورنہ انہیں پاک کرے گا او ران کے لیے دردناک عذاب ہوگا راوی بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا وہ نامراد ہوے اور گھاٹے میں رہے یا رسول اللہ ! کون لوگ ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا ، احسان کرکے جتلانے والا اور اپنا سامان جھوٹی قسم کے ذریعہ بیچنے والا ۔ اس سے واضح ہوا کہ شلوار ، پائجامہ، پتلون یا تہبند وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام ہے ۔
دوسری چیز جو مسلم نوجوانوں کے اندر فیشن او رنمائش کے طورپر جڑپکڑ رہی ہے وہ ہے ناخن کا بڑھانا وغیرہ جو دیگر قوم کی مماثلت ومشابہت اختیار کرنا ہے ۔ انہیں معلوم نہیں کہ فطری چیزوں میں ایک یہ بھی ہے کہ ناخن کو تراشا جائے ،نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں فطری ہیں ان میں سے ایک ’’تقلیم الأظفار ‘‘ (ناخن تراشنا) بھی ہے ( متفق علیہ)سچ ہے کہ:
وضع میں تم ہو نصاری توتمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
آج ہمارے مسلم نوجوانوں میں ایک اوربرائی پائی جاتی ہے وہ ہے منشیات ، جس میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور قسم قسم کی نشہ آورچیزوں کا استعمال کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جب کہ اللہ رب العالمین نے اس کے استعمال کو حرام قرار دیاہے :(یاایھاالذین آمنوا إنماالخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون )(سورۃ المائدہ : ۹۵) اے ایمان والو! شراب ، جوا، استھان، اور فال نکالنے کے پانسے یہ سب گندی باتیں ہیں ، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ تھلگ رہو تاکہ فلاح یاب ہوجاؤ۔ لیکن آج انہیں نوجوانان امت محمدیہ کا کہنا ہے کہ نشہ آورچیزتھوڑا بہت استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں یعنی اتنا استعمال کے بعد عقل اور شعور زائل نہ ہو جب کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا :’’ ماأسکر کثیرہ فقلیلہ حرام ‘‘ ( صحیح الجامع : ۵۵۳۰)۔ یعنی جس چیز کی کثرت او رزیادتی نشہ آور ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے ۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا :’’ کل مسکر حرام ‘‘ ( رواہ مسلم ) ہر نشہ آورچیز حرام ہے ۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ خودمنشیات سے بچیں اور معاشرے کو سدھارنے کی کوشش کریں ، خصوصا ہماریمسلم نوجوان کو اس پر دھیان دیناچاہئے اور اس سے بچنا چاہئے ۔
مسلم نوجوانوں کی بے راہ روی کا ایک اہم سبب والدین کی غلط تربیت ہے۔ والدین بچے کو جوراہ دکھائیں گے وہ راہ بچہ اپنائے گا ، بچہ کے ہوش سنبھالتے ہی بچہ کا واسطہ والدین سے پڑتا ہے ، پہلا مکتب بچہ کا والدین ہوتا ہے ، اس کے سادہ ذہن کے اوراق پر سب سے پہلے ان کے والدین ہی کا کردار ہوتا ہے ، لیکن والدین بھول جاتے ہیں او ربچوں کے سامنے لڑتے جھگڑتے او رگالی گلوج کرتے ہیں ، بزرگوں کا عدم احترام ، جھوٹ ، عیاشی، مکاری غرض کہ اس سے بھی بڑھ کر گناہوں کو ان کے سامنے کرتے ہیں ، اور پھر کچھ بڑے ہونے کے بعد بری صحبت انہیں بگاڑ کے رکھ د یتی ہے ۔ آخر میں کیا صلہ ملتا ہے کہ بچہ گالی گلوج ، ظلم وستم ، بے حیائی ، غلط ذہن سازی او ربری صحبت لے کر جوان ہوتا ہے ، ان کے د ل میں سماج کی خدمت، بزرگوں کااحترام ختم ہوجاتا ہے ، مذہبی کام سے کوسوں دورہوجاتا ہے ، ظاہر سی بات ہے کہ ایسا نوجوان والدین کی غلط تربیت او ربرے صحبت کے نتیجے میں اپنے دین ، سماج ومعاشرہ اور امن امان کا دشمن بن جاتا ہے ۔
آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں وہ اکیسویں صدی کا دور ہے جو ترقی یافتہ زمانہ کہلاتاہے کیوں کہ جس کام کو ہم مہینوں میں کرتے تھے اسے اب منٹوں او رسکینڈوں میں کرلیتے ہیں ، موبائل ،ٹیلی ویژن کی اہمیت وافادیت سے کس کو انکا رہے ؟ آج وہی نئی نسل کے لیے جزء لاینفک ہے ، جہاں موبائل کے بہت سارے مثبت نتائج ہیں،ِ وہیں اس کے کچھ برے اثرات ہماری نئی نسل کو راہ راست سے ہٹا کر ان کے افکار وخیالات کو مغرب زدہ کردیے ہیں ، اس نے ہماری نئی نسل کو نہایت قلیل مدت میں بے سمت او راوباش بنا دیا ہے ،لہوولعب ، عیاشی ، او رفحاشی کے غیرمعمولی جنون میں غرق کردیاہے ۔ اسی طرح کھیل کو دمیں بھی اپنے وقت کو ضائع کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ گویا اسے عید اور تہوار سے بڑھ کر خیال کرتی ہے ، یہاں تک کہ آپ اگر کسی گلی کوچے سے گزریں گے اور وہاں پر نوجوانوں کی بھیڑہوتوضرور ان کے درمیان کرکٹ کے رموز مسائل پر ماہر انہ گفتگوکرتے ہوے پائیں گے۔یہ کچھ اہم اسباب ہیں جن سے نوجوان بے راہ روی کے شکار ہوتے ہیں ۔ اب ہم ان مسائل کاحل شریعت اسلامیہ کے تناظر میں تلاش کرتے ہیں تاکہ نوجوانوں کی دین سے بے راہ روی کا سدباب ہوسکے ۔
صالحین ومقررین اور مربیین کی ایک جماعت وگروہ تیارہو او رمسلم نوجوانوں کوان کی حقیقت، ان کی ذمہ دار ی او ران کی جوانی کی اہمیت اوراس کے صحیح استعمال کو ہر ممکن طورپربتانے کی کوشش کریں۔ یقیناًنتیجہ مثبت میں آئے گا کیوں کہ بہت سے نوجوان ایسے ہیں کہ وہ اپنے دین ، ایمان ، اپنی ذمہ داری او رجوانی کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ ایسی صورت میں ہمارے مسلم نوجوان نہیں بگڑیں گے توکیا ہوگا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں سمجھا یا جائے، وعظ ونصیحت کو سننے کے عادی بنایا جاے اور انہیں ان کی ذمہ داری ادا کرنے کی ہرممکن کوشش کرائی جائے ۔
ہم خیر امت ہیں او رخیر امت کا فرض بنتا ہے کہ ’’ امربالمعروف ونہی عن المنکر ‘‘ پر عمل کرتے ہوے جلسہ جلوس ، محاضرات او ردرس کا اہتمام کریں ، ہم اپنے نوجوانوں کو بھلائی کا حکم دیں او ربرائی سے روکیں جیساکہ نبی ﷺ نے ارشادفرمایا :’’ من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانہ فإن لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الإیمان ‘‘ (رواہ مسلم : ۴۹) اس حدیث پر عمل کرتے ہوے ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں یقیناًان شاء اللہ ہمارے نوجوان کی اصلاح ہوگی ۔

3 thoughts on “نوجوانوں کی بے راہ روی: اسباب و علاج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے