روزے کی فضیلت

صادق جمیل تیمی

روزہ رب العزت کی جانب سے عطا کردہ مومنوں پر وہ بیش بہا نعمت ہے جس میں انسانی نفس ،ذہن، عقل اور دل کی صفائی ،ستھرائی و پاکیزگی کا راز مضمر ہے ۔مجاہدہ نفس و مصابرہ جسم کا ایک سنہری موقع ہے ۔اس سے انسان کو احساس ہوتا ہے کہ سماج میں بسے غریب طبقہ کس طرح اپنے پریشانیوں کے ایام کو کاٹتے ہیں ،مشکلات و مصائب کا کس صبر و تحمل سے مقابلہ کرتے ہیں اور اپنی بھوک و پیاس کو برداشت کرکے زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں ۔مومنوں پر روزہ یہ سالانہ ٹیکس کے طور پر ہے سال کے اکثر دن انسان سستی وغفلت اور تساہلی میں رہتے ہیں لیکن رمضان کی آمد ہوتے ہی ان کی ظاہر ی و باطنی کیفیت بدل جاتی ہے ۔زندگی میں ایک قسم کی نشاط و سرگرمی آجاتی ہے جس سے روحانیت پر خاصا اثر پڑتا ہے ۔
روزہ لغت میں ’’رک جانے ،، کو کہتے ہیں ،گفتگو سے رک جانے کو قرآ ن حکیم میں ’’صوم ،،سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ سیدنا مریم کو اللہ تعالی نے کسی سے بات کرنے کے لیے منع کیا اور یہ تلقین کی کہ تم لوگوں سے کہہ دوکہ میں روزہ ہو ں،اسی مفہوم کے لیے لفظ ’’صوم ،،کا استعمال کیا گیا ہے ’’إنی نذرت للرحمن صوما ،،(سورۃ مریم :۲۶)عربی زبان میں بعض اوقات ’’قائم ،،کو صائم بھی کہتے ہیں اس لیے کہ روزہ دار کی طرح وہ اپنی جگہ ساکت رہتا ہے جیسا کہ نابغہ ذبیانی کا شعر ہے ؂
خیل صیام و خیل غیر صائمة 
         تحت العجاج و خیل تعلک اللجما
(غبار جنگ کے سایے تلے کچھ گھوڑے ثابت قدم (صائم )ہیں اور کچھ گھوڑے حرکت کرتے ہوے (غیر صائمہ )اپنی لگاموں کو چبا رہے ہیں )
اس سے واضح ہوگیا کہ صوم کا لغوی معنی بھی حرکت نہ کرنا یعنی برائیو ں کی طرف میلان نہ ہونا ۔اصطلاح میں روزہ کہتے ہیں’’انسان کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک نہ صرف کھانے پینے سے رک جانا بلکہ غیبت ،چغلی ،ایذا رسانی ،بیوی سے مباشرت اور ہر قسم کی برائی سے اپنے دامن کو بچا کر خدا کی حدود کے پابند رہنا ،،چوں کہ اگر ایک صائم حالت صو م میں جھوٹ و دروغ گوئی سے باز نہیں آتا ہے تو اس کے روزے کا اللہ کے ہاں کوئی تصور نہیں ’’من لم یدع قول الزور و العمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی أن یدع طعامه و شرابه ،،(بخاری )دوسری حدیث میں ایک روزہ دار کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ غیبت ،چغل خوری ،دروغ گوئی اور مکر و فریب سے پاک رہیں ،اگراسے کوئی گالم گلوج کرے تووہ اپنے آپ کو ’’صائم ،،کہہ کر اس سے چھٹکارا حاصل کریں ۔رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’إذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفث و لا یصخب فإنه سابه أحد أو قاتله فلیقل :إنی إمرء صائم ،، (متفق علیہ )
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح رمضان تمام مہینو ں میں سب سے افضل ہے اسی طرح روزے بھی تما م عبادتوں میں افضل ترین تو نہیں ہے البتہ افضل تر ضرور ہے ۔روزے کی اہمیت و فضیلت کو واضح کرتے ہوے شریعت اسلامیہ نے صاحب روزہ کے سابقہ گناہوں کی معافی کا پروانہ دیا ہے ۔ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ’’من صام رمضان إیمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ،،یعنی جس نے ایمان و نیکی کے ارادے سے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ،(بخاری :۱۹۱۰)روزے دار صبح سے لے کر غروب آفتاب تک کچھ کھاتا ،پیتا نہیں ہے اور نہ ہی غذائیت پر مشتمل کسی چیز کو حلق میں ڈالتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس کے منھ سے ایک قسم کی بدبو آنے لگتی ہے لیکن روزہ دار کے منھ سے آنے والی بدبو رب کریم کے نزدیک جنت کی سب سے اعلی قسم کی خوشبو مشک و عنبر سے بھی زیادہ فرحت افزا ہے جیسا کہ حدیث قدسی ﷺ میں ہے کہ ’’لخلوف فم الصائم أطیب عند اللہ من ریح المسک ،،روزے دار کے منھ کی بدبو رب کے نزدیک مشک و عنبر سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ،،(صحیح بخاری :۱۹۰۶)

اس سے بڑھ کر اور کیا فضلیت ہو سکتی ہے کہ روزہ دار کے منھ کی بدبو اللہ کے ہاں مشک و عنبر سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔
یو ں تو بندے کا ہر عمل كا اجر و ثواب اللہ تعالی ہی دیتا ہے لیکن تمام اعمال و عبادات میں روزے کو امتیازی حیثیت حاصل ہے جس کا اجر و ثواب خود اللہ تعالی ہی عطا کرتاہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’کل عمل ابن آدم له إلا الصیام فإنه لی و أنا أجزی به  ،یعنی ’ابن آدم ہر عمل اپنے لیے کرتا ہے مگر روزہ میری خاطر کرتا ہے اس وجہ سے اس کا بدلہ میں اسے دوں گا ،،(صحیح مسلم :۱۱۵۱)یعنی اللہ کے ہاں بندے کو اجر دینے کا جو عام ضابطہ ہے روزہ داروں کو اس سے مستثنی فرمایا کہ اس کو اللہ تعالی خصوصی جزا قیامت کے دن عطا فرماے گا جس کا علم صرف اسی کو ہے ۔

روزے دار حالت روزہ ایک قسم کی ظاہری و باطنی خوشی کا احساس کرتے ہیں اللہ ان روزے داروں کی خوشیوں میں مزید اضافہ کیا اور ان کی فضیلت کو دوبالا کیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ’’للصائم فرحتان یفرحهما إذا أفطر و فرح و إذا لقی ربه فرح بصومه ،کہ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں :ایک تو اس وقت جب وہ ہر شام افطار کرتا ہے تو اسے ایک خاص روحانی خوشی ہوتی ہے اور دوسرا موقع وہ ہے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے بہت خوش ہوگا ،، (بخاری :۱۹۰۶)
اس فرش گیتی میں کون انسان نہیں چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی کامیابی ملے ،آخرت کی کامیابی اللہ کی بنائی ہوئی جنت مل جانا ہے جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہو ں کہ جو شخص ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھے گا اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہوں کو بخش دے گا او رجن کے گناہ بخش دیے جائیں اللہ کی رحمت سے وہ جنت میں داخل ہوجاے گا ۔اس سے معلوم ہوا کہ روزہ جنت میں داخلہ کا سبب اور جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ’’من صام یوما فی سبیل اللہ بعد اللہ وجہه عن النار سبعین خریفا ،،جو اللہ کی رضا کے لیے ایک دن  کا روزہ رکھ لیتا ہے تو اللہ اس کی برکت سے ستر برس کی مدت کی مسافت تک آگ سے دور کر دیتا ہے ،،(صحیح مسلم :۱۱۵۳)
اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایک دن کا روزہ رکھنے والا آگ سے اس قدر دور مسافت تک ہوسکتا ہے تو پورے رمضان کے روزے رکھنے والا کتنا عظیم اجر و ثواب کا مستحق ہوگا ۔دوسری حدیث میں ہے کہ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’الصوم جنة من عذاب اللہ ،،کہ روزہ اللہ کے عذاب سے (بچاو کی )ڈھا ل ہے ،،(صحیح الجامع للألبانی: ۳۸۶۶)
اسی طرح روزے کی فضیلت میں سب سے بڑی و عظیم فضیلت یہ ہے کہ قیامت کے دن بندہ خدا کے لیے قرآن اور روزہ سفارش کریں گے ،روزہ کہے گا اے رب ! میں نے دن میں اسے کھانے پینے اور شہوات نفس سے روکے رکھا اس لیے اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ۔دوسری جانب قرآن کہے گا میں نے رات میں اسے بیدار رکھا اس وجہ اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ’’الصیام و القرآن یشفعان للعبد یوم القیامة. یقول :الصیام إنی منعته الطعام و الشہوات بالنهار فشفعنی فیه ،یقول القرآن :رب منعته النوم باللیل فشفعنی فیه فیشفعان ،،(صحیح الجامع الصغیر للألبانی :۳۸۸۲)یعنی ان کی بندے کے حق میں دونوں کی سفارش قبول کی جاے گی اورانہیں جنت میں داخل کر دیے جائیں گے ۔روزے دار جس جنت میں داخل ہوں گے وہ ’’ریان ،،نامی ،،جنت ہوگی ،حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن نمازیوں کو ’’باب الصلاۃ ،،سے بلایا جاے گا ،جو مجاہد ہے اسے ’’باب الجہاد ،،سے پکارا جاے گا اور جو روزے دار ہوں گے اسے ’’باب الریان ،،سے پکارا جاے گا ۔فرمان رسول ﷺ ہے کہ’’إن فی الجنة بابا یقال له :الریان یدخل منہ الصائمون یوم القیامة لا یدخل منه أحد غیرهم ،،(متفق علیہ ۶؍۱۲۱۸)
بعض لوگ رمضان اور روزے کی فضیلت ایک ہی پیمانے سے ناپتے ہیں لیکن دونوں کے مابین فرق ہے ۔فرق اس معنی میں ہے کہ روزہ رمضان کے مہینے میں رکھا جاتا ہے اور یہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کی وجہ سے اسے ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے اور رمضان قمری مہینوں میں سے ایک اہم مہینہ ہے جس کی بھی فضیلت قرآن مقدس میں وارد ہے ۔اسی رمضان کی ایک رات کی عبادت ہزار رات کی عبادت سے بہتر ہے ’’لیلۃ القدر خیر من ألف شہر ،،کی یہ فضیلت روزے داروں کے حصے میں بھی آتی ہے جو اس رات عبادت و ریاضت میں مصروف رہے گا اسے اس کے فیوض و برکات حاصل ہوں گے ۔کتنے بد نصیب ہے وہ شخص جو اس کی فضیلتو ں سے اپنی جھولی کو نہیں بھر تے ہیں او رکتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ان کی فضیلتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں کیوں کہ اس را ت جبریل علیہ السلام اپنے لاو لشکر سمیت بندگان خدا کو اپنے آقا کے حضور سر بہ سجو د دیکھنے کو زمین پر اتر آتے ہیں ’’تنزل الملائکة و الروح فیها بإذن ربه ،سلام ھی حتی مطلع الفجر ،،(القدر :۴۔۵)
مذکورہ روزے کی فضیلتوں و اہمیتوں سے یہ معلوم ہوا کہ روزہ نہ صرف خود برکت ہے بلکہ یہ اپنے صاحب کی ہر طرح کی حفاظت کا ضامن بھی ہے ۔روزہ جہاں جنت سے آزادی دلاتا ہے وہی بندگان رب کو ایک خاص جنت میں جگہ بھی دیتاہے ۔یہ صرف انسان کی ذاتی خوشی کا باعث نہیں ہے بلکہ ذات کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی خوشیوں کا سامان ہے ۔ایک انسان صبح سے شام تک بھوک و پیاس کو برداشت کر اپنے روزہ کو مکمل کرتا ہے وہی پر ایک روزہ دار کسی کو افطار کراتا ہے تو اللہ تعالی اسے اتنا ہی ثواب دیتا ہے جتنا روزہ رکھنے میں ہے ’’من فطر فیه صائما کان له مثل أجرہ غیر أنه لا ینقص من أجر الصائم شيئا،،( صحیح الجامع الصغیر للألبانی :۶۴۱۵)اللہ تعالی ہمیں روزوں کی فضیلتوں سے فیض یاب ہونے کی توفیق دے ۔(آمین)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے