روزے کی حکمتیں

صادق جمیل تیمی

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ مسلمانوں پر سایہ فگن ہونے والا ہے ،یہ ماہ خیر و برکت کا ہے ،یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی آخری مقدس کتاب قرآن مجید کو نازل فرمایا ۔اس کی ایک رات کی عبادت ہزار راتوں کی عبادت سے افضل و بہتر ہے ۔مومنوں کے لیے یہ نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔اس سے انسان کی ظاہر و باطن کی پاکیزگی ہوتی ہے ۔ہر چہار جانب اسلامی ماحول کا مکمل پرتو نظر آتا ہے ،ذکر و اذکار ،تلاوت قرآن کریم کی صدائیں کانوں میں روحانی رس گھولتی ہیں ۔چھوٹے چھوٹے معصوم کلیاں سر پر ٹوپی اور قدر چھوٹا کرتا پہن کر اپنے والد کے ہاتھ پکڑ کر مسجد کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں کتنا خوش نما و حسین منظر ہوتا ہے ۔الغرض رمضان ظاہری و روحانی تمام تر خوبیوں کا حامل ہے ۔
یہ ایک تردید انکار حقیقت ہے کہ اسلام کاکوئی بھی حکم حکمت سے خالی نہیں ،تما م احکامات کی الگ الگ حکمتیں بیا ن کی گئی ہیں تاہم روزے کی فضیلتوں و برکتوں کے پیش نظر اس کی بہت ساری دینی و دنیوی فوائد کے ساتھ ساتھ طبی و روحانی فوائد بھی کارفرما ہیں ۔ان میں سے چند ملا حظہ ہوں

حکمتیں

تقوی کا حصول

روزہ انسانی زندگی میں تقوی کے جوہر کو پیدا کرکے اس کے دل میں نورانیت و جلا دیتا ہے ،روزے کی فرضیت کی پہلی حکمت قرآن مجید کے اندر تقوی ہی بتایا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تفلحون ،،کہ روزے تم پر سابقہ امتوں کی طرح فرض کئے گئے ہیں تاکہ تم پرہیز گار و تقوی شعار بن جاو ،(البقرۃ : )گویا انسان روزے سے حاصل تقوی کو اچھی طرح بروے کار لاے تو اس کی زندگی یکسر بدل جاے گی اور ایک اسلامی و دینی زندگی بن جاے گی ۔روزے کی بہ دولت حاصل ہونے والا تقوی میں ایسی اسپرٹ ہوتی ہے جو حرام چیزوں کے قریب سے تو درکنار حلا ل و طیب چیزوں کے قریب بھی پھٹکنے سے روکتی ہے اس وجہ سے ہر مسلمان ایام روزے میں اس چیز کا خیال رکھیں اور خوب خوب فائدہ اٹھائیں ۔

صبر و تحمل کے مادہ میں اضافہ

روزہ اسلامی عبادات میں ایک ایسی عبادت ہے جس سے حضرت انسان کو صبر و تحمل کی ایک اچھی تربیت ملتی ہے ۔صبح صادق سے غروب آفتاب تک بھوک و پیاس کی شدت کو برداشت کرتا ہے اس کے اچھے نتائج زندگی کی مشکل گھڑیوں میں برآمد ہوتے ہیں اس وقت بغیر کسی ملال و پریشانی او ر چہرے پر شکن کے خندہ پیشانی سے مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے او رہر حالت میں اپنا رب کا شکر ادا کرتا ہے ۔

جذبہ ایثار

روزے سے ایثار و قربانی کے جذبے بھی پیدا ہوتے ہیں ،روزے کے ذریعہ اللہ تعالی اپنے آسودہ حال بندوں کو ان شکستہ اور بے سروسامان لوگوں کی زبوحالی سے آگاہ کرنا چاہتا ہے جو اپنے تن و جان کا رشتہ بہ مشکل بر قرار رکھتا ہے تاکہ ان کے دل میں سماج کی دکھی و مضطرب انسانیت کی خدمت کا جذبہ فروغ پاے ،ایک اسلامی معاشرہ وجو د میں آے جس کے اساس آپسی محبت و الفت ،درمندی و غم خواری پر ہو ۔

رضاے رب کا حصول

روزے کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے رب کا تقرب حاصل ہوتا ہے چوں کہ روزے کی حالت میں بندہ رب کی خوش نودی اور اس کے حکم کی بجاوری کر تاہے ۔اپنی چاہت و خواہشات پر رب کی چاہت و خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو رب بھی اس سے خوش ہوتا ہے اور اسے اجر عظیم عطا کرتا ہے ۔

ضبط نفس

روزہ انسانی خواہشات ،جنسی ہیجان ،اور شہوت نفس سے روکتا ہے ،حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے ان نوجوانوں کو روزے رکھنے کی تلقین کی ہے جو شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے لیکن اس کی خواہش ہو ’’ومن لم یستطع فعلیکم بالصوم فانہ لہ وجاء ،،کیوں کہ روزے نفسانی خواہشات کے لیے ڈھال ہے (متفق علیہ )

جسم کے نقصاندہ رطوبتوں کا ازالہ

یوں تو طبی لحاظ سے روزے کی بہت ساری حکمتیں بیان کی جاتی ہیں تاہم ان میں سے ایک اہم حکمت یہ ہے کہ روزے سے کھانے پینے میں کمی آتی ہے جس سے معدہ انسانی کو آرام ملتا ہے اسے تقویت مل جاتی ہے اور بہت سارے فضلات اور جسم کو نقصان پہنچانے والی رطوبتیں از خود خارج ہو جاتی ہیں ۔

فوائد

معصیات سے دوری

روزے کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ انسان طاقت و قوت رکھنے کے باوجود بھی اپنی محبوب غذا کو ہاتھ نہیں لگاتا ،دن میں بیوی سے مباشرت نہیں کرتا تو گویا رب کی خوش نودی کے لیے نہ صرف تمام معاصیات سے دور رہتا ہے بلکہ ان کے قریب بھی نہیں جاتا ہے ۔معاصیات سے قریب ہو ،برائی کرے تو ایسے روزوں کی رب کو ضروت نہیں ’’من لم یدع قول الزور و العمل بہ فلیس للہ حاجۃ فی أن یدع طعامہ و شرابہ ،،(بخاری )

کائنات میں غور و فکر

روزہ دل و دماغ کو کائنات میں غور و فکر پر ابھارتا ہے انسان آسودہ حال ہو تو اس سے اس کا دل سخت اور اندھا ہو جاتا ہے لیکن جب خالی پیٹ ہو تو اس سے قلب کو طاقت ملتی ہے ،دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور قساوت قلبی دور ہوجاتی ہے پھر دل اللہ کی یاد اور کائنات کی فکر میں لگ جاتا ہے ۔

خیر و برکت کا حصول

عام اوقات میں انسان سستی و کاہلی میں رہتا ہے لیکن رمضان کی آمد ہی سے اس کے اندر نشاط و حرکت آجاتی ہے ،نیکیوں کی باد بہاراں چلنا شروع ہو جاتی ہے ۔ہر فرد نیکی و بھلائی کے کاموں میں شرکت کرنے لگتا ہے اور خوب خوب نیکیو ں کو بٹورتا ہے ۔

نرم دلی میں اضافہ

روزہ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کتنا ہی سخت دل و بد مزاج ہو رمضان آتے ہی اس کے دل کے اندر نرمی پیدا ہوجاتی ہے اور اس ماہ میں لوگوں سے برتاو کچھ حد تک اچھا ہو جاتا ہے ۔

کردار کا ابھارنا

روز کے فوائد میں سے یہ ہے کہ مسموم فضا خوش گواری میں بدل جاتی ہے ۔لوگ اعلی اخلاق و کردار کے حامل ہوجاتے ہیں اور دوسروں سے بڑ ی خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں ۔آداب و سلیقہ آجاتا ہے ۔

نظام الاوقات کی پابندی

روزہ سے آدمی وقت کا صحیح استعمال ،نظام کی پابندی کا خوگر ہو جاتا ہے اس سے بدنظمی اور اپنے کا م سے غفلت و تساہلی دور ہو جاتی ہے ۔الغرض روزہ بہت سارے فوائد کا حامل ہے جن کا شمار ناممکن ہے ۔

آداب و سنن

سحری کااہتمام 

سحری کھانے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سحری کھاو اسی لیے کہ اس میں برکت ہے ’’تسحروا فان فی السحور برکۃ،،(متفق علیہ )سحری کھانے میں اہل کتاب کی مخالفت بھی ہے اس وجہ سے سحری کھانے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔سحری میں پانی کا گھونٹ یا عام اجناس غذائیہ کا استعمال کریں، اس سے جسم ترو تازہ رہتا ہے اور کمزوری نہیں آتی ہے ۔

افطار میں جلدی کرنا

جب یہ متحقق ہوجاے کہ سورج غروب ہو چکا ہے تو فورا افطار کر لینا چاہیے اسی میں کامیابی ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’لا یزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر ،،یعنی لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار جلدی کریں گے ،،(متفق علیہ )

افطار کھجور یا پانی سے کرنا

افطار کھجور یا پانی سے کریں اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطا رکریں رسول ﷺکا معمول تھا کہ آپ ﷺ رطب سے افطار کرتے تھے ،رطب نہ ہونے کی صورت میں تمرہ سے کرتے تھے اگر تمرہ نہ ہو تو آپ ﷺ افطار پانی سے کرتے تھے’’کا ن یفطر علی رطبات قبل أن یصلی فإنلم یکن رطبات فعلی تمرات فإن لم یکن حسی حسوات من ماء ،،(السلسلۃ الصحیحۃ ،مختصرۃ : ۲۸۴۰ )کھجور سے افطار کرنے میں اعصاب اور بصارت کو تقویت ملتی ہے جب کہ پانی سے جگر کو فائدہ ہوتا ہے ۔

افطار کے وقت دعا کرنا 

افطار کے وقت دعا کرنے کا اہتمام کریں کیوں کہ اس وقت کی دعا رب کے ہاں رد نہیں ہوتی ہے حدیث میں ہے کہ تین قسم کے لوگوں کی دعائیں رد نہیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک صائم کی دعا جب وہ افطار کرے’’ثلاثۃ لا تعد دعواتہم و منہم :الصائم حتی یفطر ،،(أخرجہ أحمد و صححہ ابن حبان وحسب رقم تخریج صحیح الترغیب: ۲؍۶۳ )

زبان و اعضا کو محرمات سے بچانا 

آداب صوم میں سے یہ ہے کہ زبان کو جھوٹ و چغلی سے بچاے رکھیں چوں کہ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہیں لیکن زبان کو برائیوں سے نہیں روکتے تو ان کا صرف روزہ رکھنا ہوتا ہے نیکیاں نہیں ملتیں ۔حدیث رسول ﷺ ہے ’’کم من صائم لیس لہ من صیامہ الا الظماء و کم من قائم لیس لہ من قیامہ إلا السہر ،،یعنی بہت سارے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو محض روزے ہی رکھتے ہیں اور شب بیداری کرتے ہیں اسے روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا (مشکاۃ المصابیح و صححہ الألباني : ۲۰۱۴)

روزے داروں کو افطار کرانا

روزے کے آداب میں سے یہ ہے کہ روزے داروں کو افطار کرایا جاے ۔اس سے آپسی مواخاۃ میں اضافہ ہوتا ہے اور افطار کرانے والے کو روزے داروں کے برابر ثواب ملتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’من فطر فیہ صائما کان لہ مثل أجرہ غیر أنہ لا ینقص من أجر الصائم شےئا ،ً،یعنی کسی شخص کو افطار کرانا روزے دار کے اجر برابر ثواب ملتا ہے ،،(ترمذی و حسنہ الألبانی )
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ روزہ نہ صرف ظاہر ی طور پر مفید و کارآمد ہے بلکہ اس سے انسان کا باطن بھی بدل جاتا ہے اس سے ہر قسم کی تبدیلی آتی ہے ۔انسان کے جسم سے بیماریوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔انہیں برکتوں و فوائد کو مدنظر کرکھتے ہوے تمامسلمان اس سے فیض اٹھاے ۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے ۔(آمین )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے