سود کی مذمتیں

صادق تیمی 
اللہ تعالیٰ نے جو نظام عدل وقسط اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے ۔ اس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ ساری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرماں برداری میں بسر کی جاے او ردوسرا تقاضا یہ ہے کہ بندے آپس میں محبت ،اخوت ،ایثار ، ہمدردی ، فیاضی او رامداد باہمی کے اصولوں پر زندگی گزاریں ۔ جبکہ سودی نظام کی فطرت یہ ہے کہ وہ انسان میں دشمنی ، نفرت ، خودغرضی ، مفاد پر ستی، شقاوت ، بے رحمی او رزرپرستی کی صفات پیدا کرتا ہے۔ یعنی سود پورے اسلامی نظام کی روح او راس کے اسلامی تشخص کو قتل کردتیا ہے اسی لیے اللہ نے سود خوروں کو اتنے شدید ترین الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ اہل شرک کے علاوہ دوسرے گناہ کے مرتکب کے لیے ایسے الفاظ بھی قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الذین امنوا اتقوا اللّٰہ وذرو ا مابقی من الربوا ان کنتم مومنین . فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللّٰہ ورسولہ ) (سورۃ البقرۃ : ۲۷۸۔ ۲۷۹) اے لوگو! جو ایمان لاے ہو خدا سے ڈرواور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی ہے اسے چھوڑ دو۔ اگر واقعی تم ایمان لاے ہو ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اگاہ ہوجاؤاللہ او ر اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔
سود خور جس طرح سے ایک ایک پائی کی خاطر اللہ تعالیٰ او ر اس کی مخلوق کے حقوق بھول رہا ہوتا ہے۔ اسے قریبی سے قریبی تعلق رشتہ داری او رقرابت کا بھی کوئی پاس یالحاظ نہیں ہوتا ۔ اس مال پر ستی کے باولے پن کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کھینچا ہے :(الذین یاکلون الربو ا لایقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطٰن من المس) (سورۃ البقرۃ : ۲۷۵) جو لوگ سو دکھاتے ہیں ۔ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے ۔ جسے شیطان چھوکر باؤلا کردیتاہے ۔
چنانچہ ہم اس حقیقت کی صداقت آج دنیا میں ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ امریکہ ،سوڈان او ردنیا کے دوسرے ممالک کے لوگ مالی اعتبار سے آسودہ اور خوش حال ہیں مگر ذھنی او رقلبی طور سے بے چین ہیں مالدار ہونے کے باوجود ان کی آنکھوں سے قلق، محرومی اور بد بختی نمایا ں ہے جبکہ معاشرتی او رنفسیاتی نقصانات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سود کو بڑے واضح الفاظ میں حرام قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (واحل اللّٰہ البیع وحرم الربوا)(سورۃالبقرۃ: ۲۷۵) اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام ۔سودی لین دین کی ہر وہ صورت جس میں نفع کی گارنٹی دے دی گئی ہو نقصان کا کوئی خطرہ نہ ہواور نفع کی ضمانت،اس کی حد بندی ہو حرام عمل ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے : (فمن جاء ہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ماسلف وامرہ الی اللہ ومن عاد فاولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون )(سورۃ البقرۃ : ۲۷۵) جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجاے تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ہے اس کامعاملہ اللہ کے حوالے ہے جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے وہ جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا آپ ﷺ نے سود کو سات ہلاکت خیز گناہوں میں شمار کیا ہے :’’ اجتنبوا السبع الموبقات قالو یا رسول اللّٰہ وماھن قال الشرک باللّٰہ وأکل الربا‘‘ ( رواہ البخاری ومسلم ) سات ہلاکت خیز گناہوں سے دورہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ وہ کون کون سے گناہ ہیں ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور سود کھانا زناکاری کرنا انتہائی قبیح اور غلیظ فعل ہے اور پھر کسی محروم رشہ دار کے ساتھ بالخصوص والدہ کے ساتھ زنا کرنا بڑے ہی خطرناک بھیانک اور قابل لعنت ونفرت حرکت ہے۔ شریعت اسلامیہ کی نگاہ میں سودخوری اس سے بھی کہیں زیادہ بڑبھیانک ہے ۔ رسو ل ﷺ نے فرمایا :’’ الربا ثلاثۃ وسبعون بابا ایسر ھا ان ینکح الرجل امہ وان أربی الربا عرض الرجل المسلم ‘‘ ( صحیح الجامعہ : ۳۵۳۹) سود کے تہتر درجے ہیں سب سے کم درجہ اس کا گناہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں سے نکاح کرلے اور سب سے بڑا سود کسی مسلمان آدمی کی عزت پامال کرنا ہے ۔ سود صرف وہی نہیں ہے جو سود لیتے ہیں بلکہ اس میں پوری سوسائٹی شامل ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ’’ اذا ظھر الزنا والربا فی قرےۃ فقد احلو بانفسھم عذاب اللّٰہ ‘‘ ( صحیح الجامع :۲۷۹) جب کسی بستی کے رہنے والوں میں زنا او رسود عام ہو جاے تو بلاشبہ انہوں نے خود اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر مسلط کرلیا ۔ سود اللہ کے نزدیک اس قدر قابل ملامت ولعنت ہے کہ اس کا روبار سے متعلق کسی معنی میں شرکت تعاون یا خدمت اللہ کو گوارہ نہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’ عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربا وموکلہ وشاھدیہ وکاتبہ وقال : ھم سواء‘‘ ( رواہ مسلم ) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا سود کھانے والے، کھلانے والے لکھنے والے ،او راس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے او رفرمایا یہ سب برابر ہیں ان حدیثوں سے معلوم ہواکہ سودکھانا ،کھلانااو راس کی گواہی وغیرہ سب حرام ہے او ریہ سب لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں یہ بھی معلوم ہواکہ سود کے مختلف مراتب ودرجات ہیں او رسب سے ہلکا درجہ گناہ میں اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرنے کے مترادف ہے ! اسی سے سود کی قباحت کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے اس لیے سود سے ہر مسلمان کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اور جس قوم میں زناکاری اور سود پھیل جاتا ہے تووہ اپنے آپ پر اللہ کا عذاب حلال کرلیتے ہیں او رسودکھانے والے کی کوئی دعاقبول نہیں ہوتی کیوں کہ وہ سود کھانے والا قبولیت سے محروم ہوکر اللہ تعالیٰ سے تعلق توڑ دیتا ہے او رجب اللہ سے ہی تعلق ٹوٹ جاے توپھر مشکلات میں انسان کے او رکون کون کا م آے گا ۔ جب سوداتنی بڑی لعنت ہے تو اس کی کمائی کھانے والا بالآخر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی شدید سزا سے کیسے بچ سکتا ہے ؟
سورۃ البقرۃ ۲۷۵؍ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا جو ایسی حرکت کر ے گا وہ جہنمی ہوگا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا آپ ﷺ نے حرام خوری پرپلنے والے گوشت کو آ گ کا مستحق قراردیا ہے فرمایا :’’لایدخل الجنۃ لحم نبت سحت والنار اولی بہ ‘‘( کتاب الاطعمۃ ص:۲۹۳) حرام خوری سے پیداہونے والا گوشت جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ جہنم کی اگ اس کے لیے بہت زیادہ مناسب ہے ۔ او رآپ ﷺ فرمایا : ’’لایدخل الجنۃ جسد غذی بحرام ‘‘ ( الصحیحۃ:۲۶۰۹) وہ جسم جنت میں نہیں جاسکتا جس کی غذا حرام کی ہو ۔ یہ ساری چیزیں آج کل روز مرہ کا واقعہ ہے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ لوگ فحش فلموں،گندے رسالوں ،سینماہالوں ، رقص گاہوں ٹھیٹروں،ہوٹلوں ،فیشن کی جگہوں ،بیوٹی پارلروں او ردیگر تمام مخرب اخلاق کا موں میں اپنے اوپر لگے ہوے سود کو ادا کرکے اپنے پاس اس حرام کمائی کا مزید حصہ پیدا کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ درھم ربایاکلہ الرجل وھو یعلم اشد عنداللّٰہ من ستۃ وثلاثین زمینہ‘‘ ( رواہ احمد، وذکر الالبانی فی الصحیحۃ : ۱۰۳۳) یعنی سود کا ایک درہم سے آدمی جانتے ہوے کھالتیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھتیس زنا ہوگا ۔ جن کے دل ذرا برابر بھی آخرت کا خوف اور اللہ پر ایمان ہوگا وہ ضرور یہ بات سوچیں گے او رباربار سوچیں گے کہ ہم خودکیا کھارہے ہیں او راپنی اولاد کوکیا کھلارہے ہیں ؟ اپنے زیر کفالت افراد پر کہاں سے خرچ کررہے ہیں ؟او رکیا زیر کفالت افراد کا سکھ چین ،سہولیتیں اوردنیا وی مقام ومرتبہ ہماری آخرت کے لیے کوئی خطرہ تونہیں بن جارہا ہے؟ رہے ایمان سے کورے ،آخرت سے بے نیاز اللہ کے حضور میں پیش ہونے سے منکر لوگ تووہ حقیقۃ انسان کے ورپ میں حیوان ہیں بلکہ بدترین حیوان قرآن کریم اور سنت مطہرہ سے ماخوذ ان واضح او رروشن دلائل کے بعد بھی وہ اپنی چال چلن کو درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے