تربیت اولاد میں ماں کا کردار - Taimy Portal
اکتوبر 15, 2019
متفرقات

تربیت اولاد میں ماں کا کردار

Read Time0Seconds
صادق جمیل تیمی
انسان کے لیے دنیا کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت اولادہے ، انسان خوش قسمت اور سعادت مندہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اولاد سے سرفراز فرمایا ہے، کیوں کہ اولاد ایسا شگفتہ پھول ہے جو گلشن حیات میں انسان کے لیے روشنی اور مستقبل کی امید ہوتی ہیں ، اولاد تمناؤں او رآرزؤں کا محور ، خوشبوں کا گہوارہ ، زندگی کا ماحصل خوش بختی کا نشان او رسرفرازی کی علامت ہوتی ہیں اور انہیں کے ذریعہ والدین کی توقعات او رآرزوئیں وابستہ ہوتی ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آج کا بچہ کل کا رہنما او رکل کا زعیم ہوتا ہے ، کیوں کہ بچے ہی مستقبل کے ستارے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بھی انسانی تربیت کی بڑی اہمیت وفضیلت دی ہے۔ قرآن مجید نے بھی انبیاء کرام کی بعثت کاایک نمایاں مقصد یہی بتایاہے جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کلام پاک کے اندر ارشاد فرماتا ہے :(ویعلمہ الکتاب والحکمۃ) (سورۃ البقرۃ : ۱۲۹) اوردوسری جگہ ارشاد گرامی ہے (قواأنفسکم وأھلیکم نارا)(سورۃ ا لتحریم : ۶)
بنابریں اولاد ہر ماں باپ کی دلی خواہش وآرزوہوتی ہیں اسی لیے ماں باپ ہر لمحہ نیک اولاد کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں ( رب ھب لی من الصالحین)(سورۃ الصافات : ۱۰۰) اے میرے پروردگار مجھے نیک اولاد عطا کر۔ اسی وجہ سے انسان دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وفرمانبرداری کے بعد اپنی اولا د کے لیے جدوجہد وکد وکاوش کرتا رہتاہے ۔ ہر مسلمان اپنی اولاد کو سچا مومن او رمسلمان دیکھنا چاہتا ہے کیو ں کہ اسے بڑھتے سورج کی طرح پختہ یقین ہے کہ پکا سچا مومن اور صالح اولاد توشۂ آخرت ہے۔اچھی تربیت کے ہی زیر اثر یہ بچہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتاہے ۔
سب سے پہلے ہم اپنی اولاد کے دلوں میں اللہ کی توحید او رخالص اسی کی بندگی کا شعور پیدا کریں ، اور جو انسانی زندگی کا اصل مقصد ہے (وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون )کے ذریعے ہی اولاد کوروشناس کرائیں(سورۃ الزاریات : ۶۶) کیوں کہ صحیح تربیت ہی انسان کو بلندمقام تک پہنچاتی ہے او راگر ابتداہی سے بچوں کی صحیح تربیت کی جاتی ہے توہمیشہ اس کا اثر باقی رہتا ہے اور کوتاہی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آ تے ہیں اسی لیے اسلام نے ماں باپ کو مربی کی حیثیت سے اپنے بچوں کی تربیت کا ذمہ دار بنا یا ہے اب اگر کوئی شخص اپنی اولاد کی تربیت شریعت اسلامیہ کی روشنی میں کرے گا ، تویقیناًکامیابی وکامرانی اس کی قدم چومے گی ۔تربیت اولاد میں ماں باپ کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے کہ ماں کی گود ہی بچہ کا وہ پہلا گہوارہ ہے جہاں وہ آنکھیں کھولتا ہے ، اسی لیے اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ او ربچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی آغوش ہواکرتی ہے اس کی کل کائنات ماں
کی شفقت ومحبت ہی ہواکرتی ہے ،ماں کی محبت آمیز مسکراہٹاور شفقت بھراہاتھ اس کا اصل سہارا ہوتا ہے اورماں کی چھاتی سے اسے وہ عمدہ غذا ملتی ہے جس سے اس کی جسمانی نشوونما ہوتی ہے اسی لیے کہاجاتا ہے کہ بچوں کے لیے پہلا مدرسہ اور اسکول ماں کی گود ہے ، جہاں سے اس کی تعلیم کا آغاز ہوتا ہے او رجوبھی چیزیں بچہ یہاں سیکھتا ہے وہ اس کے اولین اسباق ہوتے ہیں۔ اوریہ تعلیم نہایت بنیادی اہمیت کے حامل ہوتی ہے، اسی لیے ایک بچہ کی تربیت کے معاملے میں یہ مرحلہ کا فی زیادہ اہم ہوتا ہے ، اس وقت بچے کا ذھن سلیٹ یا بلیک بورڈ کے مانند بالکل صاف وشفاف ہوتا ہے اس سلسلے میں ایک عربی شاعرنے کیا ہی خوب کہا ہے ؂
            لأم مدرسۃ اذا أعدد تھا
أعدت شعبا طیب الأعراق
یعنی ماں کی حیثیت مدرسہ کی ہے اس پر اس وقت جو بھی لکھ دیا جاے، یعنی اس کے ذہن نشین کرایا جائے وہ ا س کے دل ودماغ میں نقش ہوجاتا ہے ، اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے اس طرح بیان کئے ہیں ’’ کل مولود یولد علی الفطرۃ فأبواہ یھودانہ اوینصرانہ أو یمجسانہ ‘‘ ( صحیح بخاری: ۱۳۸۵) ہر بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ،پھر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ یعنی اس کے ذہن کے تختۂ سیاہ پر جس مذہب کی بھی تحریر درج کردی جائے وہ ’’النقش کا الحجر،،کی طرح اس کے لوح قلب پر ثبت ہوجاتی ہے ، اس لحاظ سے دیکھا جاے تو مائیں اگر صحیح مسلمان ہوں گی ، اسلامی تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ ہوں گی اور اسلامی جذبات واحساسات سے سرشار ہوں گی تو ان کی گودوں میں پلنے والے بچے صحیح مسلمان ہوں گے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر بچے کو ماں ٹھیک ٹھیک پڑھی لکھی سمجھدار او ردین دار مل گئی تو گھرانہ سدھر جاے گا بچے دین پسند ہوں گے، پھر آہستہ آہستہ ماحول بدلے گا پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاے گا او راگر ہم اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے تو یہ بگڑی اولاد اپنی عافیت توخراب کرتی ہیں دنیا میں بھی شروفساد کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ لہٰذا اپنی اولاد کو بچپن ہی سے صحیح تعلیم وتربیت دینا ماں باپ کا اولین فریضہ ہے کیوں کہ آج اولاد اپنے والدین کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے جن کی وجہ سے بہت ساری مصبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اپنے والدین کو ذلیل ورسوا کردیتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اولاد کوبچپن ہی سے اسلامی تعلیم دینا چاہیے اور نماز روزہ نیز دوسرے فرائض وواجبات کی تلقین ہمیشہ کرنی چاہیے۔اگر بچہ اپنے ماں باپ کو بے نمازی دیکھے گا تو وہ خود نماز کی پابندی کیوں کرے گا او اگر بچی ماں کو فلمی گانے سنتے ہوے پاے گی تووہ خود اس سے کیوں کر بچے گی ارشاد باری تعالیٰ ہے (یایھا الذین آمنوا لم تقولون مالا تفعلون )(سورۃ والصف: ۲) لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے لیے قدوہ بنیں، کسی چیز کا درس دینے سے پہلے خود اس پر گامزن ہوجائیں او راپنی اولاد کے ساتھ حکمت ودانائی اور شفقت ورحمت سے پیش آئیں۔ ان کے لیے ایک آئیڈیل بننے کی پوری کوشش کریں ان کے لیے اہم دینی مدارس کا انتخاب کریں اپنے بچوں کوآپ حوصلہ دیں اور اس کے ساتھ ساتھ ماں کواپنی محنت وکاوش اور عمل وجدوجہد کے ساتھ رب کریم سے دعائیں کرنی چاہئے کہ اے اللہ تومیری اولا دکو انبیاء کرام کی
سنت پر رکھنا کیوں کہ ماں کی دعائیں وہ قیمتی ہتھیار ہیں جس سے گمراہ ہدایت پاتا ہے او ربگڑی ہوئی اولاد سدھر جاتی ہیں۔
☆ اخلاقی تربیت
اخلاقی تربیت کے بہت سارے اصو ل وضوابط ہیں ان میں سے ایک یہ کہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے بری باتوں سے دور رکھا جاے اخلاقی تربیت اولاد کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ بچپن میں ہوئی تربیت اولاد کے روشن مستقبل اور اخلاق مندی کی دلیل ہواکرتی ہے ۔ لیکن ہم اگر انہیں اچھے اخلاق سے آراستہ نہیں کرتے ہیں توبا رونق وجمال بننے کی بجائے وبال جان بن جائیں گے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ اولاد کو تعلیم سے آراستہ کرانے کا مطلب ہمیں ان کو نمازوروزہ کی جانکاری اورحلال وحرام کی تمیز کروانا چاہئے ۔
بنابریں ایک صالح معاشرہ کو وجود میں لانے کے لیے خواتین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نکاح کے بعد وہ صالح اولاد کا طالب ہوں (رب ھب لی من الصالحین ) (سورۃ الصافات : ۱۰۰) کے ذریعے زبان کو تر وتازہ رکھے،بچے کے لیے بہترین نام کا انتخاب کریں اور اولاد کے سامنے کوئی ایسا عمل نہ کریں جو اولاد کی زندگی کے لیے بدنما داغ ثابت ہو اور جب بچہ گفتگوشروع کرے تو اس کو’’ لا إلہ إلا اللّٰہ ‘‘ کی تعلیم دیں ۔ لیکن آج عصر حاضر میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے اس کااندازہ لگا نے کے لیے آپ پوری دنیا پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تومعلوم ہوگا کہ آج انہیں کہیں بھی حقیقی معنوں میں ذہنی وقلبی سکون حاصل نہیں ہے ۔ آخر ایساکیوں؟ اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ آج مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ اور اسلاف کی زندگی کو ترک کردیا اور اپنی اولاد کی ذمہ داری کو پس پشت ڈال دیا جب کہ انسان اسی وقت کامیابی کے منازل طے کر سکتا ہے اورفتح مندی تک پہونچ سکتا ہے جب وہ اپنی اولاد کی تربیت شریعت اسلامیہ کے مطابق کرے گا۔
☆ تعلیم وتر بیت کا بندوبست
والدین کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے بچو ں کو جسمانی وروحانی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی واسلامی تربیت بھی کریں کیوں کہ اولاد کی سب سے اہم تربیت گاہ ماں کی گودہوتی ہے ۔ ماں جوبھی اس وقت تعلیم وتربیت دیتی ہے وہی اولاد کے ذہن نشین ہوجاتی ہے گودسے گورتک انسان جب چاہے جس وقت چاہے علم حاصل کرسکتا ہے ۔ یہ نہیں کہ صرف دنیاوی تعلیم حاصل کرے او راخروی تعلیم کو چھوڑ دے ، بلکہ والدین کو چاہیے کہ دنیاوی تعلیم سے پہلے دینی تعلیم کا اہتمام کریں اس لیے کہ دنیاوی تعلیم کے مدمقابل دینی تعلیم زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اولاد دینی تعلیم حاصل کرتی ہیں وہ والدین کے لیے دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی نفع بخش ہوتی ہے ۔ اسی لیے چاہئے اپنے بچوں کو قرآن مجید حفظ کروالیں کیوں کہ اگر بچہ پورا قرآن حفظ کرلے او ر اس پر عمل پیرا بھی ہوجائے توکل قیامت کے دن ان ہی بچوں کی وجہ سے والدین کو تاج پہنایا جاے گا ۔
مذکورہ حقائق و انکشافات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اولاد تربیت میں ماں کا بہت بڑا عمل دخل رہتا ہے اس وجہ سے جہاں باپ اس کی تربیت کے لیے سہولیات فراہم کرتے ہیں وہیں پر ماں تربیت کے تئیں حساس و چوبند ہوں اور بچوں کی تربیت چھوٹے ہی سے دینی و اصلاحی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں ۔
0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

پلاسٹک سرجری اور اسلام

admin

سماجی امن کے قیام میں نکاح کا کردار

admin

اسلام میں خدمت خلق کا تصور

admin

2 comments

Wendi مئی 3, 2019 at 2:04 شام

Hello, just wanted to mention, I liked this post. It was inspiring.
Keep on posting! https://departement-ti.com/blogue-services-informatiques-pour-entreprises/news/les-services-informatiques-geres

Reply
Daftar Domino Qiu Qiu مئی 11, 2019 at 1:11 صبح

My relatives always say that I am wasting my time here
at net, except I know I am getting know-how all the time by reading such nice content. https://www.merchantcircle.com/blogs/bermaindominoqiuqiu-washington-dc/2019/1/DominoQQ/1609702

Reply

Leave a Comment