ووٹ کی شرعی حیثیت - Taimy Portal
اکتوبر 15, 2019
حالات حاضرہ

ووٹ کی شرعی حیثیت

Read Time0Seconds

صادق جمیل تیمی 

لفظ ووٹ کسی بھی جمہوری ملک کا ایک خوش نما لفظ ہے ،یہ ملک میں آباد باشندہ گان کی آواز ہوتا ہے ،عوام کا وہ عظیم ہتھیار ہوتا ہے جو کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایوان زریں اور ایوان بالا کی اعلی کرسی پر فائز کرتا ہے او رکسی کو اپوزیشن کی حیثیت دیتا ہے ۔وطن عزیز ہند کی بات کی جاے تو جمہوریت میں دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک تسلیم کیا جاتا ہے ۔بلا تفریق مذہب و مسلک کے لوگ باہم شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔ہندستان میں مسلمانوں کی بیس کروڑ آبادی ہے ،اتنی بڑی تعداد کسی بھی جمہوریت کی ریڑھ کی مانند ہوتی ہے لیکن ابتدا ہی سے ستم یہ رہا کہ مسلمان’ جو دنیا کا سب بہتر مذہب اسلام کو مانتے ہیں جس نے زندگی کے ہر شعبہ ہاے کی رہنمائی کی ہے ،ووٹ کی اہمیت کوسمجھ نہیں پاے ہیں،حالانکہ ووٹ کے بارہ میں بھی شریعت کی واضح تعلیمات موجود ہیں ۔فی زمانہ ووٹ کی اہمیت کے مد نظر اس کی شرعی حیثیت خامہ فرسائی کی کوشش کی جا رہی ہے ملاحظہ ہو:
ووٹ ایک نئی اصطلاح ہے ۔قرون مفضلہ کے نفوس قدسیہ کے عہد زریں میں اس کی اصطلاح نہیں ملتی ہے ،تاہم عہد نبوی ﷺ میں اس کے لیے لفظ ’’بیعت ،،کا ثبوت ملتا ہے ۔حلقہ بہ گوش اسلام کے لیے بیعت علی الاسلام،،جہاد میں جانے کے لیے ’’بیعت علی الجہاد ،،اور کسی کو عہدے دینے یا خلیفہ بنانے کے لیے ’’بیعت علی الامارۃ ،،کا استعمال ہوتا تھا ۔جس طرح ووٹ اپنی آواز ہوتا ہے جس کے ذریعہ کسی کی حمایت کی جاتی ہے اسی طرح بیعت بھی کسی کی حمایت یا گواہی کی صداقت پر ہوا کرتی تھی ،ا س لحاظ سے ووٹ کی شرعی حیثیت بہ آسانی سمجھ میں آتی ہے ۔علماے کرام نے ووٹ کو کئی حیثیتوں میں تقسیم کیا ہے اور اسے اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

*ووٹ کی حیثیتں

۱۔وکالت 

جب کوئی اپنی حق راے دہی کا استعما ل کرتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہوتا ہے کہ اپنے حقوق کی بازیابی او رملک کو صحیح طریقے پر چلانے کے لیے کسی کو وکیل بناتا ہے ۔وکالت کا ثبوت شریعت مطہرہ میں موجود ہے ،قرآن کریم کی سورہ کہف میں اصحاب کہف کا واقعہ ذکر ہے۔اس میں اصحاب کہف اپنے ساتھیوں میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہیں اور خوردو نوش کے لیے قریب کی مارکیٹ چند سکے دے کر بھیجتے ہیں۔اس مفہوم کے لیے قرآن میں جو لفظ وارد ہوا ہے وہ اس طرح سے ہے کہ ’’فابعثوا أحدکم بورقکم ،،(الکہف :۱۹)فقہاے کرام نے مذکورہ آیت سے توکیل کو ثابت کیا ہے اور اسے ووٹ سے جوڑا ہے (الدر المختار علی رد المختا ر : ۵؍۵۰۹)اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وکیل بنانے والے( ووٹر) اپنے وکیل(صاحب اقتدار )کے خیر و شر میں حکما شریک ہوں گے اور اسی اعتبار سے انہیں ثواب و گناہ ملے گا ،اس وجہ سے مسلمان اپنا وکیل اس شخص کو بناے جو ان کے لیے خیرخواہ و ہمدرد ہو ۔

۲۔شفاعت 

ووٹ کی دوسری حیثیت شفاعت کی ہے جب کوئی آدمی کسی کو ووٹ دیتا ہے تو گویا وہ گورنر یا الیکشن کمیشن سے اپنے مطلوبہ شخص (امیدوار )کی حمایت کرتا ہے، اس بات کی سفارش کرتا ہے کہ فلاں عہدہ و منصب کے لائق ہے ۔اس طرح کی سفارش کا ثبوت قرآن و سنت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ سیدنا موسی علیہ السلام نے اپنے متبادل کے طور اپنی ذمہ داریوں میں شراکت کے لیے اللہ سے دعا (سفارش )کی کہ ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو بھی کار گزار بنا دیا جاے تو اللہ نے سیدنا ہارون علیہ السلام کو ان کے کار گزار بنادیا ۔سیدنا موسی کی دعا (سفارش )اس طرح سے تھی کہ ’’واجعل لی وزیرا من أہلی ،ہارون أخی، اشدد بہ أزری و أشرکہ فی أمری ،،(طہ :۲۹۔۳۳)شفاعت دو طرح کی ہیں :ایک اچھی شفاعت جسے’’ شفاعت حسنہ ،،کہا گیا جس کو انجام دینے سے بندے کو نیکی ملتی ہے اور دوسری شفاعت جسے ’’شفاعت سئےۃ،،کہتے ہیں جس کو انجام دینے سے گناہ ہوتا ہے ۔ارشاد باری ہے ’’من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا و من یشفع شفاعۃ سئےۃ یکن لہ کفل منہا ،،(النساء :۸۵)اس وجہ سے ووٹ دیتے وقت یہ ضرور خیا ل رکھیں کہ ہمارا ووٹ کس کے حق میں جا رہا ہے ۔ملک و ملت کے غم خوار و ہم درد اور ترقی کے خواہ، اعلی اخلا ق و کردار حامل شخص ہی کا انتخاب کریں ،فرقہ وارانہ و شاطردماغ اشخاص کا ہرگز انتخاب نہ کریں ۔

۳۔مشاورت 

آپسی راے و مشورہ سے کسی بھی حکومت کو قائم کرنا اور کسی کو اقتدار کے زمام سونپنا اسلام کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔اس وجہ سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جمہوری ملک میں بھی اپنی حق راے دہی کا استعمال باہم تبادل آرا سے کریں ۔اس کا حکم قرآن مجید میں موجود ہے اللہ تعالی نے فرمایا کہ ’’و شاورہم فی الأمر ،،یعنی معاملات میں تم ایک دوسرے سے مشورہ کر لیا کرو ،(آل عمران :۱۵۹)عہد نبوی ﷺ ،خلفاے راشدین کے عہد زریں اور ان کے بعد بھی کچھ زمانے تک یہی طریقہ رائج رہا ۔اس وجہ سے مسلمان باہمی راے و مشورہ سے کسی پارٹی کا انتخاب کریں ،ایک غلط جماعت کے انتخاب سے ملک و ملت اور اپنی تشخص کو بچانا محال ہوجاے گا ۔اس لحاظ سے راے دہندگان باصلاحیت ،اخلاق مند اور فرض شناس امیدوار کو چنیں ،ورنہ از روے شریعت یہ امانت میں خیا نت ہوگی اور امانت میں خیانت شریعت میں جائز نہیں ۔

۴۔شہادت

ووٹر اپنے ووٹ سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فلاں اپنے منصب و عہدے کے لیے موزوں و مناسب ہے ،ملت کا ہم درد ہے ،اپنے فرائض کو بہ حسن خوبی انجام دیتا ہے تو ایسے امیدوار کے حق ووٹ دینا سچی گواہی دینے کی مانند ہے اور سچی گواہی دینے والوں کے لیے اللہ تعالی نے جنت کی خوش خبری سنائی ہے ’’و الذین ہم بشہاداتہم قائمون و الذین ہم علی صلاتہم یحافظون اولئک فی جنات مکرمون ،،(المعارج :۳۳۔۳۵)اس وجہ سے شہادت و گواہی اچھے امیدوار کے حق میں ہونی چاہیے۔غلط و غیر مناسب امیدوار کے انتخا ب سے بچیں ،چوں کہ جھوٹی گواہی سے انسان گنہ گار ہو جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے ’’لا تکتموا الشہادۃ و من یکتمہا فانہ آثم قلبہ ،،(البقرۃ :۲۸۲)
قصہ مختصر یہ ہے کہ ووٹ کی جو بھی حیثیتیں ہو ں ہندستان میں ووٹنگ و الیکشن سے الگ تھلگ رہنے سے مسلمانوں کی جان و مال ،عزت و آبرو کی حفاظت خطرے میں پڑ جاے گی اور جان و مال کی حفاظت اسلام کی اولین ترجیحات میں سے ہے ۔اس وجہ سے حالیہ لوک سبھا الیکشن میں مسلمان پرزور انداز میں اپنی شراکت کو لازمی بنائیں ۔مسلمان ہوش کے ناخن لیں او راپنی حق راے دہی کا استعمال قدآور و مرد آہن اور ملک و ملت کی حفاظت کرنے والے افراد کے لیے ہی کریں ۔رمضان المبار ک کا مقدس مہینہ بھی اسی مناسبت سے ہے اس وجہ سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سحری کھائیں ،فجر کی نماز باجماعت ادا کریں اور انتخابات مرکز پہنچ جائیں اور اپنا ووٹ ڈالیں ۔اللہ ہماری حفاظت فرماے۔(آمین )

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

دنیا کے کامیاب انسانوں کے بچپن

admin

اسلام کے فروغ میں سوشل میڈیا کا کردار

admin

حاجی محمد سلطان پرمکھ شیر شاہ آبادی

admin

Leave a Comment