تحقیق کے عملی مراحل -
تحقیقات

تحقیق کے عملی مراحل

Read Time5Seconds
 فاروق عبد اللہ نراین پوری

☆   نص کتاب کی مختلف زاویوں سے علمی خدمت

کسی کتاب کی تحقیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد الخراط فرماتے ہیں: “ليست الغاية من التحقيق تحسين أسلوب المؤلف وتصحيح أخطائه أو أخطاء عصره, وإنما الغاية –كما قلنا- عرض الكتاب كما يريده مؤلفه ثم خدمة نصه بشرح غامضه والتعريف به وتخريجه وفهرسته”. (محاضرات في تحقيق النصوص, ص49).
(تحقیق کا مقصد مؤلف کے اسلوب کو نکھارنا یا اس کی اور اس کے زمانے کی غلطیوں کو سدھارنا نہیں ہے، بلکہ تحقیق کا مقصد کتاب کو اس کے مؤلف کی منشا کے مطابق پیش کرنا، پھر مشکل اور پیچیدہ امور کی تشریح کرکے، اس کی تعریف، تخریج اور فہرست تیار کرکے خدمت کرنا ہے۔)

پتہ چلا کہ نص کتاب کی علمی خدمت تحقیق کا اہم مقصد ہے۔ صرف کتاب کو قلمی نسخے سے مؤلف کتاب کےوضع کردہ قریب ترین صورت میں منتقل کردینے سے محقق کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں، بلکہ اس کے بعد بھی ان پر کافی ذمہ داریاں باقی رہتی ہیں۔ یہ خدمات عین تحقیق کا حصہ ہیں۔ البتہ یہ کوشش ہونی چاہئے کہ محقق صرف ضروری تعلیقات (نوٹس) پر ہی اکتفا کریں، غیر ضروری تعلیقات سے حواشی کو بوجھل کرنا تحقیق نہیں کہلاتی، نیز یہ ان سے مطلوب بھی نہیں ہے۔ محقق کو ہمیشہ یہ خیال رہنا چاہئے کہ وہ کتاب کے محقق ہیں، شارح نہیں۔

محقق مؤلف اور قاری کے مابین ایک واسطہ ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ سابقہ کام کرنے کے بعد نص کتاب کی مختلف زاویوں سے خدمت کراسے قارئین کے لئے حتی الامکان آسان کر دیں۔ وہ خدمات درج ذیل ہیں:

(1) علامات ترقیم (رموز اوقاف )کا اہتمام

کسی عبارت میں علامات ترقیم کی وہی اہمیت ہے جو کھانے میں نمک کی ہوتی ہے۔ اگر علامت ترقیم کا مناسب استعمال نہ کیا جائے تو پورا معنی ہی بدلنے کا خوف ہوتا ہے۔ اس لئے ان کا مناسب استعمال ضروری ہے۔
شیخ عبد السلام محمد ہارون فرماتے ہیں: “وللترقيم منزلة كبيرة في فهم النصوص وتعيين معانيها, فرب فصلة يؤدي فقدها إلى عكس المعنى المراد, أو زيادتها إلى عكسه أيضًا, ولكنها إذا وضعت موضعها صح المعنى واستنار وزال ما به من الإبهام”.
(نصوص کو سمجھنے اور اس کے معانی کی تعیین میں رموز اوقاف کا بہت بڑا رول ہے۔ بسا اوقات ایک فاصلہ (کوما) کی کمی یا زیادتی سے معنی مراد بدل جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کا مناسب استعمال کیا جائے تو معنی میں درستگی اور چمک پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا ابہام بھی دور ہو جاتا ہے۔)
تقریبا اسی طرح کی بات شیخ ایاد خالد الطباع نے منہج تحقیق المخطوطات (ص74) میں کی ہے۔

بعض علامات ترقیم کا استعمال قدیم مخطوطات میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ مثلا دو حدیثوں کے مابین محدثین کرام ایک گول دائرہ اس طرح o)) بنا دیتے تھے ۔ یہ آج کے دور کے فل اسٹاپ کی طرح ہوتا تھا۔ پھر جب دوسری بار اس کا مقارنہ کرتے تو اس دائرے کے بیچ میں ایک نقطہ رکھ دیتے تھے۔ یہ نقطہ اس بات کی علامت ہوتی کہ اس مخطوط کا لکھنے کے بعد مقارنہ بھی کیا گیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے میں یہ دائرہ دیکھا ہے۔ (الباعث الحثیث، ص135)۔

علامات ترقیم کے استعمال کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ دور میں جو علامات ترقیم رائج ہیں ان کا استعمال کیا جائے تاکہ قارئین کو سمجھنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

تمام زبانوں کے رموز اوقاف یکساں نہیں ہیں، بعض امور میں ان میں فرق پایا جاتا ہے۔ مثلا نقطہ (فل اسٹاپ) جو کہ جملہ مکمل ہونے کے بعد استعمال کیا جاتا ہےعربی میں صرف ایک نقطہ (.) اس طرح استعمال کیا جاتا ہے جب کہ اردو میں اسے اس طرح (۔) لکھتے ہیں۔
یہ علامت (!) عربی میں تعجب، خوشی، غم، خوف، استغاثہ وغیرہ کے موقع پر استعمال کی جاتی ہے جب کہ اردو میں نداکے لئے اس کا استعمال عام ہے۔
چونکہ یہاں پر عربی کتابوں کی تحقیق کی بات چل رہی ہے اس لئے محقق کو چاہئے کہ عربی زبان کے رموز اوقاف کی مکمل معرفت حاصل کریں تاکہ ان کا صحیح استعمال کر سکیں۔

قواعد الاملاء پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں اس کی اچھی رہنمائی موجود ہے۔ان میں سے ایک عمدہ کتاب شیخ عبد السلام ہارون کی “قواعد الإملاء” اور احمد زکی پاشا کی “الترقیم وعلاماتہ في اللغۃ العربیۃ” ہے –

(2) نص کتاب کی مناسب فقرات (پیراگرافس) میں ترتیب وتنسیق

کسی فقرے کی مناسب تنظیم وتنسیق محقق کی نصِّ کتاب کے حسن فہم کی دلیل ہوتی ہے۔
مخطوطات میں بظاہر پیراگرافس کی تنظیم وتنسیق نہیں ہوتی۔ اگر وسط سطر کسی باب یا کتاب کا اختتام ہو تو وہیں سے نئے باب اور کتاب کی ابتدا ہو جاتی ہے، گرچہ وہ صفحے کا آخری سطر ہی کیوں نہ ہو ۔ عصر حاضر میں اسے “عشوائیت” اور “بد ذوقی” سے تعبیر کی جاتی ہےاور اسے علمی حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس لئے مناسب فقرات میں نص کتاب کی تنظیم وتنسیق ضروری ہے۔

در اصل مخطوطات میں بھی ایک حد تک فقرات کی تنسیق ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ نئے پیراگراف سے جس کلمہ کی ابتدا ہو اس کے اوپر ایک لکیر کھینچ دیتے ہیں، یا اسے دوسرے رنگ میں لکھتے ہیں، یا اسے موٹے حرفوں میں لکھ کر دوسرے کلمات سے ممیز (ہائی لائٹ) کر دیتے ہیں۔ نیز اس کے علاوہ بھی بعض دوسری علامات موجود ہوتی ہیں۔محقق کو چاہئے کہ ایسے کلمات سے نئے فقرے کی ابتدا کرے۔

دور حاضر کا عرف عام یہ ہے کہ ہر نیا پیراگراف نئے سطر سے شروع ہوگا۔ اور سطر کے شروع میں ایک دو کلمہ کے برابر جگہ چھوڑی جائےگی۔
اسی طرح نئے باب، فصل اور مطلب وغیرہ کو نئے صفحے سے شروع کیا جائےگا۔ یا کم از کم دو ابواب کے مابین مناسب فاصلہ رکھا جائےگا۔
محقق کے ذوق سلیم کی پہچان یہ ہے کہ کسی نئے عنوان کو صفحے کے آخری سطر میں نہ لکھے۔

بسا اوقات مناسب پیراگرافس میں کلمات اور جملوں کی سیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے معنی بدلنے کا ڈر رہتا ہےیا نفس پر بڑاں گراں گزرتا ہے۔ قدیم علما نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ مصطلح الحدیث کی اکثر کتابوں میں یہ مسئلہ ہمیں نظر آتا ہے۔

امام سیوطی رحمہ اللہ تدریب الراوی (1/502-503) میں فرماتے ہیں: “(ويكره في مثل عبد الله وعبد الرحمن بن فلان) وكل اسم مضاف إلى اسم الله تعالى: (كتابة عبد آخر السطر واسم الله مع ابن فلان أول الآخر)، وأوجب اجتناب مثل ذلك ابن بطة والخطيب، ووافق ابن دقيق العيد على أن ذلك مكروه لا حرام.
(وكذا يكره) في رسول الله أن يكتب (رسول آخره والله مع صلى الله عليه وسلم أوله وكذا ما أشبهه) من الموهمات والمستشنعات، كأن يكتب قاتل من قوله: «قاتل ابن صفية في النار»، في آخر السطر وابن صفية في أوله، أو يكتب فقال، من قوله في «حديث شارب الخمر فقال عمر: أخزاه الله ما أكثر ما يؤتى به» ، آخره، وعمر وما بعده، أوله.
ولا يكره فصل المتضايفين إذا لم يكن فيه مثل ذلك كسبحان الله العظيم، يكتب سبحان آخر السطر والله العظيم أوله، مع أن جمعهما في سطر واحد أولى”.
(عبد اللہ اور عبد الرحمن بن فلان اور ہر وہ نام جو اللہ تعالی کے ناموں کی طرف مضاف ہوں ان میں لفظ “عبد” کو سطر کے آخر میں اور اللہ کے نام کے ساتھ “ابن فلان” کو دوسرے سطر کے شروع میں لکھنا مکروہ ہے۔ ابن بطہ اور خطیب بغدادی نے اس سے اجتناب واجب قرار دیا ہے، اور ابن دقیق العید نے ان کی اس بات پر موافقت کی ہے کہ یہ مکروہ ہے حرام نہیں۔
اسی طرح لفظ “رسول اللہ” میں “رسول” کو سطر کے آخر میں اور “اللہ کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم” کو دوسرے سطر کے شروع میں لکھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح دوسرے وہ جملے اور کلمات جن سے غلط گمان پیدا ہوتا ہو دو الگ الگ سطروں میں آدھا آدھا لکھنا مکروہ ہے۔ جیسے کہ جملہ “قاتل ابن صفیۃ في النار” میں لفظ “قاتل” کو سطر کے آخر میں اور “ابن صفیۃ في النار” کو دوسرے سطر کے شروع میں لکھا جائے۔ یا جملہ «حديث شارب الخمر فقال عمر: أخزاه الله ما أكثر ما يؤتى به» میں پہلے سطر کے آخر میں “فقال” تک لکھا جائے اور “عمر” ومابعدہ کو دوسرے سطر کے شروع سے لکھا جائے۔
لیکن اگر دو اضافت والے کلمات کو الگ الگ لکھنے میں فساد معنی کا وہم نہ پیدا ہوتا ہو تو انہیں الگ الگ سطروں میں تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے کہ جملہ “سبحان اللہ العظیم” ہے، اس میں “سبحان” کو سطر کے آخر میں اور “اللہ العظیم” کو دوسرے سطر کے شروع میں لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، حالانکہ ایک ہی سطر میں پورے جملہ کو لکھنا زیادہ بہتر ہے۔)

امام سیوطی رحمہ اللہ نے جن مثالوں سے اس مسئلہ کو بہترین انداز میں سمجھایا ہے اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ لکھنے میں جملوں اور کلمات کی مناسب سیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے قاری غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے اور ایسے معانی اخذ کر سکتا ہے جسے مصنف نے مراد نہیں لیا ہے۔

(3) جن کلمات کے ضبط (اعراب لگانے) کی ضرورت ہو ان کو مناسب حرکات کے ساتھ ضبط کرنا۔

تحقیقی کتب میں یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے جس کا بعض محققین خاص خیال نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے بعض کلمات کو صحیح حرکت کے ساتھ پڑھنے میں قارئین کو کافی پریشانی ہوتی ہے، خصوصا نام، لقب اور کنیت وغیرہ میں اشتباہ ہو تو حرکات کے ساتھ انہیں ضبط کرنا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ ان چیزوں میں کوئی قیاس اور قاعدہ کام نہیں کرتا۔

أبو إسحاق النجيرمي فرماتے ہیں : “أولى الأشياء بالضبط أسماء الناس; لأنه لا يدخله القياس، ولا قبله ولا بعده شيء يدل عليه”. (تدريب الراوي 1/ 497)
(لوگوں کے ناموں میں حرکت لگانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ ان میں کوئی قاعدہ کام نہیں کرتا، اور نہ سیاق وسباق سے کوئی رہنمائی ملتی ہے۔)
عبد اللہ بن ادریس فرماتے ہیں کہ مجھے شعبہ نے الحسن بن علی سے حوراء والی حدیث بیان کی۔ آپ نے بعدہ لفظ “حوراء” کے نیچے “حور عین” لکھا تاکہ پڑھنے والا غلطی سے اسے جیم اور زاء کے ساتھ “الجوزاء” نہ پڑھے۔ (تدريب الراوي 1/ 497)

سلَّام اور سلَام، عَقیل اور عُقیل جیسے بے شمار نام ایسے ہیں جن میں حرکت کے ذریعہ ہی فرق کیا جا سکتا ہے۔ عُسیلہ والی حدیث میں اکثر طلبہ عبد الرحمن بن الزَّبیر کو زاء کے ضمہ کے ساتھ زُبَیر پڑھتے ہیں جوکہ غلط ہے، اس کا صحیح ضبط زاء کے فتحہ کے ساتھ “زَبِیر” ہے جیسے کہ ابن ماکولا وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ (دیکھیں: الإکمال 4/166-167)

بہت سارے علما نے اس موضوع پر بہت ہی نادر اور قیمتی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ لہذا ایسے ناموں کے ضبط کے وقت اس فن کی خاص کتب کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور صحیح حرکات کے ساتھ ان ناموں کو ضبط کرنا چاہئے۔ مثلا:*
1- المؤتلف والمختلف للدار قطنی
2- المتفق والمفترق للخطیب البغدادی
3- تلخیص المتشابہ فی الرسم للخطیب البغدادی
4- تالی التلخیص للخطیب البغدادی
5- الإکمال لابن ماکولا
6- تہذیب مستمر الأوھام لابن ماکولا
7- تقیید المہمل وتمییز المشکل للجیانی
8- توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین الدمشقی
9- تبصیر المنتبہ بتحرير المشتبه لابن حجر وغیرہ۔
یہ تمام کتابیں الحمد للہ مطبوع ہیں۔ ان میں سے ابن ماکولا کی الإکمال، حافظ ابن حجر کی تبصیر المنتبہ اور ابن ناصر الدین الدمشقی کی توضیح المشتبہ اس باب کی سب سے اہم ترین کتابیں ہے۔*
ان کتب کا تعلق شخصیات کے ضبط کے ساتھ ہے۔
*اسی طرح دیگر فنون کا معاملہ ہے۔ مثلا:*
احادیث نبویہ کے لئے کتب غریب الحدیث مثلا مشارق الأنوار للقاضی عیاض اور النہایہ لابن الأثیر وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

فقہی اصطلاحات کے لئے نسفی کی طلبۃ الطلبہ، امام نووی کی تہذیب الاسماء واللغات اور فیومی کی المصباح المنیر وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

لغوی مباحث کے لئے کتب المعاجم مثلا البارع لأبی علی القالی، تہذیب اللغۃ للأزہری، الصحاح للجوہری، المخصص اور المحکم لابن سیدہ، مختار الصحاح لزین الدین الرازی، لسان العرب لابن منظور، القاموس المحیط للفیروز آبادی وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

قبائل اور بلدان کے لئے معجم ما استعجم لأبی عبید البکری، معجم البلدان لیاقوت الحموی، مراصد الاطلاع لصفی الدین البغدادی وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

بعض کلمات اپنے غلط ضبط کے ساتھ معاشرے میں مشہور ہوجاتے ہیں جنہیں تحقیقی کتب میں صحیح ضبط کے ساتھ لکھنا بہت ہی ضروری ہے۔ بطور مثال لفظ “خِطَّة” ہی لیں، استاد محترم شیخ عبد الباری بن حماد انصاری اور کلیۃ الحدیث جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے دیگر اساتذہ نے کئی بار کلاس میں اس لفظ پر ہمیں تنبیہ کی ہے۔ شیخ عبد الباری حفظہ اللہ نے اس لفظ کی تحقیق میں ایک مقالہ بھی تحریر فرمایا ہے۔
اکثر باحثین اسے خاء کے ضمہ ساتھ “خُطہ” پڑھتے ہیں جو کہ وجیہ نہیں ۔ خِطہ یہ تخطیط کے معنی میں ہے۔ مکانات کی تعمیر کے لئے ایک انجنئر جو نقشے تیار کرتا ہے اسے خِطہ کہتے ہیں۔ اور یہی لفظ ہم علمی بحوث کی تخطیط کے لئے استعمال کرتے ہیں، لہذا یہ خاء کے کسرہ کے ساتھ خِطہ ہے، ضمہ کے ساتھ خُطہ نہیں۔ (دیکھیں: الصحاح للجوہری 3/260، تہذیب اللغہ للأزہری 6/559 وغیرہ)۔
اسی ضبط کے ساتھ بہت ساری کتابوں کے نام بھی موجود ہیں، مثلا: خِطط مصر للقضاعي، الخِطط للمقریزي، الخِطط التوفیقیہ لعلي پاشا مبارک، خِطط الشام لمحمد کرد علي۔

اور جہاں تک لفظ خُطہ کی بات ہے تو وہ عربی زبان میں “الأمر العظيم, الأمر, القصة, الحال, الخصلة من الخصال” کے معنی میں مستعمل ہے۔ (دیکھیں: الصحاح للجوہری 3/260، مقاییس اللغۃ لابن فارس 2/154، مشارق الانوار للقاضی عیاض 1/471، عمدۃ القاری للعینی 14/7، وغیرہ)
احادیث کے اندر بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے جسے قاضی عیاض، حافظ ابن حجر اور عینی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔

بعض باحثین نے خاء کے ضمہ کے ساتھ “خُطۃ البحث” بھی کہا ہے لیکن دلائل خاء کے کسرہ والے ضبط کی ہی تائید کرتے ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ ایسے کلمات جو مختلف ضبط کے ساتھ الگ الگ معانی میں مستعمل ہیں انہیں مناسب حرکات کے ساتھ لکھنا نہایت ہی ضروری ہے۔

قلمی نسخوں میں بھی بسا اوقات بعض کلمات پر بعض حرکات موجود ہوتے ہیں۔ ان حرکات کو من وعن نقل کرنا علمی امانت کا تقاضہ ہے۔
بعض حروف پر ایک سے زائد حرکات ہوتے ہیں، انہیں بھی اسی طرح نقل کرنا ضروری ہے۔
اگر بعض مشکل کلمات پر مخطوط میں حرکات موجود نہ ہوں تو کتاب میں دوسری جگہوں پر دیکھنا چاہئے کہ مصنف نے اسے کیسے ضبط کیا ہے، اگر وہ کلمہ فی نفسہ ایک سے زائد حرکات کے ساتھ پڑھنا جائز ہو تو متن میں وہی حرکت لکھنی چاہئے جو مصنف نے دوسری جگہوں پر اختیار کیا ہے۔
اور اگر کتاب میں کہیں بھی اس پر حرکت موجود نہ ہو تو معتبر معاجم (ڈکشنریوں) سے اسے ضبط کرنا چاہئے۔ (دیکھیں: تحقیق النصوص ونشرہا، ص 80-81)
(ان شاء اللہ شرح الغریب والی قسط میں ان معاجم پر روشنی ڈالی جائےگی)

کن کلمات پر حرکات لگائی جائیں؟* زمانہ قدیم سے اس میں علما کا اختلاف رہا ہے۔ بعض علما ہر ہر حرف پر حرکت لگانے کو مستحسن قرار دیتے ہیں۔ جب کہ بعض علما صرف جن کلمات میں اشکال کا خوف ہو ان پر حرکت لگانے کی بات کرتے ہیں۔ یہی دوسرا منہج اقرب الی الصواب ہے۔ واللہ اعلم (تفصیل کے لئے دیکھیں: تدریب الراوی 1/492)
البتہ جہاں التباس کا خوف ہو وہاں بالاتفاق حرکت لگانا ضروری ہے۔

(4) قرآنی آیات کا حوالہ ذکر کرنا۔

قرآنی آیات کا حوالہ سورتوں کے نام اور آیت نمبر کے ساتھ ذکر کرنا چاہئے۔ اس میں صفحہ نمبر ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔

قرآنی آیات کو لکھتے وقت حد درجہ متنبہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی طرح کی کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ نیز مصحف عثمانی کے رسم سے عدول کرنا صحیح نہیں۔ قرآن کا رسم ایک خاص رسم ہے جسے دوسرے رسم واملا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ مخطوطات میں بھی بسا اوقات بعض آیات غلط منقول ہو سکتے ہیں۔ شیخ عبد السلام محمد ہارون نے بہت ساری ایسی آیتوں کا ذکر کیا ہے جو دوران تحقیق انہیں مخطوطات میں غلط لکھی ہوئی ملیں۔ (دیکھیں: تحقیق النصوص ونشرہا، ص48-50)
اس لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ مطلوبہ آیت کو مصحف عثمانی سے کاپی پیسٹ کیا جائے تاکہ کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔

کسی کلام کی نسبت رب العالمین کی طرف ہونے اورمصحف میں اسے نہ پانے پر فورا مصنف پر وہم اور غلطی کا حکم نہیں لگانا چاہئے، ہو سکتا ہے کہ وہ قرآنی آیت نہ ہوکر کوئی حدیث قدسی ہو۔ چنانچہ بعض محققین کو ایسی فحش غلطیوں کا بھی شکار پایا گیا ہے۔

بعض آیتوں کو بعض مصنفین مکمل ذکر نہیں کرتے بلکہ صرف محل شاہد پر اکتفا کرتے ہیں۔ اور بسا اوقات “واو، فاء، إن، أن، قل” وغیرہ کو حذف کرکے ذکر کرتے ہیں مثلا “وقل جاء الحق” والی آیت میں “قل جاء الحق” یا صرف “جاء الحق” پر اکتفا کرتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واو کے حذف کے ساتھ “لاَ يَحْسِبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ” کی تلاوت ثابت ہے۔ (دیکھیں: صحيح البخاري حدیث نمبر 1403)

امام شافعی نے الرسالہ میں بہ کثرت ایسا استعمال کیا ہے۔ بطور مثال دیکھیں: فقرہ 643، 974، 975 ۔
شیخ احمد شاکر الرسالہ کی تحقیق میں فرماتے ہیں: “والشافعي كثيرًا ما يترك حرف العطف اكتفاء بموضع الاستدلال من الآية, وليس بصنيعه هذا بأس”. (ص231)
(شافعی بہ کثرت آیت کے محل استدلال پر اکتفا کرتے ہوئے حرف عطف کو چھوڑ دیتے ہیں، اور ان کے اس منہج میں کوئی حرج نہیں۔)

لہذا ان آیتوں کو اسی طرح نقل کرنا چاہئے جیسے مصنف نے ذکر کیا ہے، اپنی طرف سے مکمل آیت ذکر کرنا مناسب نہیں۔ (دیکھیں : تحقیق النصوص ونشرہا ، ص51-52)

متن کتاب میں کوئی آیت جمہور قراء کی قرأت کے مخالف ہو تو اس کی وضاحت بھی محقق کو حاشیہ میں کرنی چاہئے۔

(5) متن میں وارد احادیث وآثار کی تخریج کرنا

متن کتاب میں وارد تمام احادیث کی تخریج کرنا اور رد وقبولیت کے اعتبار سے ان کا درجہ ذکر کرنا ضروری ہے۔
اگر حدیث صحیحین یا دونوں میں سے کسی ایک میں ہو تو ان کا حوالہ ذکر کر دینا کافی ہے، کیونکہ احادیث صحیحین کی قبولیت پر امت کا اجماع ہے۔
لیکن اگر وہ حدیث صحیحین کے علاوہ کسی دوسری کتاب میں ہو تو محدثین کرام کے وضع کردہ علوم حدیث کے قواعد کی روشنی میں ان کی تخریج کرنا ضروری ہے۔ تخریج کا مطلب یہ کہ جن مصادر میں وہ حدیث مسندًا موجود ہے اس کا مع الاسناد حوالہ ذکر کرنے کے بعد دراسہ کیا جائے، پھر رد وقبولیت کے اعتبار سےاس کا مرتبہ ذکر کیا جائے۔
اگر حدیث پر متقدمین علما کا حکم موجود ہے تو ان کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہئے۔

جہاں تک آثار کی بات ہے تو ان کا معاملہ احادیث رسول کی طرح نہیں ہے۔ ان کی تخریج میں اس قدر توسع کی ضرورت نہیں ہے جس طرح احادیث میں ضروری ہے، الا یہ کہ اگر کسی اثر میں کوئی ایسا خارجی سبب ہو جس کی بنا پر وہ توسع کا تقاضہ کرتا ہو تو اس کی مفصل تخریج کی جائےگی۔ مثلا اس میں کوئی ظاہری نکارت ہو یا اس سےکسی قرآنی آیت یا حدیث یا دوسرے صحابہ وتابعین کے منہج کی مخالفت لازم آتی ہو تو ایسے موقع پر اس کی مفصل تخریج کی جائےگی۔

اگر کتاب کا تعلق علم حدیث سے ہے تو اس کی متوسط یا مفصل انداز میں تخریج کی جائےگی، اور اگر علم حدیث کے علاوہ کسی دوسرے تخصص سے اس کا تعلق ہے تو مختصرا اس کی تخریج پیش کی جائےگی جس میں بعض اہم مصادر کے ذکر کے ساتھ اس کا مختصر حکم بھی ہوگا۔

نص کتاب کی خدمت کا یہ ایک ایسا زاویہ ہے جو فن تخریج میں محقق کی مہارت کا تقاضہ کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں محقق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت کرتا ہے ۔ اور بلا یقین واذعان کسی چیز کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ «إن كذبًا علي ليس ككذب على أحد» اور «من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين» جیسی احادیث اس کی سنگینی کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔

لہذا اگر مطلوبہ کتاب کا تعلق علم حدیث سے ہے تو محقق کی اس فن پر اچھی پکڑ ہونی چاہئے، انہیں اس کی باریکیوں کا کما حقہ علم ہونا چاہئے۔ شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ ایک بار ایک پروگرام میں بیان کر رہے تھے کہ بالعموم علوم شریعت کی اچھی جانکاری رکھنے والا کسی بھی فن کی کتاب کی تحقیق کر سکتا ہے سوائے فن حدیث کی کسی کتاب کے، اس میں اس فن کے کسی ماہر کو ہی قدم رکھنا چاہئے، دوسروں کو نہیں، کیونکہ اس میں محقق سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف احادیث کی نسبت کی جانچ پڑتال کریں جو کہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ یہی بات استاد محترم شیخ عبد الباری انصاری حفظہ اللہ بھی کہتے ہیں۔

تخریج کے وقت محقق کو چاہئے کہ وہ مصادر کی منطقی ترتیب کا خاص خیال رکھے۔
منطقی ترتیب کا مطلب یہ کہ کتب ستہ کے علاوہ باقی کتب میں ان کے مؤلفین کی وفیات کے اعتبار سے انہیں مرتب کیا جائے۔ لیکن اگر وہ حدیث کتب ستہ میں ہو تو اسے سب پر مقدم کی جائےگی۔ کتب ستہ کی داخلی ترتیب یہ ہوگی: صحیح بخاری، پھر صحیح مسلم، پھر سنن ابی داود، پھر جامع ترمذی، پھر سنن نسائی، پھر سنن ابن ماجہ۔
کتب ستہ کی ترتیب میں علما کے یہاں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیکن جس پر آخر میں تقریبا علما کا شبہ اتفاق ہوا ہے وہ یہ کہ مذکورہ ترتیب کے حساب سے انہیں مرتب کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہ ترتیب اصحاب کتب ستہ کی وفیات کے اعتبار سے ہے، ان کتب کی صحت اور منزلت کے اعتبار سے نہیں، ورنہ سنن نسائی کا مقام ومرتبہ صحیحین کے بعد ہونا چاہئے تھا، جامع ترمذی کے بعد نہیں۔
اس میں ایک اشکال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر سنن ابن ماجہ کو سب سے آخر میں کیوں ذکر کیا جاتا ہے، حالانکہ ابن ماجہ کی وفات ابو داود، ترمذی اور نسائی سے پہلے ہوئی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سنن ابن ماجہ کو کتب ستہ کے اندر بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ پہلے کتب خمسہ کی اصطلاح رائج تھی یا چھٹی کتاب میں سنن دارمی یا موطا امام مالک کو شمار کیا جاتا تھا۔ ابو الفضل محمد بن طاہر القیسرانی نے شروط الأئمہ الستہ میں اسے پہلی بار کتب ستہ میں داخل کیا ہے۔ اس لئے اس ترتیب میں ابن ماجہ کو سب سے آخر میں ذکر کیا جاتا ہے۔

کتب ستہ کو ذکر کرنے کے بعد دوسرے مصادر کی ترتیب ان کے مؤلفین کی وفیات کے اعتبار سے ہوگی۔مثلا موطا امام مالک کو مصنف عبد الرزاق پر، اور مصنف عبد الرزاق کو مصنف ابن ابی شیبہ پر، اور مصنف ابن شیبہ کو مسند احمد پر مقدم کیا جائےگا، وقس علی ہذا۔

واضح رہے کہ ایک ہی حاشیہ میں مختلف مصادر کے مابین منطقی ترتیب کی بات صرف کتب احادیث کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام فنون کے مصادر کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔ مصادر کو ان کے مؤلفین کی وفیات کے اعتبار سے ترتیب دینا ضروری ہے –

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

مخطوطات کی جمع و ترتیب کے طریقے

admin

علمی کتب کی تحقیق کے اصول وضوابط

admin

چندریان -2 میں بھارت کی کامیابی

admin

Leave a Comment