عبد الرحمان سلفی بہاری کی خدمات حدیث -
حدیث

عبد الرحمان سلفی بہاری کی خدمات حدیث

Read Time5Seconds

محدث عظیم عبد الرحمان سلفی بہاری (ہند)
تحریر: محمد صادق جمیل تیمی
ہندوستان کی سر سبز و شاداب و مردم خیز ریاست ریاست بہار شروع ہی سے اپنی خاموش علمی خدمات کا مرکز و محور رہی ہے -یہ مجاھدین کی سرزمین ہے ،ہندوستان کی آزادی کے اہم سرخیل و محرک یہیں کے رہے ہیں -علماء صادقپور پٹنہ کی خدمات آزادی ہند کی تاریخ میں زیریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے -ایشیا کی مشہور و معروف خدا بخش لائبریری کے بانی اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں -“Wahabi Movement in India “کے مصنف ڈاکٹر قیام الدین اسی سرزمین کا جیالہ ہے – تو جہاں بہار میں بڑے بڑے ادبا و شعرا وفحول ناقدین پیدا ہوئے -وہیں بڑے و کبار مصنفین و مدرسین ،مفسرین و محدثین بھی جنم لئے -لیکن عزلت گزینی ،شہرت و نمو سے بے پناہ دوری کے سبب ان کی موقر تصنیفات ،قابل ذکر خدمات اور ان کی زندگی کے احوال و کوائف اعقاب کی کور مذاقی یا نااہلی کے ہاتھوں کرموں کی نذر ہوگئیں-
انہیں خاموش و دنیا کی بوقلموں سے دور شیخ العرب و العجم ،ملک و بیرون ملک میں لاکھوں شاگردوں کا ایک قومی و بین الاقوامی نیٹ ورک پھیلانے والے نیک صفت و نرم خو محدث کبیر استاذ الاساتذہ عبد الرحمن سلفی سے استاد محترم رفیق عالم تیمی وقاری مشفق کی معیت میں ایک ملاقات ہوئی. فی الوقت شیخ محترم سپول ضلع کے شنکر پور کے گاؤں پُھلکا ٹولہ اپنے داماد کے ہاں مسجد سے متصل ٹاٹ کا بنایا ہوا اور اوپری سطح پر کالا پلاسٹک دیا ہوا معمولی گھر میں اپنی مستعار زندگی کی آخری ساعتوں کو بسر کر رہے ہیں -چہرہ پر ایک عالمانہ رعب ابھی بھی قائم ہے-اسلافانہ طرز زندگی اپناے ہوئے پرزور انداز میں اپنی زندگی کی نیا کو آگے بڑھا رہے ہیں…. رفیق افسر تیمی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کے داماد نے بتایا کہ ابھی بھی شیخ الحدیث صاحب پابندی کے ساتھ پنچ وقتہ اذان و اقامت کہ کر باجماعت نماز ادا کرتے ہیں اورجاں کاہی و پیری کے اس عالم میں بھی گاوں کے مدرسہ میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن فی الحال جنوری سے طبیعت ناساز چلنے کی وجہ سے بیشتر اوقات بستر ہی پر رہتے ہیں –
سرزمین بنگال کے سر سبز و شاداب علاقہ سیمول تولہ (مغربی بنگال )میں 1912ء میں پیدا ہوئے اور مدرسہ دیما پور بہار سے فارغ ہونے کے بعد وہیں پر چار سالوں تک تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے ،اور باشندگان پیٹروا (سپول )اور اپنے ارشد تلامذہ کے اصرار پر مدرسہ مظہر العلوم بیریاکمال پٹیروا میں 18سالوں تک بخاری کا درس دیتے رہے ،پھر اس کے بعد مدرسہ نظامیہ بیریا کمال 1969سے 1987ء تک تدریس میں جڑے رہے. اور 1997ء سے 1999ء تک شیر شاہ آبادی کے شیر ببر اختر عالم سلفی کا کھولا ہوا مدرسہ “ریاض العلوم “شنکرپور (سپول )میں درس و تدریس سے وابستہ رہے -بیچ میں کشن گنج کے مدرسہ “جامعۃ البخاری “میں بھی ایک سال رہے،پھر 2002ء سے 2008ء تک جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم کے زیر اشراف چلنے والا ادارہ “جامعۃ البنات “میں بخاری ،مسلم ،فقہ السنۃ اور فتح المجید وغیرہ کا درس دیتے رہے -یہاں سے چلے جانے کے بعد اپنے داماد کے ہاں ہی قائم مدرسہ میں عرب کے مشائخ اور متلاشیان علوم نبوت کی علمی تشنگی تاہنوز بجھا رہے ہیں.. مولانا ممدوح 30سے زائد مرتبہ بخاری کا درس دے شکے ہیں-الغرض انہوں نے اپنی پوری زندگی ریاست بہار کے مردم خیز و علمی علاقہ ٹاپو و اس کے مضافات میں رہ کر حفاظت حدیث اور اس کی اشاعت میں کارہائے نمایاں انجام دیئے… علوم نبوت کی ایک علمی جوت جگائی ،جس سے ایک عالم مستفیض ہے اور یہ سلسلہ ان کے ارشد تلامذہ تا قیامت باقی رکھیں گے…
اللہ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ رکھے. آمین

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

برصغیر میں فتنہ انکار حدیث اور اس کے دفاع میں علما اہل حدیث کی خدمات

admin

Leave a Comment