فیملی پلاننگ اور اسلام -
متفرقات

فیملی پلاننگ اور اسلام

Read Time0Seconds
محمد صادق تیمی 
دور حاضر میں مختلف جدید مسائل پیدا ہو ے ہیں جن میں سے چند تو ایسے ہیں جن پر عمل در آمد کچھ زیادہ ہی ہے اور چند پر تواتر سے ۔انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ فیملی پلاننگ کا ہے ۔ذیل مختصر اس پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
فیملی پلانگ کا معنی : خاندانی منصوبہ بندی کرناہے جس کا مفہوم عارضی منعِ حمل ، اسقاطِ حمل او رضبط ولادت ہے ۔
فیملی پلانگ کی ابتداوآغاز
اس تحریک کی ابتدا اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ میں ہوئی ، اس کا بانی مشہور انگریز ماہر معاشیات وپادری زپوینڈتھا مس آرمالتھس تھا ، اس نے ایک مقالہ بعنوان آبادی کے ضوابط شائع کیا ۔اس کے بعد فرنس پلاس نے فرانس میں بڑھتی ہوئی نسل کو روکنے پر زوردیا، اس کی تائید میں امریکہ کے ڈاکٹر چارلیس نولٹن نے ۱۸۳۲ء کو اپنے مقالہ ’’ ثمرات فلسفہ‘‘ کے ذریعے آواز بلندکیا او راس مقالہ کے اندر طبعی طریقو ں کی تشریح کی گئی او ران کے فوائد کو بیان کیا گیا۔اہل مغرب ابتدا میں اس کی طرف متوجہ نہیں ہوے لیکن ۱۸۷۶ء کو ’’ثمرات فلسفہ‘‘نامی مقالہ کو انگلستان میں شائع کیاگیا۔تو حکومت نے اس پر مقدمہ چلادیا جس سے عوام اس کی طرف متوجہ ہونے لگی ، بعد میں ڈاکٹر ریڈیل کی زیر صدارت ایک انجمن قائم ہوئی اور ڈاکٹر صاحب نے فیملی پلاننگ کی تائید میں نشر واشاعت شروع کردی ، دوسال کے بعد یہ مقالہ قانون آبادی میں بھی شائع ہوا ۔جس کی وجہ سے یورپ کے اندر جگہ جگہ انجمن قائم ہونے لگی او رتحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو ان کے فوائد بتائے جانے لگے او راس کے لیے دوائیاں ایجاد کی گئیں، آلات بنایے گئے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا گیا ،یہاں تک اب عام رواج ہوچلا ہے ( اسلام اور ضبط ولادت ابو الاعلی مودودی :۱۳۔۱۰)
ہندستان وپاکستان اوربنگلہ دیش کے اندر بیسویں صدی کے ربع سے یہ تحریک زور پکڑرہی ہے ، ان ملکوں کے اندربھی انجمنیں قائم کی گئیں ، لوگوں کے درمیان عملی طریقوں او ر معلومات کو فراہم کیا گیا ۔ لندن کے برتھ کنٹرول انٹر نیشنل انفارمیشن سنٹر کے ڈاکٹر مشر ایڈٹھ ہومارڈن نے اس تحریک کی نشرواشاعت کے لیے یہاں کادورہ کیا (اسلام اور ضبط ولادت، مولانا سید ابو الأعلی مودودی،ص: ۱۱) ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے کمشنر ڈاکٹر ہٹن نے اپنی رپورٹ میں ہندستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرناک ظاہر کرکے فیملی پلانگ پر زور دیا ۔ کونسل آف اسٹیٹ کے ایک ممبرنے حکومت کو آبادی کی افزائش کو روکنے لیے عملی تدابیر اختیار کرنے کی توجہ دلائی۔ حکومت نے اس کو رد کردیا ،لیکن لکھنو کے اندر عورتوں کی آل انڈیا انجمن نے اس کی حمایت کی او رایک قرار دار پاس کردی ، اس کے بعد کراچی ممبئی کی مجالس بلدیہ میں اس کی عملی تعلیم رائج کرنے پر بحث کی گئی۔ میسور اور مدراس او ر بعض مقامات پر اس کے لیے کلینک کھولوائے گئے۔ اس طرح یہ تحریک ہندستان کے اندربھی پھیلنا شروع ہوگئی ۔جدید تہذیب وتمدن والے یورپ میں جب مشین ایجاد ہوئی اور کارخانے کثرت سے قائم ہوے تو دیہات سے لوگ کارخانوں کی طرف آنے لگے ۔ عظیم الشان شہر وجود میں آیا اور لاکھوں آدمی ایک محدود جگہ مجتمع ہوگئے۔شروع شروع میںیورپ کے اندر ترقی ہوئی بعد میں ان گنت معاشی مشکلات جنم لینے لگیں۔ مثال کے طو رپر قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ باپوں کے لیے اولاد اور شوہروں کے لیے بیویوں تک کی پرورش ناقابل برداشت ہوگئی ۔ہر شخص مجبور ہوگیا کہ اب کیا کیا جائے ؟عورتیں معاشی استقلال کی وجہ سے مجبور ہوکرکمانے لگیں او راپنی حفاظت خود کرنے لگیں ، اللہ تعالیٰ نے مرداور عورت کی جوفطری تقسیم کی تھی وہ برباد ہوگئی اور تمام لوگ مل جل کر کام کرنے لگے جس کی وجہ سے عورتوں کے سامنے مشکلات کا پہاڑٹوٹ پڑا کہ اب وہ کیا کرے، افرائش نسل اور پرورش اطفال کا فریضہ انجام دے یا معاشی مشکلات کی وجہ سے جوگھر سے باہر کام کرنے لگی ہیں اس کو ادا کرے ؟غرض ان اسباب کی وجہ سے عورتیں جو کہ فطری طورپر ماں بننے کے لیے وجود میں لائی گئی ہیں ،ماں بننے سے اعراض کرنے لگیں ۔دورحاضر میں جدید تہذیب وتمدن کی وجہ سے لوگ انتہائی درجے کے خود غرض بن گئے او ریہ ناپسند کرنے لگے کہ ان کے رزق میں سے کوئی دوسرا حصہ لے ۔امیروں اور دولت مندوں نے نفس پرستی کے لیے عیش وعشرت کے بے شمار طریقے اور سامان ایجاد کردیے جن کو دیکھ کر اوسط او رادنی درجے کے لوگ بھی ان کو چاہنے لگے ، عورتوں کی ذہنیت کو غیر اسلامی تعلیم ، آزادی او رمردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط نے ایک نئی ذہنیت عطا کردی ، جس کی وجہ سے وہ گھر کاکام کرنا اور بچوں کی پرورش کرنا سب سے گھناونا اورکم ترکام تصور کرنے لگیں ، اس کو انجام دینے سے جی چرانے لگیں۔ اسی کا اثر ہے کہ آج عورتیں مردوں کے لیے جاذب نظر بننے کے لیے وہ نرم ونازک ، حسین وجوان بنی رہنا چاہتی ہیں او ربیرون خانہ کالطف اٹھاناچاہتی ہیں ۔ ان مقاصد کے تحت وہ زہریلی دوائیں کھاکر جاں تک دے سکتی ہیں مگر بچے کو جنم دے کر صحت خراب کرنا پسند نہیں کرتیں۔ اس دورمیں ہربالغ مردوعورت بلا کسی روک ٹوک کے ایک دوسرے کے لیے بغیر کسی ذہنی تحفظ کے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں او راس کی وجہ سے فطرت نے جوذمہ داری عائد کی ہے ان سے بری ہونا چاہتے ہیں اور یہ بھیانک قدم اٹھاتے ہیں ۔

اسلام میں فیملی پلاننگ کا حکم

ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہئے کہ تمام چیزوں کا رازق اللہ تعالیٰ ہے ، اللہ تعالیٰ خود اس مسئلہ کو حل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (ومامن دابۃ فی الأرض الا علی اللہ رزقھا)(ھود:۶) زمین پر چلنے پھر نے والی تمام چیزوں کا رازق اللہ تعالیٰ ہے ، ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں 🙁 ان اللّٰہ ھوالرزاق ذوالقوۃ المتین)( الذاریات:۵۸) بے شک اللہ تعالیٰ رزق دینے والا صاحب قوت ہے ، دوسری جگہ فرماتے ہیں : (ان اللّٰہ یرزق من یشاء بغیر حساب )(سورۃ آل عمران:۳۷) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ، ان کے باجود جوشخص اپنے نفس کی اتباع کرے گا ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(ومن أضل ممن اتبع ھواہ بغیر ھدی من اللہ )( القصص:۵۰) ترجمہ: اس سے زیادہ گمراہ اور کون ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے بغیر اپنے نفس کی پیروی کی ۔ اگرچہ گمراہی کے اندر مفید چیز نظر آئے لیکن حقیقت میں وہ اللہ کے راستے کو چھوڑ کر حدودسے تجاوزکرتا ہے او راپنے اوپر ظلم کرتا ہے : (ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ)(سور ۃ الطلاق:۱) اورجس کسی نے اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کیا اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ، اس طرح اللہ تعالیٰ ایک جگہ ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بناے ہوے قوانین کو بدلنا یا توڑنا دراصل ایک شیطانی فعل ہے :(ولآمرنھم فلیغیرن خلق اللہ ) (النساء:۱۱۹) شیطان نے کہا میں اولاد آدم کو حکم دو ں گا تووہ اللہ کی بناوٹ کوبدل ڈالیں گے ، کیوں کہ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے اللہ کافرمان :(ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدومبین انما یامر کم بالسوء والفحشاء )(البقرۃ: ۱۶۸۔ ۱۶۹) او ر تم شیطان کی پیروی نہ کروکیوں کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے تم کو بدی اور بے حیائی کے کام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اصل میں رزق دینا اللہ کاکام ہے اورتلاش کرنا انسانوں کاکام ہے (سورۃ العنکبوت:۱۷۱) بلکہ اللہ رب العالمین ایسے لوگوں پر ملامت کرتا ہے جو رزق کی کمی کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں (سورۃ الانعام:۱۵۱) اور سورہبنی اسرائیل میں بھی اللہ کا یہی فرمان موجودہے ، رہی تحدید نسل کی اجتماعی تحریک تواس کی بنیادی فکرسے لیکر اس کے طریقہ کارتک اور اس کے عملی نتائج تک ہرچیز اسلام سے قطعی طور پر متصادم ہے ۔ قوانین اسلام کے اندر ضرورت کی بنا پر بیوی کی رضامندی سے عزل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، دلیل : ’’ کنا نعزل علی عھد رسول اللہ ﷺ والقرآن ینزل ‘‘ (مشکوۃ المصابیح:۲؍) اسی طرح ضرورت کی بنا پر فقہ اسلامی کا مشہور قائدہ الضرورات تبیح المحظورات کے پیشِ نظر اگرکوئی عالم دین جواز کا فتوی بھی دیتا ہے تووہ صرف محدود، انفرادی ضبط ولادت کی نوعیت ہوگی ۔ 
فیملی پلاننگ کے نقصانات
توالدوتناسل کامعاملہ چوں کہ براہ راست انسان کے جسم اور نفس سے تعلق رکھتا ہے ، اس لیے ہمیں ضبط ولادت کے اثرات جو نفس او رجسم پر مرتب ہوتے ہیں اس کی تحقیق کرنی چاہئے، نرومادہ دوالگ الگ صنفیں بنانے سے فطرت کا اصل مقصد ہی توالد وتناسل او ر بقاے نوع انسانی ہے اورعارضی طو رپر منع حمل سے جواثرات جسم ونفس پر مرتب ہوتے ہیں ، اس کا اندازہ ڈاکٹر میری شارلیپ کے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ’’ ضبط ولا دت کے طریقہ خواہ فرج سے ہوں یاجراثیم کش دوائیں یاربرکی ٹوپیاں اور لفافے (کنڈوم) یادوسرے طریقے، بہر حال ان کے استعمال سے کوئی فوری نمایاں نقصان تونہیں ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ تک ان کو استعمال کرتے رہنے کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادھیڑعمر تک پہنچتے پہنچتے عورت میں عصبی ناہمواری پیدا ہوجاتی ہے ، پزمردگی ، شگفتگی کافقدان، افسردہ دلی ، طبیعت کا چڑچڑا پن او راستعمال پزیری غمگین خیالات کا ہجوم ، بے خوابی ، دل ودماغ کی کمزوری ، دوران خون کی کمی، ہاتھ پاؤں کا سن ہوجانا ، ایام ماہ واری (حیض) کی بے قیدگی ، یہ ان طریقوں کے لازمی اثرات ہیں (اسلام اور ضبط ولادت، مولانا سید ابو الأعلی مودودی،ص: ۶۷) اسی طرح اسقاط حمل، عورت کی صحت او راس کے نظام اعصاب کے لیے مہلک ہے ، ڈاکٹر فریڈرک ڈاسک نے کہا جب حمل کو اس کی تکمیل سے پہلے ہی خارج کردیا جاتا ہے جسے اصطلاح میں اسقاط حمل کہا جاتا ہے تو نسل انسانی کو تین طرح کے نقصانات برادشت کرنے پڑتے ہیں ، پہلا: انسانوں کی ایک نامعلوم تعداد کو دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ہلاک کردیا جاتا ہے ، دوسرا : اسقاط حمل کے ساتھ ساتھ ماؤں کی بڑی تعداد لقمہ اجل ہوجاتی ہے ، تیسرا: اسقاط حمل کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں ایسے مریضانہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، جو آئندہ تولید کے امکانات کوبری طرح مجروح کردیتے ہیں (اسلام اور ضبط ولادت، مولانا سید ابو الأعلی مودودی،ص: ۷۱) اسی طرح گولیوں او رانجکشنوں کے ذریعہ عارضی منع حمل کرنے سے صحت پر منفی اثرات بھی پڑتے ہیں (جن کو سائڈ ایفکٹ کہا جا تا ہے ) اس طرح عورت کو اللہ کے خوف کے علاوہ دوچیزیں اخلاق کے بلند معیار پر قائم رکھتی ہیں، ایک: فطری حیا ، دوسری ،یہ خوف کہ حرامی بچہ کی پیدائش ان کو معاشرہ میں ذلیل کردے گی، پہلی چیز تو جدید تہذیب ، رقص ، نائٹ کلب، شراب نوشی ، محفلوں میں مردوں کے ساتھ آزادانہ شرکت نے بڑی حد تک دورکردی ہے ۔ رہاحرامی اولاد کی پیدائش کا خوف توضبط ولادت سے یہ بھی ختم ہوجاتا ہے ،جس کی وجہ سے معاشرہ میں زنا او رامراض خبیثہ کی کثرت ہوگئی۔ فیملی پلاننگ عقیدہ کے اعتبار سے توغلط ہے ہی بلکہ طبعی، جسمانی اور سائنسی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے ، اور یہ معاشرہ اوراخلاق پر بھی برا اثر ڈالتا ہے۔ اس تحریک کے رواج سے عام نسلوں او رقوموں کوبحیثیت مجموعی نسلی وقومی نقصان ہوتا ہے، لیکن ضرورت کی بنا پر فیملی پلاننگ کیاجاسکتا ہے ۔ یعنی اگر حمل قرار پانے سے ماں کے لیے کوئی خطرہ ہو اور ڈاکٹر انہیں ضبط ولادت کا مشورہ دے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتو فیملی پلاننگ کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق دے (آمین )
0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

پلاسٹک سرجری اور اسلام

admin

انشورنس کی شرعی حیثیت

admin

سود کی مذمتیں

admin

Leave a Comment