بیٹی : دخول جنت کا سبب -
متفرقات

بیٹی : دخول جنت کا سبب

Read Time0Seconds
صادق تیمی 

بلا شبہ مذہب اسلام وہ مذہب ہے جو پوری دنیا میں ادیان ومذاہب میں سب سے اعلی وارفع ہے،جس میں زندگی کے تمام شعبہ ہائے محیط و شامل ہے ،یہ وہ مذہب ہے جسے اللہ کے نزدیک سب سے اچھا ہونے کا فخر حاصل ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا’’إن الدین عنداللہ الاسلام،، (ال عمران:۱۹ )اس نے جہاں مردوں کو ان کے تمام حقوق و سہولیات دے کر ایک اچھے شہری و اصول پسند بنایا ہے وہیں پر حوا کی بیٹیوں کو بھی ان کے جائز حقوق اور مطالبات عطاکیے ہیں ،عورتوں کو’’ دنیا کی قیمتی شی قرار دیتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ الدنیا کلھا متاع و خیر متاعہا المرأۃ الصالحۃ،، (رواہ مسلم )لیکن اسلام سے قبل عورتوں کی ایسی حالتیں تھیں جنہیں بیان کرنے سے زبانیں شل ہوجاتیں ہیں ،آنکھیں اشکبارہوجاتی ہیں اتنے ناروا سلوک کیا جاتا تھا وہ سلوک کسی جانور کے ساتھ بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
یونانی و رومی تہذیب میں عورتیں سواے طوافہ کی حیثیت نہ تھی ہند ومت میں عورتوں کو برائیوں و گناہوں کا منبع قرار دیا گیا ،مزید یہ بتایا گیا کہ عورتیں ہی سرتاپا فریب ہیں ان کے ذہن میں ہمیشہ برے خیالات رہتے ہیں ۔اسی طرح یہودیت میں عورتوں کو محض ایک لونڈی یا کنیز کی سی حیثیت دی گئی ،زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو بس جنسی خواہشات کی تکمیل ہی کا ذریعہ سمجھا گیا ۔ لیکن جب اسلام آیا تو اسے مردوں کے برابر حقوق،مقام و مرتبہ دیا گیا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’’یایھاالناس اتقواربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ،،( النساء:۱)یعنی مردو عورت کو ایک ہی درجہ میں رکھا گیا ہے اسی طرح اللہ تعالی نے مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی حق و ملکیت سے سرفراز کیا ہے جیسا کہ سورہ نساء آیت نمبر ۷ کے اندر اللہ تعالی نے فرمایا کہ’’ للرجال نصیب مما ترک الوالدان و للنساء نصیب مما ترک الوالدان ،،یعنی مرد کے لیے جتنا حصہ مقرر کیے ہیں اتنا ہی عورتوں کے لیے بھی ،اور نبی ﷺ نے’’أحق الناس بحسن صحابتی ،،کے جواب میں ماں کو بتاکر عورت کی قدرومنزلت کو ایک فرلانگ بلند کیا ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے گھر میں پیدا ہونے والی ہر بیٹی باعث رحمت اور سبب برکت ہے بلکہ بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کی پرورش و پرداخت احسن طریقے سے کرنے میں جنت کا جاں فزاں پیغام بھی سنایا گیا ہے کہ’’ من کان لہ ثلاث بنات فاحسن صحبتھن واتقی اللہ دخل الجنۃ(سنن ترمزی 1916۔وقال ہذا حدیث غریب) کہ جن کے پاس تین بیٹیاں ہوں اور وہ اس کی صحیح پرورش وپرداخت کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ بیٹی کی پرورش و پرداخت سے جنت میں داخلہ مل سکتا ہے تو اس سے بڑی کامیابی کیا ہو سکتی ہے کہ بیٹی گھر میں آئے اور اس کا سامان زینت بنے ؟ دنیا کیکامیابی کوئی کامیابی نہیں ہوتی ہے بلکہ مومن و مسلمان کی اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ۔بلکہ جنہیں اللہ نے بیٹیوں سے نوازہ ہے اور وہ اس کی احسن تربیت کرتا ہے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم کی آڑ بن جائیں گی جیساکہ حدیث رسول ملاحظہ ہو ’’من ابتلی من ھذہ البنات بشئی فاٗحسن الیھن کُن لہ سترا من النار،،( ترمذی1916؛ ھذا حدیث حسن ) مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ معلوم ہوا کہ بیٹیاں زحمت نہیں ،بلکہ ہمارے لیے رحمت ہیں وہ تو گھر کی نور اور دل کی سرور بھی ہوتی ہیں جن گھروں کو اللہ بیٹی سے محروم رکھا ہے ان سے جاکر دریافت کیجئے کہ گھر کی رونق کیا ہوتی ہے؟

لیکن افسوس صد افسوس !!ہمارے معاشرے میں حوا کی بیٹی کی پیدائش ہی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ طبی ٹیسٹ کے بعد پیٹ میں بیٹی ہو تو اسے دوا کے ذریعہ سے گرا دی جاتی ہے۔ رونا دھونا اور چہرے میں افسردگی پھیل جاتی ہے ۔یہ تو وہی طریقہ ہے جس پر اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں لوگ تھے کہ جب انہیں بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تھی تو اس کے چہرے سیاہ ہوجاتے جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہیکہ ’’واذا بُشرأحدھم بالاُنثی ظل وجھہ مسوداً وھو کظیم ،،(سورہ النحل 58;)
آج انہیں زحمت تصور کرکے قتل کردیتے ہیں ،کھلانے و پلانے کے خوف سے ان کا صفایا پہلے ہی کردیتے ہیں ،جبکہ اللہ نے رزق کے ڈر سے قتل کرنے کو حرام قرار دیا ہے’’ ولا تقتلوا اولادکم من خشیہ املاق ،،(اسراء :۳۱) یعنی تم رزق اور کھلانے پلانے کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔رزق کا مالک تو اللہ ہے ۔ مسلمانو ں کی یہ شان نہیں ہونی چاہیے کہ بیٹی کو بوجھ سمجھ کر گھر سے نکال باہر کردیں یہ منافقوں کی علامت ہے ۔بیٹیاں ہونا تو خوش قسمتی کی بات ہے ہر ایک کو کہاں نصیب ہوتی ہے بیٹی! یہ تو اللہ کی رحمت ہے اور ہم بھی اسے رحمت سمجھیں۔یہیں بیٹیاں جب کسی کے عقد میں بندھ جاتی ہیں تو اس کے شوہر کو ان کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنے کی تاکید کی گئی ہے ارشاد باری ہے’’ وعاشروھن بالمعروف،،کہ ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو ،اسی طرح رسول اکرم ﷺنے بھی فرمایا کہ’’ استوصوابالنساء خیرا فانھن عندکم عوان‘‘کہ عورتوں کے ساتھ اچھائی کا برتاو کرو اس لیے کہ وہ تمہاری عزت و آبرو کی محافظ ہیں ۔ ،،(رواہ ابن ماجہ: ۱۸۱۵)
اس سلسلے میں ہندستانی حکومت قابل تعریف اور لائق ستائش ہے کہ اس نے 2015ء میں’’بیٹی بچاوٗ بیٹی پڑھاوٗ ،، کی تحریک چلائی اوریہ اعتراف کیا کہ واقعی گھر میں خوشی آتی ہے تو اس میں بیٹی کا بڑا کردار رہتا ہے۔اسلام نے اس چیز کو پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ بیٹی اللہ کی رحمت ہے ،بیوی بنتی ہے تو شریک حیات ہوتی ہے ،ماں بنتی ہے تو ہمارے قدموں کے نیچے جنت لا دیتی ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ فإِن الجنۃ عندرجلھا،،کہ جنت ماں کے نیچے ہے (رواہ ابن ماجہ828: ؛علامہ البانی نے حسن کہا ہے )
بحیثیت مجموعی یہ بات سمجھ میں آئی کہ بیٹی یہ اللہ کی رحمت ہے بلکہ یہی ہمارے دل کے سکون اور جگر گوشہ ہے اس وجہ سے ہم اللہ کے طریقے اور نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل کرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور انہیں سماج میں ایک وقار دے کر ہر اعتبار سے ان کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔ اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق دے
( آمین)

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

سماجی امن کے قیام میں نکاح کا کردار

admin

حج : ایک عظیم عبادت

admin

اساتذہ کی ذمہ داریاں

admin

Leave a Comment