چندریان -2 میں بھارت کی کامیابی -
تحقیقات

چندریان -2 میں بھارت کی کامیابی

Read Time3Seconds

محمد فیروز عالم ندوی 

گزشتہ 20جولائی2019 ء کو پوری دنیا نے اس دن اور اس لمحے کی پچاسویں سال گرہ منائی،جس دن اور جس لمحے میں انسانیت کا وہ خواب پورا ہوا جو وہ اس زمین کو اپنے رہائش گاہ بنانے کے دن سے دیکھ رہی تھی۔اس سپنوں کو شاہ کار کرنے میں اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اس نے جد و جہد کی اور اپنے تجسس و ذوق کی ایک تاریخ رقم کر دی تھی،ایسی تاریخ جو رہتی دنیا تک نہ مٹے گی اور نہ زنگ آلود ہوگی۔20جولائی 1969کو یعنی آج سے پچاس سال پہلے جب نیل آرم اسٹرانگ اور بز آلڈرن نے چاند کی زمین پر قدم رکھا تو وہ واقعی انسانیت کی لمبی چھلانگ تھی،اگر چہ نیل آرم اسٹرانگ کی مانیں تو انسان کا ایک چھوٹا قدم تھا جو اس نے اپنی زمین سے باہر رکھا تھا:”That is one small state for man ‘one giant leap for mankind،،
انسانیت کی اس حصولیابی کی قربانی گاہ پر اچھا خاصاوقت صرف ہوا،کئی عظیم سائنس دانوں کی جانیں گئیں اور100 بلین امریکی ڈالر صرفہ آیا اور ناسا (NASA)نے چاند پر انسانی مشن بھیجنا بند کر دیا لیکن اس وقت تک چاند کے بارے میں وہ سب کچھ معلوم ہو گیا تھا جو انسان بہت عرصے سے جاننے کا خواہش مند تھا۔ایسے بھی چاندسے ہماری زمین کا اور خود انسان کا بڑا قریبی اور گہرا رشتہ ازل سے رہا ہے۔چاند ہمیں چاندنی دیتا ہے،وقت بتاتا ہے،موسم کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے اور سمندروں میں جوار بھاٹے کا جو کھیل مسلسل چلتا رہتا ہے،اس کے پیچھے بھی چاند ہی کے حسن کی زر نگاری ہے۔ہماری شاعری خواہ اردو شاعری ہو،عربی شاعری ہو یا پھر ہندی شاعری،چاند اور چاندی کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔بہر کیف!چاند پر انسانی قدم پڑنے سے ایک بات بالکل واضح ہوگئی کہ چاند چاہے کچھ بھی ہے مگر دیوتا نہیں ہے اور نہ ہی وہ بذات خود ایسے اثرات اپنے اندر رکھتا ہے جو انسانوں کو بھی اثر پذیر کر سکیں بلکہ وہ سچائی ثابت ہوئی جو پیغمبر رحمت ﷺ کی زبانی چودہ سو سال زائد مدت پہلے دنیا والوں نے سنی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا تھا: سورج او رچاند اللہ تعالی کی (بے شمار)نشانیوں میں دو نشانیاں ہیں۔ان میں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے،نہ کسی کے جینے سے،تم جب یہ گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو اور نماز پڑھو جب تک گرہن چھوٹ جاے،،(صحیح بخاری: 1060)
اب تک چاند کی زمین پر کل بارہ افراد نے چہل قدمی کا شرف حاصل کیا۔پہلا قدم نیل آرم اسٹرانگ نے او رآخری قدم جین سرتین نے 1972میں چاند پر رکھا تھا۔یہ تمام بارہ افراد امریکی تھے۔1972کے بعد چاند سے انسانیت کی دلچسپی تقریبا ختم ہوگئی تھی لیکن ایک بار پھر چاند کو چھونے اور اس کی زمین پر قبضہ کرنے کی ہوڑ سی لگی ہوئی ہے او راگر سب کچھ منصوبے کے مطابق انجام پذیر ہوتا رہا تو سال رواں 2019 ء انسان کے چاند پر قدم رنجا ہونے کا دوبارہ شاہد اور گواہ بنے گا۔چاند تک رسائی حاصل کرنے والوں ملکو ں میں ہمارا ملک محبوب ہندستان بھی ایک ہے۔زمین سے تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو کیلو میٹر دور،اپنے اور زمین کے مدار میں گردش کرنے اولی چاند سے ہمارے ملک کی دلچسپی کچھ سائنٹفک ہے اور کچھ دیومالائی بھی۔ ہمارے برادران وطن نے چاند کی حیثیت ایک دیوتا کی بھی ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔علم نجوم میں بھی چاند کی اپنی ایک الگ حیثیت ہے۔حالانکہ چاند پر انسانی قدم پڑنے سے ان اوہام و خرافات کی قلعی پوری طرح سے کھل گئی اور بہت سے ایسے حقائق سامنے آے ہیں جن سے ثابت ہوا کہ وہ بھی نظام شمسی کا ایک ممبرمحض ہے۔وہ اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ کسی انسانی زندگی پر اثر انداز ہو بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ اس کی جو میٹھی میٹھی چاندی ہے،وہ بھی اس کی اپنی نہیں بلکہ اس کی زمین کی سورج سے پوشیدہ عکس ریزی ہے اور بس۔قرآن کریم میں اس حقیقت کی طرف بڑا ہی لطیف اشارہ سورہ یونس آیت نمبر 5 میں آیا ہے جس کا مطالعہ معرفت حق کے متلاشیوں کے لیے چشم کشا اور عبرت افروز ہے۔
22جولائی2019ء کا دن ہم ہندستانیوں کے لیے بے حد دلکش اور دلچسپ دن اس لیے رہا کیوں کہ اسی دن ہندستان کی فضائی تحقیقاتی ادارہ اسرو نے چندریان۔2کو چاند کی زمین پر اتارنے کے لیے داغ دیا اور امید ہے کہ چندریان۔2کا لینڈر روور سات ستمبر 2019 کو چاند کے دکھنی قطب میں اتر جاے گا او روہا ں زندگی کے امکا نات کی رمق تلاش کرے گا۔چاند کا جنوبی قطب،وہ حصہ ہے جہاں اب تک کسی بھی ملک کی کوئی مشین نہیں پہنچ سکی۔ادارہ ”الفیصل،،کے تمام ارکان کی طرف سے اسرو کے تمام کارکنان کو دل کی گہرائیوں سے ڈھیروں مبارک بادیاں! ہم اس ملک کے سچے اور وفا دار شہری ہیں اور اس کی ہر کامیابی اور حصولیابی پر خوش ہونا اور نیک دعائیں دینا فطری امر ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ ہمارا ملک اس سمت میں ترقیاں درج کراے،تاہم،چوں کہ ہم اس ملک کے حساس شہری بھی ہیں،اس لیے اپنے ملک کی زمینی خیر و فلاح کے بارے میں سوچنااور ہر ممکن کردار ادا کرنا بھی ہم اپنے فرض منصبی سمجھتے ہیں۔فضا کی تسخیر،خلا کی وسعتوں کی پیمائش اور ستاروں پر کمندیں ڈالنا بھی ضروری ہے لیکن ان سب سے ضروری ہے ملک واسیوں کی ضروریات کو پورا کرنا،ملک کے عوام کی خیر و فلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا او راس سلسلے ہر وہ اقدام کرنا جو لازمی و ضروری ہے۔جب ہم اپنے ملک کی معاشی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک غربت کی فہرست میں ۳۰۱ ویں نمبر پر ہے،تعلیمی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ۷۷ ویں نمبر ہے،کرپشن کے معاملے میں بھی ہمارے ملک کو ۳۷ واں درجہ حاصل ہے،میڈیکل میدان میں بھی ہمارا ملک کا دنیا میں ۵۴۱ واں نمبر ہے جب کہ مسرت و شادمانی کے معاملے میں ہم ۳۳۱ ویں درجے پر ہیں۔
ہمیں کہنا یہ ہے کہ ہندستان کی فضائی اور خلائی ترقیات اپنی جگہ پر اپنی قیمت اور وزن رکھتی ہیں مگر مذہبی سطح پر ترقیات پر بھی ہمیں اپنی توجہ مبذول کرنا ہوگی،ورنہ فضائی و خلائی ترقیات بے معنی ہو کر رہ جائیں گی او رہم دنیا والو ں کے سر اٹھا کر جینے کے لائق نہیں رہیں گے۔اللہ کرے،ارباب اقتدار کے ذہن و دماغ میں بھی یہ سوچ اور فکر و خیال پیدا ہو اور وہ اس سمت میں بھی بھر پور توجہ دے کر ہمارے ملک عزیز کو امن و شانتی اور خوش حالی میں وہی درجہ اور امتیازی مقام دلائیں جو کبھی صرف ہمارے ملک کا خاصہ اور وصف امتیازی ہوا کرتا تھا۔

0 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Related posts

تحقیق کے عملی مراحل

admin

مخطوطات کی جمع و ترتیب کے طریقے

admin

علمی کتب کی تحقیق کے اصول وضوابط

admin

Leave a Comment