مختلف زبانوں میں عبور کیسے حاصل کریں ؟ -
زبان و ادب

مختلف زبانوں میں عبور کیسے حاصل کریں ؟

Read Time39Seconds

محمد ابراہیم سجاد تیمی 

آپ سبھوں کو یہ معلوم ہے کہ ہماری اس حسین و خوب صورت زمین،جس میں انسان کے علاوہ30ہزار سے زائد مخلوقات بو د و باش کرتی ہیں،کا کل رقبہ 57308738 اسکو ائر میل ہے جس کے ۳۳فیصد حصے میں جنگلات اور24 فی صد حصے میں پہاڑی سلسلوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔اگرا ن 57 فیصد حصے کو وضع کر لیا جاے تو بودو باش کرنے کا زمینی رقبہ12462757 اسکوائر میل بچتا ہے۔آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری یہ زمین سات براعظموں:ایشیا،افریقہ،یوروپ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،آسٹریلیایا اوشیانا اور انٹارکٹکا میں منقسم ہے اور ان براعظموں میں 195 ایسے ممالک ہیں جو اقوام متحدہ کے ارکان ہیں۔ان میں دو ممالک The holy see اور Palestinc ایسے ہیں جن کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل نہں ہے۔مزید براں تائیوان کو چین کا ماتحت ملک سمجھا جاتا ہے اور The cook Islands اور Niue کا نیوزی لینڈ کے ساتھ آزادانہ الحاق ہے۔اس طرح آزاددنیا کے ملکوں کی تعداد 198ہوتی ہے اور اگر اس فہرست میں تمام ماتحت ملکوں کو بھی شامل کر لیا جاے تو ان کی کل تعداد ۳۳۲ تک جا پہنچتی ہے،ان 195مستقل ملکوں میں سے 54 افریقہ میں،58ایشیا میں،44 یورپ میں،لاطینی امریکہ اور کیریبین میں 33،اوشیانا یا آسٹریلیا میں 14اور شمالی امریکہ میں ۲ ممالک ہیں۔
٭دنیا کی کل آبادی: ان تمام ملکوں میں اقوام متحدہ کے حالیہ ترین تخمینے اور اعداد و شمار کے مطابق جون 2019ء کے اختتام تک،دنیا کی کل آبادی سات اکہتر کروڑ 55 لاکھ43 ہزار850 تھی اور پوری دنیا کی یہ آبادی کم و بیش سات ہزار (7000)زبانیں اور بولیاں بولتی ہیں۔ان میں سے دو ہزار زبانیں اور بولیاں ایسی ہیں جن کو ایک ہزار سے بھی کم افراد بولتے ہیں۔ان تمام زبانوں میں چینی زبان دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے جس کو ایک ارب بیس کروڑ افراد بولتے ہیں،دوسرے نمبر پر انگریزی زبان ہے جس کو 983 افراد بولتے ہیں،تیسرے نمبر پر ہندوستانی زبان آتی ہے جس کو بولنے والوں کی تعداد544 ملین ہے،چوتھے نمبر پر اسپینی زبان آتی ہے جسے دنیا کے527ملین لوگ بولتے ہیں،پانچواں نمبر عربی زبان کو حاصل ہے جسے بولنے والوں کی تعداد422 ملین ہے،چھٹے نمبر پر مالے زبان آتی ہے جسے دنیا کے 281ملین افراد بولتے ہیں،رشین زبان کو ساتواں مقام حاصل ہے اور اسے 267 ملین لوگ بولتے ہیں،بنگلہ زبان دنیا کی آٹھویں سب سے بڑی زبا ن ہے جسے261ملین افراد بولتے ہیں،نواں نمبر پر پرتگالی زبان کو حاصل ہے جسے 229 ملین افراد بولتے ہیں اور دنیا کی دسویں سب سے بڑی زبان ہے فرنچ جسے بولنے والوں کی تعداد بھی 229 ملین ہے۔
٭ بولی اور زبان کا خالق و موجد: زبان اوربولی کا خالق و موجد کون ہے؟ اس سلسلے میں ماہرین لسانیات دو گروہوں میں منقسم ہیں:ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ انسان ساختہ ہے یعنی ہر قوم نے مخصوص مدلولات کے لیے،مخصوص الفاظ اپنے تئیں وضع کر لیے ہیں جب کہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ زبانوں اور بولیوں کا وجود خدا ساختہ ہے یعنی اللہ تعالی نے ہرقوم کو اس کی زبان،بولی،لہجہ اور طرز و ادا بذریعہ الہام سکھایا ہے۔یہ گروہ اس ضمن میں کئی دلائل پیش کرتا ہے،ایک دلیل سورۃ البقرہ کی آیت نمبر۔۱۳ ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”و علم آدم الأسما ء کلہا،کہ اس نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے،،یعنی آدم علیہ السلام کو ان کے زمانے سے لے کر قیامت جتنی زبانیں اور بولیاں وجود پذیر ہونے والی ہیں سب سکھاد ی تھیں۔معلوم ہوا کہ تمام زبانوں کا خالق و موجد اللہ تعالی ہے۔
دوسری دلیل سورۃ الروم کی آیت نمبر ۲۲ ہے ارشاد باری تعالی ہے ”و من آیاتہ خلق السموات و الأرض و اختلاف ألسنتکم و ألوانکم،ان فی ذلک لآیات للعالمین،اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بھی ہے،،اس آیت کریمہ میں ا س بات کی واضح دلیل ہے کہ زبان کا خالق و موجد اللہ تعالی ہے،مدلول اس میں یہ ہے کہ زبانوں اور رنگتوں کے اختلاف کو بھی تخلیق ارض و سما کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ نطق و تکلم بھی محض اللہ تعالی سکھاتا ہے۔
دنیا کا سارا کاروبار بولی اور زبان سے چلتا ہے۔ہزاروں زبانیں اور بولیاں اللہ تعالی کی عظیم ترین نشانیوں اور انسان کے ڈھیر وں امتیازات میں سے ایک ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ صرف انسان بولتا ہے،شجر بھی،چوپاے بھی بلکہ مچھلیاں بھی بولتی ہیں لیکن جس انداز اورجس ادا کے ساتھ انسان بولتا ہے وہ طرز و ادا اور انداز دلبرانہ کسی مخلوق کو میسر نہیں۔اسٹیفن ہاکنگ کی مانیں تو زمین سے اربوں کھربوں میل کی دوری پر بے پناہ خلا میں تیرتے سیاروں میں انسان سے بھی زیادہ طاقتور اورترقی یافتہ مخلوقات آباد ہیں اور انسان کا ان سے رابطہ نہ ہو تو اچھا ہے،تو ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ان کی زبانیں اور بولیاں بھی ہوں گی اور ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہوں گی۔کچھ سال پہلے درخت پر تحقیقات پر مشتمل ایک بہت ہی مزیدار کتاب ”The hidden life of trees،، آئی تھی جو بہت جلد بیسٹ سیلر بن گئی تھی اور صرف ایک سال کے اندر دو ملکوں،فرانس اور جرمنی،میں اس کے دس لاکھ نسخے فروخت ہوگئے تھے۔
پیٹر ہول بین کی اس کتاب میں ایک باب ہے: The language of trees،، اس باب کا پہلا پیراگراف پڑھیے تو آپ کو معلوم ہو جاے گا کہ درخت بھی بولتے ہیں: According to the dictionary defination,language is what people use when we talk to each othar.looked at this way,we are the only beings who can use language,because the concept is limited to our species.But would not it be interesting to know whether trees can also talk to each othar?But how?They definitely dont produce sounds,so there is nothing we can here.Branches creak as the rub against one another and leaves rustle,but these sounds are caused by the wind and the trees has no control over them.Trees,it turns out,have a completelty different way communicating ; they use scent،،
چلیے مان لیا کہ ان کی زبان بو ہے لیکن آخر ہے نا؟ قرآن مجید کی کئی سورتوں میں اور کئی جگہوں پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر شی رب کائنات کی ثنا خوانی کرتی ہے اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”تسبح لہ السماوات السبع و الأرض ومن فیہن و إن من شئی الا یسبح بحمدہ و لکن لا تفقہون تسبیحہم إنہ کان حلیفا غفورا،،(الاسراء: ۴۴)اس آیت اور اس جیسی دوسری ہم معنی آیات کو سمجھنے میں تو ہمیں مدد مل ہی رہی ہے نا؟ میں تو کہتا ہوں کہ مذکورہ بالا کتاب قرآن مجید کی درج ذیل آیت کریمہ مندرج مژ دہ ربانی کا ایک چھوٹاساپرتو تو ہے ہی۔تحقیقات و تجزیات کا انسانی دائرہ جیسے جیسے وسیع ہوتا جاے گا ویسے ویسے یہ قرآنی صداقتوں کی قائل ہوتی جاے گی ”سنریہم آیا تنا فی الآفاق و فی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق أولم یکف بربک أنہ علی کل شئی شہید،،(الفصلت: ۳۵)
کچھ ہی مہینوں پہلے پیٹر ہول بین کی ایک او رکتاب آئی ہے جس کا نام ہے ”The inner life of animals،، اس کتاب میں انہوں نے بری اور آبی جانوروں کے بارے میں بہت سے حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ کچھ سال پہلے تک انسان یہی سوچتا و سمجھتا رہا کہ حیوانوں میں دما غ نہیں ہوتا،ذہانت نہیں ہوتی،ان کی کوئی زبان اور بولی نہیں ہوتی اور نہ وہ شعور سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔مگر جدید سائنس اکتشافات اس کے بر عکس بالکل عندیہ د ے رہی ہے مثلا ایک کتا سینکڑوں الفاظ یاد کر سکتا ہے،ایک ایسا کتا فی الحال دنیا موجود ہی ہے جسے ایک ہزار (1000)الفاظ یاد ہیں اور وہ ان کے معانی بھی سمجھتا ہے۔بندر اشارتی زبان سیکھ سکتا ہے اور اس میں آنے والی تبدیلیوں کو بھی سمجھ سکتا ہے۔
اس سے بھی حیرت فزا امر یہ ہے کہ انسانی دنیا کی سب سے عظیم مخلوق وہیل مچھلی باضابطہ بہت پیچیدہ گیت گاتی ہے اوروہ بھی کورس یعنی کئی وہیل مچھلیاں ایک ساتھ ایک گروپ میں گاتی ہے اور دوسرا گروپ اس کہ جواب میں گاتا ہے یعنی وہ گیت گائیکی کا مقابلہ کرتی ہیں ۔کیا یہ ان کا ایک عظیم ثقافتی منظر نامہ نہیں ہے؟ ربنا ما خلقت ہذا باطلا ً سبحانک فقنا عذاب النار،،(آل عمران: ۰۹۱)لہذا قرآن جب کہتا ہے کہ حیوانات بھی تم انسانوں کی طرح اقوام وملل ہیں تو ہمیں تعجب نہیں ہوتا بلکہ ہمارے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
لیکن آج کا نہایت افسوس ناک معاملہ یہ ہے کہ دنیا کی بہت ساری زبانیں اور بولیا ں فنا کے گھاٹ اتر رہی ہیں۔پیروں میں امیزن گھاٹی کی توشیروزبان بولنے والا صرف ایک انسا ن زندہ ہے اور بس اس کے مرنے کی دیر ہے،اس کے مرتے ہی توشرو زبان زیر زمین دفن ہو جاے گی۔

اسی علاقے کی ریزی گاروں زبان بھی اسی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔گزشتہ دو صدیوں کے دوران جن علاقو ں میں بھی انگریزی زبان نے اپنے پاوں پھیلاے،ان کی مقامی زبانوں کا صفایا ہوگیا۔دو صدیوں کے دوران آسٹریلیا کی سو مقامی و علاقائی زبانیں فنا ہوگئیں۔ہمارے ملک عزیز میں بھی یہی کہانی لکھی جا ر ہی ہے۔1961کی مردم شماری میں 1652زبانیں تھیں جو1971کی مردم شماری گھٹ کر 808 رہ گئیں۔سال2013کی ہندستانی زبانوں کا جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پچاس سالوں میں 220سے زیادہ علاقائی زبانیں ختم ہو گئیں جب کہ 197زبانیں بہت جلد ختم ہو جانے والی ہے۔ابھی حال ہی میں حکومت نے کہا کہ زبان وہ ہے جس کا اپنا ایک رسم الخط ہو،یہ کہہ کر اس نے بہت سی بولیوں کے خاتمے کی راہ کھول دی ہے۔
٭ زبان سیکھنے کی عمر: امریکہ کی ایک تنظیم جو زبانوں اور بولیوں کی تعلیم و تعلم پر تحقیقات کرتی ہے کا خیال ہے کہ مادری زبان کے علاوہ دوسری اجنبی زبان سیکھنے کی عمر دس سال ہے۔اس نے مختلف ملکوں اور قوموں کے670000افراد پر گرامر کوئز کے ذریعہ ریسرچ کی اور نتیجہ نکالا کہ10 سے18 سال کی عمر اجنبی زبانیں سیکھنے کی صحیح ترین عمر ہے۔18سال کے بعد بھی انسان دوسری زبانیں سیکھ سکتا ہے لیکن اسے اس میں زیادہ مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دراصل بچوں کی زبان میں لچک ہوتی ہے اور وہ کسی زبان کے تلفظات کو اہل زبان کی طرح بولنے کی صلاحیت و مہارت آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں مگر18 سال کے بعد ایسا کرپانا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔تاہم اس حساب سے بھی ہندستانی طلبہ و طالبات ۸۱ سال کے ہونے تک عربی و انگریزی زبانوں میں خوب مہارت حاصل کر سکتے ہیں کیوں کے10 سال کے ہونے کے بعد بھی ان کے پاس 8 سال کا لمباعرصہ رہتا ہے اور دو سال کسی ایک زبان سیکھنے کے لیے کافی مدت ہے۔ر
ہی بات اردو اور ہندی کی تو وہ ان کی مادری زبانیں ہیں۔اردو تو خیر اہل مدارس کا ذریعہ تعلیم ہے اور ہندی دنیا کی آسان ترین زبانوں میں سے ایک ہے اس میں اس قدر clority ہے کہ کسی بھی دوسری زبان میں وہ clority نہیں پائی جاتی خصوصا اردو اس تناظر میں ہندی سے بہت سے زیادہ مشکل ہے مثلا ایک لفظ ہے ”کتاب،،اگر اردو میں اسے کُتّاب،،بھی پڑھ دیا جاے تو لفظی غلطی تو نہیں ہوگی مگر معنی کچھ سے کچھ ہو جاے گا جو سیاق و سباق سے بالکل الگ تھلگ ہو جاے مگر ہندی میں اگر ”کتاب،،لکھ دیا جاے تو کسی کی مجال نہیں کہ اسے کتاب کے علاوہ کچھ اور پڑھ دے۔یہ ہندی کی ایسی املائی خصوصیت ہے جو اس کے علاوہ کسی دوسری زبان کو حاصل نہیں ہے۔
٭ مدارس کے طلبہ و طالبات کتنی زبانیں سیکھیں: میرا خیال ہے کہ مدارس کے طلبہ و طالبات کے لیے کم از کم چار زبانیں: عربی،ہندی،انگریزی اور اردو سیکھنا ضروری اور بعض حالات میں لازم ہے۔عربی اس لیے کہ وہ ان کی دینی زبان ہے،ہندی اس لیے کہ وہ ہماری قومی زبان ہے اور 85کروڑ برادران وطن کی زبان ہے۔ٹائمس آف انڈیا کے ایک سروے کے مطابق ہندستان میں 56فیصد لوگ ہندی16 فیصد لوگ انگریزی،تین فیصد افراد اردو اور 25فیصد مقامی زبانوں کے اخبارات پڑھتے ہیں۔اس حیثیت سے ہندی چوں کہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی ترسیلی زبان ہے،اس لیے مدارس کے طلبہ کے ہندی سیکھنا بے حد ضروری اور اہم ہے۔انگریزی اس لیے کے وہ رابطہ عامہ کی عالمی زبان ہے اور اردو اس لیے کے وہ مدارس کا ذریعہ تعلیم و تعلم ہے۔نیز اس زبان میں ہمارا بہت بڑا دینی و تہذیبی ورثہ محفوظ ہے۔یہاں پر ان چاروں زبانو ں کی حیثیت و فضل کو جان لینا مناسب ہوگا۔بات عربی زبان سے شروع ہو رہی ہے۔
٭ عربی زبان کی امتیازی خصو صیات:دنیا کی ہزار وں زبانو ں میں ایک امتیا ز صرف عربی زبان کو حاصل ہے کہ اسے دنیا کے ایک ارب چالیس کروڑ افراد اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں لازما سنتے اور پڑھتے ہیں کیوں کہ یہ اسلا م کی سرکاری زبان ہے،اس کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ یہ بین اقوامی زبان ہے۔اقوام متحدہ کی چھ منظور شدہ زبانوں میں سے ایک ہے۔23عرب ممالک کی سرکاری زبان ہونے کے علاوہ کئی ممالک کی دوسری سرکاری زبان بھی ہے اور دینی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو دنیا کی کوئی بھی دوسری زبان اس کی فضیلت کی برابری کرنا تو دور اس کے گرد پا کو بھی چھو نہیں سکتی کہ یہ قرآن کی زبان ہے۔رسول اسلام ﷺ کی زبان ہے،سنت کی زبان ہے،اسلامی فقہ و تاریخ و سیرت کی زبان ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ لافانی زبان ہے۔دنیا کی سینکڑوں زبانیں مٹ چکی ہیں سینکرڑوں مٹنے کے قریب ہے اور آنے والے سو سالوں کے دوران ماہرین لسانیات کے مطابق ۵۲۹ زبانیں مٹ جاے گی  –
جاری…….
1 0
0 %
Happy
0 %
Sad
0 %
Excited
0 %
Angry
0 %
Surprise

Leave a Comment